جمعرات, فروری 12, 2026
ہومبین الاقوامییوروویژن میں اسرائیلی شرکت پر آئس لینڈ کا بائیکاٹ

یوروویژن میں اسرائیلی شرکت پر آئس لینڈ کا بائیکاٹ
ی

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – آئس لینڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ یوروویژن سونگ کانٹیسٹ 2026 میں حصہ نہیں لے گا، اور اس طرح وہ یورپی ممالک کے اس بڑھتے ہوئے گروہ میں شامل ہو گیا ہے جنہوں نے اسرائیل کی شرکت کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے مقابلے سے دستبرداری اختیار کی ہے۔ ان ممالک نے واضح طور پر اپنے فیصلے کی وجہ اسرائیل کے فلسطینیوں کے خلاف جرائم کو قرار دیا ہے۔

یہ فیصلہ آئس لینڈ کے نشریاتی ادارے RUV کی جانب سے اس وقت سامنے آیا جب یورپی براڈکاسٹنگ یونین (EBU) نے ویانا میں آئندہ مئی میں منعقد ہونے والے مقابلے میں اسرائیل کی شرکت کی منظوری دی۔

RUV نے اپنے بیان میں کہا کہ
“ملک میں جاری عوامی مباحثے اور گزشتہ ہفتے EBU کے فیصلے کے بعد سامنے آنے والے ردعمل کے تناظر میں یہ واضح ہے کہ یوروویژن میں RUV کی شرکت نہ تو خوشی لا سکتی ہے اور نہ ہی کوئی سکون۔ چنانچہ یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ RUV اگلے سال کے مقابلے میں حصہ نہیں لے گا۔”

مزید کہا گیا کہ
“یہ سونگ کانٹیسٹ ہمیشہ سے آئس لینڈ کے عوام کو متحد کرنے کا مقصد رکھتا رہا ہے، مگر اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ اس مقصد کا حصول ممکن نہیں رہا۔ اسی پروگرام سے متعلق وجوہات کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔”

آئس لینڈ سے پہلے اسپین، نیدرلینڈز، آئرلینڈ اور سلووینیا بھی مقابلے سے الگ ہو چکے ہیں، جنہوں نے اسرائیلی جرائم بالخصوص غزہ میں جاری قتلِ عام کو بنیاد بنایا۔ ان ممالک نے اسرائیل کی شرکت پر ووٹنگ کا مطالبہ کیا تھا، مگر EBU نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نئے قوانین حکومتی اثرانداز ہونے کی اجازت نہیں دیتے۔

اسرائیلی شرکت کے مخالفین نے غزہ میں جاری نسل کشی کی نشاندہی کرتے ہوئے اس “دوہرے معیار” پر بھی اعتراض اٹھایا ہے جس کے تحت اسرائیل کو جوابدہی سے بچایا گیا ہے۔ ناقدین نے یاد دلایا کہ 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے صرف چند روز بعد ہی FIFA اور UEFA نے روس کو مکمل طور پر بین کر دیا تھا۔

اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی فوج نے 70,354 فلسطینیوں کو قتل کیا ہے، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جب کہ 171,000 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ دو سال سے جاری اس جنگ نے غزہ کے بیشتر حصے کو کھنڈر بنا دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ہیومن رائٹس کونسل کے تحت قائم کردہ کمیشن آف انکوائری (CoI) نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اسرائیلی حکام کا مقصد “جتنا ممکن ہو سکے زیادہ سے زیادہ فلسطینیوں کو قتل کرنا” رہا ہے، اور یہ کہ وہ انسانیت کے خلاف جرم—نسل کشی کے مرتکب ہوئے ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے شہریوں، خصوصاً بچوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا، اور “پچھلی جنگوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر” قتلِ عام کیا ہے۔ اس “سب سے معتبر تجزیے” کے مطابق اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے اور اسے جاری رکھے ہوئے ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین