جمعرات, فروری 12, 2026
ہومبین الاقوامیامریکا کیجانب سے دعوت نامہ منسوخی پر جنوبی افریقا کی G20 حمایت...

امریکا کیجانب سے دعوت نامہ منسوخی پر جنوبی افریقا کی G20 حمایت کی جستجو
ا

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – جنوبی افریقا کی حکمران جماعت افریکن نیشنل کانگریس (ANC) نے کہا ہے کہ وہ امید کرتی ہے کہ G20 کے رکن ممالک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ آئندہ سال میامی میں ہونے والی سربراہی اجلاس سے جنوبی افریقا کو خارج کرنے کے فیصلے پر نظرِثانی کرے۔

یہ بیان اس کے بعد سامنے آیا ہے جب ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ جنوبی افریقا کو اجلاس میں مدعو نہیں کیا جائے گا، جس پر پریٹوریا نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ ANC کی نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی (NEC) کی رکن تھاندی موراکا نے IOL نیوز کو بتایا کہ پارٹی نے ایک کمیشن تشکیل دیا ہے جو بین الاقوامی تعلقات سے متعلق مسائل، بالخصوص امریکہ کے ساتھ کشیدہ روابط کا جائزہ لے رہا ہے۔

موراکا نے یہ گفتگو منگل کو گوتینگ کے ایکورہولینی میں برچ ووڈ ہوٹل میں جاری ANC کے نیشنل جنرل کونسل (NGC) اجلاس کے موقع پر کی، جہاں پارٹی اپنے موجودہ دورِ حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لے رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقا کی خارجہ پالیسی، خصوصاً دیگر ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات کے حوالے سے، ہمیشہ خودمختار رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ہم امریکہ جیسے ممالک کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کا ہر ملاقات کے موقع پر جائزہ لیتے رہتے ہیں۔‘‘

یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب جنوبی افریقا نے نومبر کے آخر میں جوہانسبرگ میں G20 اجلاس کی میزبانی کی—جو پہلی بار افریقہ میں منعقد ہوا—تاہم امریکہ نے شرکت نہیں کی۔

موراکا نے کہا کہ ’’ہم نے بطور ملک ایک کامیاب G20 اجلاس منعقد کیا اور آپ نے دیکھا کہ ہم نے امریکہ سے سفارتی تعلقات کی بحالی کے لیے بھی رابطہ کیا۔‘‘

موراکا، جو محکمہ بین الاقوامی تعلقات و تعاون کی نائب وزیر بھی ہیں، نے مزید کہا کہ امریکی انتظامیہ جنوبی افریقا کے بارے میں ’’سنگین نوعیت کی غلط معلومات‘‘ پھیلا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا: ’’ہم نے ایک اعلیٰ سطحی وفد کو، جس کی قیادت صدر سیرل رامافوسا نے کی، وائٹ ہاؤس بھیجا تاکہ یہ وضاحت کی جا سکے کہ جسے جنوبی افریقا میں نسل کشی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، وہ حقیقت نہیں رکھتا۔ ہم امریکہ تک اپنا مؤقف پہنچانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔‘‘

ٹرمپ بارہا یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ سفید فام جنوبی افریقیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان کی زمین ضبط کی جا رہی ہے، مگر جنوبی افریقی حکومت ان الزامات کی مستقل تردید کرتی آئی ہے۔

موراکا نے کہا کہ ’’وہ ہمیں ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھتے ہیں جسے احترام کی ضرورت نہیں،‘‘ جبکہ ’’ہماری خارجہ پالیسی اور خودمختاری کا تقاضا ہے کہ ہمیں عزت دی جائے اور ہم اپنے قومی مفادات کا تحفظ کریں۔‘‘

انہوں نے تصدیق کی کہ بین الاقوامی تعلقات سے متعلق امور کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیشن اور ذیلی کمیٹی سرگرم عمل ہے، جو واشنگٹن کے ساتھ موجودہ کشیدگی پر بھی غور کر رہی ہے۔

موراکا نے کہا کہ اختلافات کے باوجود حکومت امریکہ کے ساتھ سفارتی تعلقات برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا، ’’ہمیں امریکہ کے ساتھ رابطے جاری رکھنے چاہئیں اور یہ باور کرانا چاہیے کہ ہم اپنے تعلقات بہتر بنانے کے لیے تیار ہیں۔ امریکہ کے ساتھ ہمارے طویل عرصے سے تعلقات موجود ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔‘‘

اگرچہ ٹرمپ اس بات پر قائم ہیں کہ جنوبی افریقا کو میامی اجلاس میں نہیں بلایا جائے گا، موراکا نے کہا کہ ان کے پاس اس فیصلے کا اختیار ہی نہیں۔

انہوں نے کہا، ’’G20 کی رکنیت کے لحاظ سے ہم 20 ممالک کا گروہ ہیں، نہ کہ 19 یا 80 کا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ G20 کے رکن ممالک پر لازم ہے کہ وہ امریکی انتظامیہ کو ’’سمجھائیں‘‘ کہ کسی رکن کو ذاتی پسند یا ناپسند کی بنیاد پر مدعو یا خارج نہیں کیا جا سکتا۔

موراکا نے کہا کہ ’’اگر امریکہ اپنی صدارت کی سرگرمیوں سے جنوبی افریقا کو خارج کرتا ہے، تو پھر G20 کے ریگولیٹری فریم ورک کا جائزہ لینا پڑے گا۔‘‘

انہوں نے امید ظاہر کی کہ دیگر رکن ممالک اس موقع پر ’’اپنا کردار ادا کریں گے‘‘ اور امریکہ کو باور کرائیں گے کہ جنوبی افریقا G20 کا مکمل رکن ہے اور اسے کسی صورت خارج نہیں کیا جا سکتا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین