نئی دہلی (مشرق نامہ) – میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت نے چین کے شہریوں کے لیے قلیل مدتی کاروباری ویزوں پر عائد بیشتر پابندیاں ختم کرتے ہوئے ویزا عمل کو تیز کر دیا ہے، جسے بیجنگ کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی ایک اہم علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز نے جمعہ کے روز دو نامعلوم سرکاری عہدیداروں کے حوالے سے بتایا کہ بھارتی حکومت نے اضافی بیوروکریٹک جانچ کا مرحلہ ختم کر دیا ہے اور اب چینی کاروباری ویزے ایک ماہ سے بھی کم مدت میں جاری کیے جا رہے ہیں۔
ایک عہدیدار کے مطابق انتظامی سطح پر کی جانے والی اضافی چھان بین ختم کر دی گئی ہے اور اب کاروباری ویزوں کی درخواستوں پر چار ہفتوں کے اندر کارروائی مکمل کی جا رہی ہے۔
جون 2020 میں سرحدی جھڑپ کے بعد بھارت اور چین کے تعلقات میں شدید تناؤ پیدا ہو گیا تھا، جس کے نتیجے میں چینی شہریوں کے لیے کاروباری ویزوں کی جانچ پڑتال مزید سخت کر دی گئی تھی۔ اس پالیسی کے باعث اسمارٹ فون بنانے والی کمپنی شیاؤمی سمیت کئی چینی کمپنیوں کو اپنے ملازمین کے لیے ویزے حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا، جیسا کہ مختلف میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا۔
رائٹرز کے مطابق معاون تکنیکی ماہرین کے ویزوں پر سخت نگرانی کے باعث گزشتہ چار برسوں میں بھارتی الیکٹرانکس صنعت کو تقریباً 15 ارب ڈالر کے پیداواری نقصانات اٹھانا پڑے، کیونکہ کئی بھارتی کمپنیوں کو اہم مشینری چین سے درآمد کرنی پڑتی ہے۔
جولائی 2025 میں بھارت نے پانچ سال کے وقفے کے بعد چینی شہریوں کے لیے سیاحتی ویزوں کا اجرا دوبارہ شروع کیا تھا۔ اس کے ایک ماہ بعد بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے 2018 کے بعد پہلی بار چین کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی۔
اس موقع پر وزیر اعظم مودی کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے تعلقات نے مثبت رخ اختیار کیا ہے اور سرحدوں پر امن و استحکام قائم ہے۔
اسی ماہ کے آغاز میں بیجنگ نے کہا تھا کہ چین، روس اور بھارت ابھرتی ہوئی معیشتیں اور گلوبل ساؤتھ کے اہم رکن ہیں، جن کا باہمی تعاون عالمی سطح پر نہایت اہمیت رکھتا ہے۔
اکتوبر میں بھارت اور چین نے پانچ سال کے تعطل کے بعد براہِ راست فضائی پروازیں بھی بحال کر دی تھیں۔ دونوں ممالک کے درمیان فضائی سفر 2020 میں کووڈ-19 وبا کے آغاز پر معطل کر دیا گیا تھا۔

