اسلام آباد(مشرق نامہ): انٹر بورڈ کوآرڈی نیشن کمیشن (IBCC) نے جمعے کے روز ایک نئی پالیسی کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس کے تحت میٹرک میں آرٹس گروپ سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو اب انٹرمیڈیٹ کی سطح پر پری میڈیکل اور پری انجینئرنگ (ایف ایس سی) میں داخلہ لینے کی اجازت ہوگی۔
آئی بی سی سی، جو ملک کے تمام تعلیمی بورڈز کا مرکزی رابطہ ادارہ ہے، کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ آرٹس کے طلبہ 2026 کے پہلے سالانہ امتحانات سے ان گروپس میں رجسٹریشن کرا سکیں گے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق:
“ذیلی کمیٹی کی سفارشات اور پاکستان انجینئرنگ کونسل (PEC)، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PM&DC)، ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC)، نیشنل کرکولم کونسل (NCC) اور صوبائی نصابی اداروں کی آراء کی روشنی میں، آئی بی سی سی فورم (تمام بورڈز کا اجلاس) نے اپنی 183ویں میٹنگ (4 تا 5 دسمبر 2025) میں متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ ایس ایس سی (آرٹس گروپ) پاس کرنے والے طلبہ کو ایچ ایس ایس سی (انٹرمیڈیٹ) کے پری میڈیکل اور پری انجینئرنگ گروپس میں رجسٹریشن کی اجازت دی جائے، جس کا اطلاق 2026 کے پہلے سالانہ امتحانات سے ہوگا۔”
نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ فورم نے سفارش کی ہے کہ
“متعلقہ ادارے یکسانیت برقرار رکھنے کے لیے مناسب اقدامات کریں، جیسے کم از کم نمبر یا میرٹ مقرر کرنا، اہلیت کی حد (Threshold)، پلیسمنٹ یا اپٹی ٹیوڈ ٹیسٹ کا انعقاد وغیرہ۔”
تاہم اس میں واضح کیا گیا کہ اپٹی ٹیوڈ ٹیسٹ یا دیگر شرائط سے متعلق حتمی فیصلے متعلقہ بورڈز اپنی گورننگ باڈیز اور دیگر مجاز فورمز کی منظوری سے خود کریں گے۔
یہ نوٹیفکیشن ملک بھر کے تمام تعلیمی بورڈز کو ارسال کر دیا گیا ہے۔
او اور اے لیول طلبہ کے لیے اہم تبدیلی
اجلاس میں او لیول اور اے لیول کے طلبہ کے لیے بھی ایک بڑی تبدیلی کی منظوری دی گئی۔ اب او/اے لیول میں دو بڑے مضامین پاس کرنے والے طلبہ کو ہیومینٹیز کے بجائے سائنس گروپ کی مساوی حیثیت (Equivalence) دی جائے گی۔
واحد ایس ایس سی کی تجویز
آئی بی سی سی فورم نے میٹرک کی سطح پر سائنس اور آرٹس کے الگ الگ گروپس ختم کرنے اور ان کی جگہ واحد سیکنڈری اسکول سرٹیفکیٹ (SSC) متعارف کرانے کی تجویز پر بھی غور کیا، جس میں طلبہ کو اختیاری مضامین کے انتخاب کی آزادی ہو گی۔
تاہم اس تجویز پر حتمی فیصلہ آئندہ اجلاسوں میں مزید بحث کے بعد کیا جائے گا۔
آئی بی سی سی کی وضاحت
آئی بی سی سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام علی ملاح نے بتایا کہ یہ فیصلہ ملک کے تمام تعلیمی بورڈز اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے طلبہ کے وسیع تر مفاد میں کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ
“سخت اور محدود پالیسیاں طلبہ کے مواقع کم کر دیتی ہیں۔ اگر کوئی طالب علم ایف ایس سی (پری میڈیکل یا پری انجینئرنگ) کا نصاب پاس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو اسے امتحان دینے کی اجازت ہونی چاہیے۔ یہ فیصلہ طلبہ کے لیے نئے راستے کھولے گا۔”
جمعے کو جاری ہونے والے نوٹیفکیشن سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ نوٹیفکیشن میں خاص طور پر پری میڈیکل اور پری انجینئرنگ کا ذکر ہے، لیکن اب آرٹس کے طلبہ کسی بھی گروپ میں جا سکتے ہیں، جن میں آئی سی ایس (ICS) اور آئی کام (I.Com) بھی شامل ہیں۔
“اصل مسئلہ پری میڈیکل اور انجینئرنگ تھا، اسی لیے نوٹیفکیشن میں انہی گروپس کا ذکر نمایاں کیا گیا ہے۔”

