جمعرات, فروری 12, 2026
ہومبین الاقوامیسعودی–اماراتی اقدامات، ماضی اور حال، امریکی–صہیونی مفادات کی خدمت میں

سعودی–اماراتی اقدامات، ماضی اور حال، امریکی–صہیونی مفادات کی خدمت میں
س

بیروت (مشرق نامہ) – زکریا الشرعابی، جو محکمۂ رہنمائی و اخلاقیات کے انفارمیشن سینٹر کے ڈائریکٹر ہیں، نے مقبوضہ صوبوں کی بدلتی ہوئی سیاسی و عسکری صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے سعودی اور اماراتی حمایت یافتہ گروہوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔

المسیرہ ٹی وی سے گفتگو میں الشرعابی نے زور دیا کہ موجودہ حالات اب ایک داخلی بغاوت اور اثر و رسوخ کی جنگ کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جو بیرونی سرپرستی کی گہرائی اور جارح ممالک کے پراجیکٹ کی سمت کو بے نقاب کرتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ دعوے اور نعرے جو جارحیت کے آغاز میں ’’عرب آغوش‘‘ جیسے جذباتی نعروں کے ساتھ پیش کیے جاتے تھے، وہ مکمل طور پر منہدم ہو چکے ہیں، اور اب اصل تصویر سب کے سامنے آ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یمن حقیقی عرب شناخت کا حامل ملک ہے، اور اس کا اصولی اور اخلاقی موقف — خصوصاً فلسطین کے معاملے پر — دشمن اور اس کے آلہ کاروں کے لیے بے چینی کا باعث بنا ہے، جس کی وجہ سے یمن کی ثابت قدمی کو نشانہ بنانے کے لیے کئی محاذوں پر کوششیں جاری ہیں۔

الشرعابی کے مطابق اسرائیلی دشمن، سعودی عرب، امارات اور ان کے کرائے کے گروہوں کے ذریعے، یمن کو منظم انداز میں کمزور کرنے اور اس کے کردار کو محدود کرنے پر کام کر رہا ہے، تاکہ یہ ملک اپنے اصولی اور انسانی مؤقف کے ذریعے صہیونی قبضے کے خلاف مؤثر کردار ادا نہ کر سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ دو برس کے دوران ابوظبی اور ریاض میں صہیونی وفود کی آمد محض سیاحت یا سطحی سفارتی دورے نہیں تھے، بلکہ وہ جارح اتحاد اور صہیونی ادارے کے درمیان گہرے، منظم اور ساختی ربط کا حصہ تھے۔

الشرعابی کے مطابق حالیہ دِنوں حضرموت اور دیگر مقبوضہ علاقوں میں رونما ہونے والی پیش رفت پر صہیونی تعریف و توصیف اس گہرے ربط کو مزید نمایاں کرتی ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اتحاد کی حکومتیں صہیونی مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صہیونی ادارہ بندرگاہوں اور سمندری راستوں پر اپنے ایجنڈے کے لیے اماراتی حمایت یافتہ گروہوں کو استعمال کرنا چاہتا ہے۔

اسی تناظر میں، الشرعابی نے کرائے کے رہنما عیدروس الزبیدی کے مؤقف کا ذکر کیا، جنہوں نے علانیہ طور پر صہیونی ادارے سے قربت بڑھانے کی کوشش کی اور اس کے جہازرانی راستوں کے تحفظ کا وعدہ بھی کیا—حالانکہ وہ ان علاقوں میں استحکام لانے میں ناکام رہے جن پر ان کا کنٹرول ہے، اور جہاں بدامنی، انتشار اور زندگی کے بگڑتے ہوئے حالات بدستور جاری ہیں۔ انہوں نے دیگر اتحادی حمایت یافتہ شخصیات کے مشابہہ مؤقف کی طرف بھی اشارہ کیا، جو اسی طرح بیرونی مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں۔

الشرعابی نے کہا کہ ایسے بیانات ان گروہوں کی مکمل تابع داری اور قبضہ کار قوتوں سے ان کے گہرے تعلقات کی نشاندہی کرتے ہیں۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ جارح ممالک اور ان کے آلہ کاروں کی تمام امیدیں ناکام ہونے والی ہیں، اور صہیونی ادارہ — جو غیر مؤثر کرائے کے جنگجوؤں پر انحصار کر رہا ہے — جلد ہی اپنی غلطی کا احساس کر لے گا، کیونکہ کمزور ملیشیاؤں پر انحصار زمینی حقائق کو تبدیل نہیں کر سکتا۔

انہوں نے واضح کیا کہ یمن کے خلاف آئندہ ہونے والی شدت پسندی، امریکی، برطانوی اور صہیونی منصوبہ بندی کے تحت واضح طور پر تیار کی جا رہی ہے، چاہے اتحاد اسے پراکسی گروہوں یا میڈیا بیانیوں کے ذریعے چھپانے کی کوشش کرے۔

الشرعابی نے اختتام میں کہا کہ عوامی بیداری اور ان اتحادوں کا بے نقاب ہونا دشمن کے منصوبوں کو ناکام بنا دے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ یمن — جس نے کھلے عام خلیجی ممالک کی صہیونی ریاست سے بڑھتی ہوئی قربت کے ماحول میں بھی باعزت اور اصولی مؤقف اختیار کیے رکھا — تسلط کے تمام منصوبوں کا مقابلہ کرتا رہے گا، چاہے شدت کتنی ہی بڑھ جائے۔

مقبوضہ صوبوں میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے، کیونکہ سعودی اور اماراتی حمایت یافتہ گروہ اپنی رقابت میں اضافہ کر رہے ہیں۔ یمنی حکام کا کہنا ہے کہ یہ جھڑپیں اتحاد کے ممالک اور صہیونی ادارے کے درمیان بڑھتی ہوئی سکیورٹی اور بحری تعاون کا براہِ راست نتیجہ ہیں۔ ریاض اور ابوظبی میں حالیہ صہیونی دوروں کے ساتھ ساتھ اتحاد کے حمایت یافتہ گروہوں کی جانب سے صہیونی مفادات کی خدمت کے علانیہ دعوے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ جنوبی یمن میں پیدا ہونے والی یہ بدامنی ایک بڑے امریکی–برطانوی–صہیونی منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد یمن کے کردار کو کمزور کرنا اور اس کے فلسطین کے حق میں اصولی موقف کو بے اثر کرنا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین