جمعرات, فروری 12, 2026
ہومبین الاقوامیاسرائیلی اسپائی ویئر کی امریکی منڈی میں آمد پر ایپل، واٹس ایپ...

اسرائیلی اسپائی ویئر کی امریکی منڈی میں آمد پر ایپل، واٹس ایپ کی مزاحمت
ا

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – ایپل اور واٹس ایپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ صارفین کو اسرائیلی اسپائی ویئر کے خطرات سے آگاہ کرتے رہیں گے، جبکہ این ایس او گروپ اور پیراگون سولیوشنز جیسی کمپنیاں ٹرمپ انتظامیہ کے تعاون سے امریکی اداروں تک رسائی بڑھا رہی ہیں۔

ایپل اور واٹس ایپ نے واضح کیا ہے کہ اگر حکومتیں ہیکنگ ٹولز استعمال کریں—حتیٰ امریکہ کے اندر—تو وہ صارفین کو خبردار کرنے کی اپنی پالیسی جاری رکھیں گے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب متنازع اسرائیلی اسپائی ویئر کمپنیاں ٹرمپ انتظامیہ کے زیرِ سایہ امریکی اداروں میں اثرورسوخ بڑھا رہی ہیں۔

پیراگون سولیوشنز اور این ایس او گروپ—دونوں کا آغاز ’’اسرائیل‘‘ میں ہوا اور اب وہ امریکی سرمایہ کاروں کی ملکیت ہیں—امریکی ایجنسیوں تک رسائی کے خواہاں ہیں۔ پیراگون، جو گرافائٹ اسپائی ویئر تیار کرتا ہے، نے ستمبر میں امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے ساتھ معاہدہ حاصل کر لیا، جب ہوم لینڈ سیکورٹی نے 20 لاکھ ڈالر کے معاہدے پر عائد پابندی اٹھا لی۔

ایپل اور واٹس ایپ دونوں نے دنیا بھر میں اسپائی ویئر کے پھیلاؤ کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا ہے اور اٹلی، اسپین، بھارت سمیت متعدد ممالک میں افراد کو اُس وقت خبردار کیا جب ان کے آلات ہیکنگ کا شکار ہوئے۔

ایپل نے دی گارڈین سے گفتگو میں کہا کہ ”خطرے کی اطلاعات کا مقصد اُن صارفین کو آگاہ کرنا اور مدد فراہم کرنا ہے جنہیں کرائے کے جاسوسی سافٹ ویئر کا فرداً فرداً نشانہ بنایا گیا ہو، اور اس میں جغرافیائی محلِ وقوع کوئی معنی نہیں رکھتا۔“

واٹس ایپ نے بھی ایک علیحدہ بیان میں کہا کہ ”ہماری ترجیح یہ ہے کہ کرائے کے اسپائی ویئر کے حملوں کو ناکام بناتے ہوئے اپنے صارفین کی حفاظت کریں، نئی حفاظتی تہیں متعارف کرائیں، اور ہر اُس شخص کو اطلاع دیں جس کے آلے کو خطرہ درپیش ہو—خواہ وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں ہو۔“

ایپل اور واٹس ایپ کی بنیادی کمپنی میٹا پہلے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کر چکی ہے، جس کے باعث یہ سوال اٹھ رہے ہیں کہ اگر امریکی صارفین کو ہدف بنایا گیا تو یہ کمپنیاں کیا ردعمل دکھائیں گی۔

این ایس او گروپ کی بحالی میں ٹرمپ دور کے حکام کا کردار

این ایس او گروپ کو طویل عرصے سے پیگاسس اسپائی ویئر کی وجہ سے عالمی تنازعات کا سامنا ہے، جو ہدف کے فون کی مکمل نگرانی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ 2021 میں بائیڈن انتظامیہ نے کمپنی پر امریکی قومی سلامتی کے خلاف کام کرنے کا الزام لگا کر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

اب کمپنی کی نئی امریکی ملکیت اور تنظیمِ نو کے بعد این ایس او اپنے آپ کو دوبارہ متحرک کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ ڈیوڈ فریڈمین—جو ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں اسرائیل میں امریکی سفیر تھے—اس کی نئی ہولڈنگ کمپنی کے ایگزیکٹو چیئرمین ہوں گے۔ رپورٹس کے مطابق کمپنی کو ہالی وڈ پروڈیوسر رابرٹ سائمنڈز سمیت امریکی سرمایہ کاروں نے خریدا ہے۔

جب فریڈمین سے پوچھا گیا کہ کیا کمپنی امریکی پابندیوں کے خاتمے کی کوشش کرے گی، تو انہوں نے کہا کہ ”مجھے امید ہے یہ ممکن ہو جائے گا، لیکن ہم نے ابھی ایسی کوئی درخواست نہیں دی“ اور یہ بھی بتایا کہ انہوں نے اس بارے میں ٹرمپ سے بات نہیں کی۔

اٹلی میں صحافیوں اور سول سوسائٹی پر گرافائٹ اسپائی ویئر کے حملے

پیراگون سولیوشنز نے 2024 میں بائیڈن دور میں ICE کے ساتھ معاہدہ کیا تھا، لیکن 2023 کے اُس صدارتی حکم نامے کے تناظر میں یہ معاہدہ روک دیا گیا تھا جو ایسے اسپائی ویئر پر پابندی لگاتا ہے جس سے قومی سلامتی کو خطرہ ہو یا جس کا غلط استعمال ہوا ہو۔ تاہم ٹرمپ انتظامیہ کی منظوری کے بعد ICE کو دوبارہ اس ٹیکنالوجی تک رسائی مل گئی۔

پیراگون، جو ابتدا میں اسکینڈل سے پاک سمجھا جاتا تھا، 2025 میں اس وقت شدید سوالات کی زد میں آ گیا جب واٹس ایپ نے انکشاف کیا کہ گرافائٹ اسپائی ویئر سے 90 افراد، جن میں صحافی، سول سوسائٹی کے ارکان اور دیگر شامل تھے، کو نشانہ بنایا گیا۔ ان انکشافات کے بعد پیراگون نے اٹلی کی حکومت کے ساتھ اپنا معاہدہ معطل کر دیا، یہ کہتے ہوئے کہ شرائط کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق اسپائی ویئر کو اٹلی میں صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، کاروباری شخصیات اور سیاسی حکمتِ عملی سے وابستہ افراد کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ اٹلی کی حکومت نے کچھ نگرانی کے واقعات تسلیم کیے لیکن وسیع سطح پر ہونے والی کارروائیوں کی ذمہ داری سے انکار کیا۔

سابق اطالوی وزیراعظم متیو رینزی نے کہا، ”یہ اٹلی کا واٹرگیٹ ہے۔ اگر حکومت یہ ماننے سے انکار کرتی ہے کہ اسے [متعدد اطالوی کاروباری شخصیات] اور صحافیوں کے خلاف استعمال کیا گیا، تو پھر سوال یہ ہے کہ آخر یہ کیا کون کر رہا تھا؟“

امریکہ میں ICE کو اسپائی ویئر دینے پر بڑھتی تشویش

امریکی امیگریشن ادارے ICE کے ہاتھوں گرافائٹ جیسے اسپائی ویئر کے استعمال پر شہری آزادی کے محافظوں میں شدید خدشات جنم لے رہے ہیں۔ امریکی سینیٹر رَون وائڈن نے ICE کے جارحانہ نگرانی کے سابقہ ریکارڈ پر تشویش ظاہر کی۔

انہوں نے کہا کہ "ICE پہلے ہی شفافیت کی دھجیاں اڑا کر ان بچوں اور خاندانوں کی زندگی برباد کر رہا ہے جو کسی کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔ مجھے سخت تشویش ہے کہ ICE اسپائی ویئر، چہرہ شناسائی اور دیگر ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے امریکیوں کے حقوق کو مزید پامال کرے گا، خصوصاً اُن لوگوں کے جنہیں ڈونلڈ ٹرمپ دشمن قرار دیتے ہیں۔”

سائبر سیکیورٹی ماہرین بھی خبردار کر رہے ہیں کہ امریکی اداروں کی بڑی تعداد ایسے خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ سِٹیزن لیب کے محقق جان اسکاٹ-ریئلٹن نے کہا کہ ”کوئی محفوظ نہیں ہے—نہ اسپتال، نہ وکلاء اور جج، نہ سیاست دان، اور یقیناً عام شہری بھی نہیں۔ امریکہ کو اس وقت خاموش اسپائی ویئر وبا کی ہرگز ضرورت نہیں۔“

مقبول مضامین

مقبول مضامین