مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزیشکیان نے ترکمانستان کے دارالحکومت عشق آباد میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس برائے امن و اعتماد کے موقع پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات میں ایران اور روس کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے پر پوری طرح عمل درآمد کے عزم کا اظہار کیا۔
صدر پزیشکیان نے تہران اور ماسکو کے درمیان ترقی پذیر تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بین الاقوامی فورمز میں اسلامی جمہوریہ کی مسلسل حمایت پر روس کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے 17 جنوری 2025 کو ایران اور روس کے درمیان طے پانے والے طویل المدت اسٹریٹجک شراکت داری معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران اس معاہدے پر عمل درآمد اور اسے عملی شکل دینے کے لیے پُرعزم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ توانائی کی پیداوار، ٹرانسپورٹ اور ٹرانزٹ کاریڈورز کے شعبوں میں مشترکہ تعاون جاری ہے، اور ’’شمال–جنوب کاریڈور‘‘ کے سلسلے میں ایران سال کے اختتام تک منصوبے کی مکمل تکمیل کے لیے تمام ضروری اقدامات کر لے گا۔
صدر پزیشکیان نے زرعی تعاون کو دونوں ممالک کے لیے انتہائی فائدہ مند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کامیاب ماڈل کو دیگر شعبوں تک بھی توسیع دی جا سکتی ہے۔
انہوں نے یکطرفہ پابندیوں اور غلبے کی پالیسیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ تعاون کی ناگزیر ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ تعاون شنگھائی تعاون تنظیم، برکس اور دیگر علاقائی و بین الاقوامی اداروں کے پلیٹ فارمز کے ذریعے مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
اس موقع پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ روس اور ایران کے تعلقات ’’بہت مثبت انداز‘‘ میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک گیس اور بجلی کے شعبوں میں تعاون پر بات چیت کر رہے ہیں اور ایران کے جوہری مسئلے پر بھی قریبی رابطے میں ہیں۔
پیوٹن کے مطابق ماسکو اور تہران مختلف شعبوں میں مشترکہ سرگرمیوں میں مصروف ہیں، جن میں بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے بڑے منصوبے، خصوصاً شمال–جنوب کاریڈور شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال روس اور ایران کے درمیان تجارت میں 13 فیصد اضافہ ہوا، جب کہ رواں سال اس میں مزید 8 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
دونوں ممالک غیر قانونی مغربی پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں اور گزشتہ برسوں میں انہوں نے مختلف شعبوں میں اپنے تعلقات کو مسلسل مضبوط کیا ہے۔ روس ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے حق میں بارہا اپنا واضح مؤقف دہرا چکا ہے۔

