جمعرات, فروری 12, 2026
ہومبین الاقوامیبولیویا نے ‘اسرائیل’ سے سفارتی تعلقات بحال کر لیے

بولیویا نے ‘اسرائیل’ سے سفارتی تعلقات بحال کر لیے
ب

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – بولیویا اور “اسرائیل” نے سفارتی تعلقات مکمل طور پر بحال کر لیے ہیں، یہ بات منگل کو بولیویا کی وزارتِ خارجہ نے بتائی۔

وزارت نے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’’بولیویا اور اسرائیل نے سفارتی تعلقات مکمل طور پر بحال کر لیے ہیں اور اسٹریٹجک تعاون کے ایک نئے مرحلے کا آغاز کیا ہے‘‘۔ وزارت کے مطابق دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے یہ معاہدہ واشنگٹن میں دستخط کیا۔

بولیویا نے اکتوبر 2023 کے آخر میں “اسرائیل” کے غزہ پر حملے کے آغاز کے ردعمل میں سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ کیا تھا، کیونکہ اسے کشیدگی میں اضافے اور خطے پر اس کے انسانی اثرات پر شدید تشویش تھی۔

31 اکتوبر 2023 کو بولیویا نے باقاعدہ طور پر “اسرائیل” سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب 7 اکتوبر 2023 کو فلسطینی مزاحمت کی جانب سے شروع کیے گئے بڑے آپریشن کے بعد “اسرائیل” کی جارحیت میں نمایاں اضافہ ہوا تھا، جس کے نتیجے میں انسانی بحران کی شدت پر عالمی سطح پر تشویش بڑھ گئی تھی۔

اس وقت کے نائب وزیرِ خارجہ فریڈی مامانی نے لاپاز میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ بولیویا نے ’’غزہ پٹی میں جاری جارحانہ اور غیر متناسب اسرائیلی فوجی حملے کی مذمت اور مخالفت‘‘ کرتے ہوئے “اسرائیل” کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ بولیوین حکومت نے “اسرائیل” کے اقدامات کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور انسانیت کے خلاف جرائم قرار دیا تھا۔

صدر لوئیس آرسے کی حکومت نے غزہ کے عوام کے لیے انسانی امداد بھی بھیجنے کا اعلان کیا تھا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ تشدد روکنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ بولیویا نے انسانی راہداریوں کے قیام اور محاصرے کے خاتمے کا مطالبہ کیا تاکہ ضروری امدادی سامان کی رسائی ممکن ہو سکے۔

یہ دوسری مرتبہ تھا کہ بولیویا نے “اسرائیل” کے ساتھ تعلقات منقطع کیے۔ پہلی بار یہ اقدام 2009 میں اُس وقت کے صدر ایوو مورالس کے دور میں غزہ پر اسرائیلی حملوں کے خلاف کیا گیا تھا۔ تعلقات 2019 میں بحال ہوئے تھے، جس کے باعث 2023 کا فیصلہ بولیویا کی خارجہ پالیسی میں ایک نمایاں تبدیلی تھا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین