اسلام آباد (مشرق نامہ) – پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما میاں جاوید لطیف نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے ساتھ ساتھ دو حاضر سروس بریگیڈیئرز کو بھی سزائیں سنائی گئی ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ وہ ابتدا ہی سے اس مؤقف پر قائم رہے ہیں کہ اداروں کے اندر سہولت کاری موجود رہی ہے، اور اب دیگر آوازیں بھی اسی بات کی تائید کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق وفاقی وزیرِ دفاع نے بھی اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ ریاستی اداروں کے اندر بعض عناصر ایسے موجود ہیں جو سابق وزیرِاعظم عمران خان کو دوبارہ اقتدار میں لانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ شروع دن سے یہ بات کہتے آ رہے ہیں کہ سہولت کاری ہو رہی ہے، اب دیگر لوگ بھی یہی بات کہہ رہے ہیں، اور آج وزیرِ دفاع نے بھی واضح کیا کہ اداروں کے اندر کچھ افراد عمران خان کی واپسی کے خواہاں ہیں۔
جاوید لطیف نے مزید دعویٰ کیا کہ ان کے پاس موجود معلومات کے مطابق فیض حمید کے ساتھ دو حاضر سروس بریگیڈیئرز کو بھی سزا دی گئی ہے۔
سابق وزیرِاعظم نواز شریف کے طرزِ سیاست پر تبصرہ کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ نواز شریف کبھی اپنے مخالفین یا ذاتی طور پر نشانہ بنانے والوں کے خلاف اس وقت بات نہیں کرتے جب وہ مشکل میں ہوں یا مقدمات کا سامنا کر رہے ہوں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جب نواز شریف نے ماضی میں پانچ افراد کے نام لیے تھے تو اس وقت وہ سب اقتدار کے مراکز میں موجود تھے، تاہم اس موقع پر پارٹی کے بعض ارکان اسٹیج سے اتر گئے جبکہ اتحادی جماعتیں بھی بے چینی کا شکار نظر آئیں۔
جاوید لطیف کے مطابق فیض حمید کے خاندانی روابط متعدد بااثر شخصیات سے رہے ہیں، جن میں سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ اور سابق چیف جسٹس صاحبان ثاقب نثار اور عمر عطا بندیال شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے کئی رہنماؤں کی بھی ان شخصیات سے ماضی میں ملاقاتیں رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ روابط اور ملاقاتوں کو یک طرفہ انداز میں نہیں پرکھا جانا چاہیے، اور یہ تاثر دینا درست نہیں کہ ایک جانب ملاقات غداری کے مترادف ہو جبکہ دوسری جانب وہی عمل قابلِ قبول قرار پائے۔ ان کے مطابق جو چیز کسی کے لیے فائدہ مند ہو اسے درست سمجھا جاتا ہے، لیکن اگر نقصان ہو تو کارروائی کی جاتی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو متعدد الزامات میں قصوروار قرار دیتے ہوئے 14 برس قیدِ سخت کی سزا سنائی۔ پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق کورٹ مارشل کی کارروائی 12 اگست 2024 کو پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت شروع ہوئی اور 15 ماہ تک جاری رہی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ملزم پر چار الزامات عائد کیے گئے تھے، جن میں سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا، آفیشل سیکرٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے ذریعے ریاست کی سلامتی اور مفاد کو نقصان پہنچانا، اختیارات اور سرکاری وسائل کا ناجائز استعمال، اور افراد کو ناجائز مالی نقصان پہنچانا شامل تھا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ طویل اور مفصل قانونی کارروائی کے بعد عدالت نے تمام الزامات میں فیض حمید کو مجرم قرار دیا، جبکہ سزا پر 11 دسمبر 2025 کو عملدرآمد کیا گیا۔

