جمعرات, فروری 12, 2026
ہومپاکستانحملے میں چھ پاکستانی فوجی شہید، پاک–افغان تناؤ میں اضافہ

حملے میں چھ پاکستانی فوجی شہید، پاک–افغان تناؤ میں اضافہ
ح

اسلام آباد (مشرق نامہ) – پاکستان کے شمال مغربی علاقے میں ایک سیکیورٹی چوکی پر حملے کے نتیجے میں چھ فوجی اہلکار شہید ہو گئے، جس کے بعد اسلام آباد اور کابل کے درمیان کشیدہ صورتحال مزید بگڑنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

حکام کے مطابق، مسلح گروہ نے خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع کرّم میں پیر اور منگل کی درمیانی شب ایک چوکی پر حملہ کیا، جس کے بعد فریقین کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ پولیس اور سیکیورٹی ذرائع نے اس جھڑپ کی تصدیق کی ہے۔

یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی پہلے ہی جاری ہے، اور حالیہ ہفتوں میں ہونے والی جھڑپوں میں درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

ایک سرکاری اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ "چھ سیکیورٹی اہلکار شہید اور چار زخمی ہوئے، جبکہ دو حملہ آور مارے گئے۔”

غیر مستحکم جنگ بندی

ٹی ٹی پی گزشتہ دو دہائیوں سے اسلام آباد کے خلاف مسلح کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور حالیہ برسوں میں پاکستان کے سرحدی علاقوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اسلام آباد کا الزام ہے کہ 2021 میں اقتدار میں آنے والی افغان طالبان قیادت ٹی ٹی پی کو پناہ دے رہی ہے۔ کابل اس الزام کو مسترد کرتا ہے اور اسے پاکستان کا داخلی مسئلہ قرار دیتا ہے۔

اکتوبر میں دونوں ممالک کے درمیان جھڑپوں اور گولہ باری کے نتیجے میں تقریباً 70 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے، جس کے بعد قطر، ترکیہ اور سعودی عرب کی ثالثی سے جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا۔ تاہم صورتِ حال بدستور کشیدہ ہے اور سرحد پار حملوں کے باعث وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری ہیں۔

جمعے کے روز ایک سرحدی گزرگاہ پر فائرنگ اور گولہ باری کے تبادلے میں افغانستان کے مطابق چار شہری اور ایک فوجی ہلاک ہوئے۔

کشیدگی کے محرکات: میدانِ جنگ سے آگے

سرحدی لڑائی کے علاوہ دیگر اقدامات نے بھی تناؤ کو بڑھایا ہے۔ پاکستان نے حالیہ مہینوں میں لاکھوں افغان مہاجرین کی بڑے پیمانے پر وطن واپسی کی مہم تیز کی ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔

تاہم اسلام آباد نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا کہ وہ جلد ہی افغانستان کے لیے اقوامِ متحدہ کی امدادی ترسیل کی اجازت دینا شروع کرے گا، جس سے کچھ سفارتی دباؤ میں کمی کی امید کی جا رہی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین