مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – وینزویلا نے اپنے تیل بردار جہاز کی امریکی ضبطی کو ’’بین الاقوامی بحری قزاقی‘‘ قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی ہے، اپنے قومی اقتدارِ اعلیٰ کے دفاع کا عزم ظاہر کیا ہے، اور عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ واشنگٹن کی اس جارحیت کو مسترد کرے۔
وینزویلا نے کہا کہ امریکہ نے اس کے ساحلی حدود کے قریب ایک وینزویلا بحری جہاز قبضے میں لے کر ’’بین الاقوامی بحری قزاقی‘‘ کا اقدام کیا ہے۔ کاراکاس نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کھلی جارحیت اور ’’لوٹ کھسوٹ‘‘ جیسے عمل کو فوری طور پر رد کرے۔
بدھ کے روز جاری کیے گئے ایک سخت بیان میں وینزویلا کی وزارتِ خارجہ نے امریکی کارروائی کو ’’تخریبانہ، غیر قانونی اور بے نظیر جارحیت‘‘ قرار دیا، جس کا مقصد پابندیوں کے نام پر لوٹ مار کو معمول بنانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ
’’بولیوارین جمہوریہ وینزویلا اس کھلی چوری اور بین الاقوامی بحری قزاقی کے فعل کی شدید مذمت کرتی ہے۔ وینزویلا تمام شہریوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ وطن کے دفاع کے لیے متحد کھڑے ہوں، اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ اس جارحیت کو مسترد کریں جو دباؤ اور لوٹ مار کے ہتھیار کے طور پر خود کو معمول بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔‘‘
ٹرمپ کی شیخیاں، بونڈی کا مؤقف
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے ساحل کے قریب جہاز کی ضبطی کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ’’اب تک پکڑا جانے والا سب سے بڑا جہاز‘‘ قرار دیا اور مزید اقدامات کا عندیہ بھی دیا۔
بعد ازاں امریکی اٹارنی جنرل پام بونڈی نے کہا کہ کارروائی کا ہدف وہ جہاز تھا جو مبینہ طور پر وینزویلا اور ایران کا پابندیوں کے زد میں آنے والا تیل لے جا رہا تھا۔
ان کے مطابق ایف بی آئی، ہوم لینڈ سکیورٹی انویسٹی گیشنز، اور امریکی کوسٹ گارڈ نے محکمۂ جنگ کی معاونت سے ضبطی کا وارنٹ نافذ کیا۔
عالمی سطح پر دفاعِ خودمختاری کا اعلان
کاراکاس نے اس اقدام کو اپنے قدرتی وسائل کی لوٹ اور ملکی معیشت کو کمزور کرنے کی وسیع امریکی مہم کا حصہ قرار دیا۔ حکومت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ٹرمپ پہلے ہی بحیرۂ کرائیبیئن میں ایک وینزویلا جہاز پر حملے کا اعتراف کر چکے ہیں، جو وینزویلا کے الزامات کو مزید تقویت دیتا ہے۔
وینزویلا نے کہا کہ وہ اس معاملے کو تمام متعلقہ بین الاقوامی قانونی اداروں کے سامنے لے کر جائے گا۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ
’’وینزویلا تمام بین الاقوامی اداروں سے رجوع کرے گا تاکہ اس سنگین بین الاقوامی جرم کی مذمت کی جا سکے، اور اپنے اقتدارِ اعلیٰ، قدرتی وسائل اور قومی وقار کا پوری ثابت قدمی کے ساتھ دفاع کیا جا سکے۔‘‘
سمندر میں عسکری تیزی اور ’’بحری قزاقی‘‘ کے خدشات
یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ٹرمپ نے خطے میں نمایاں عسکری اضافہ کرتے ہوئے ایک طیارہ بردار جہاز، لڑاکا طیارے اور دسیوں ہزار فوجی تعینات کیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس جہاز کی ضبطی وینزویلا کی معیشت کے بنیادی ستون، یعنی تیل کے شعبے، پر زیادہ جارحانہ اقدامات کی طرف موڑ کا اشارہ ہو سکتی ہے۔
تین امریکی حکام نے، جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز سے بات کی، کہا کہ کارروائی امریکی کوسٹ گارڈ نے انجام دی۔ انہوں نے نہ جہاز کا نام بتایا، نہ اس کا پرچم، اور نہ قبضے کی درست جگہ۔
برطانوی بحری خطرات کے مشاورتی ادارے ‘‘وینگارڈ’’ نے کہا کہ اس کے خیال میں ’’اسکیپر‘‘ نامی جہاز ہی وہ ٹینکر ہے جسے بدھ کی صبح ضبط کیا گیا۔ امریکہ اس جہاز کو، جو پہلے ’’ادیسا‘‘ کے نام سے جانا جاتا تھا، ایران کی تیل تجارت میں مبینہ شرکت کی وجہ سے پہلے ہی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر چکا ہے۔
ضبطی کی خبر کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ برینٹ خام تیل 27 سینٹ (0.4 فیصد) بڑھ کر 62.21 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 21 سینٹ اضافے کے ساتھ 58.46 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔

