عشق آباد،(مشرق نامہ) 12 دسمبر (اے پی پی): وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جمعے کے روز انٹرنیشنل ایئر آف پیس اینڈ ٹرسٹ کے موقع پر اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے دو طرفہ ملاقات کی۔
وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں ہونے والی اس ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے رواں سال پیش آنے والی بیرونی جارحیت کے مواقع پر ایک دوسرے کو فراہم کی جانے والی مضبوط اور بھرپور حمایت کو سراہا۔
وزیراعظم نے اس سال منعقد ہونے والے پاک–ایران مشترکہ اقتصادی کمیشن کے 22ویں اجلاس کے کامیاب انعقاد کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کو باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے قریبی رابطے جاری رکھنے چاہئیں، تاکہ دو طرفہ تجارت کے حجم میں اضافہ، سرحدی منڈیوں کو فعال بنانا، سرحدی سلامتی کو مضبوط کرنا اور اسلام آباد–تہران–استنبول ریل نیٹ ورک کے ذریعے ٹرانسپورٹ روابط کو ازسرِنو فعال کیا جا سکے۔
دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ افغان طالبان حکومت کو اس امر پر آمادہ کیا جائے کہ وہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے سنگین سکیورٹی خدشات دور کرنے کے لیے مؤثر اور بامعنی اقدامات کرے۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان غزہ میں جاری امن کوششوں پر بھی گفتگو ہوئی۔
صدر پزشکیان نے وزیراعظم کو بروقت اور مفید تبادلۂ خیال پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایران بھی پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔
یہ ملاقات پاکستان اور ایران کے درمیان قریبی اور برادرانہ تعلقات کی عکاس تھی، جو مشترکہ تاریخ، ثقافت اور ایمان پر مبنی ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے اعلیٰ سطح کے باقاعدہ روابط اور مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے لیے بھی اپنی نیک تمناؤں اور دلی احترام کا پیغام پہنچایا۔

