اسلام آباد(مشرق نامہ):
انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبیانتو پیر کے روز دو روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچے۔ یہ ان کا پہلا دورۂ پاکستان ہے، جو انہوں نے 20 اکتوبر 2024 کو منصبِ صدارت سنبھالنے کے بعد کیا ہے۔
صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نور خان ایئربیس پر انڈونیشین صدر کا پرتپاک استقبال کیا، جہاں انہیں مکمل سرکاری اعزاز بھی دیا گیا۔ وفاقی کابینہ کے ارکان اور اعلیٰ سرکاری حکام بھی معزز مہمان کے استقبال کے لیے موجود تھے۔
طیارے سے اترتے ہی صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے صدر پرابوو کا گرمجوشی سے خیرمقدم کیا۔ بچوں نے روایتی لباس میں ملبوس ہو کر پھول پیش کیے، جبکہ دیگر بچوں نے دونوں ممالک کے پرچم لہرا کر خوشی کا اظہار کیا۔ انڈونیشین صدر کو ریاستی پروٹوکول کے طور پر 21 توپوں کی سلامی دی گئی۔
صدر پرابوو سبیانتو وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔ یہ ان کا پہلا سرکاری دورہ ہے، جبکہ کسی انڈونیشین صدر کا آخری دورہ 2018 میں ہوا تھا جب صدر جوکو ویدودو پاکستان آئے تھے۔
یہ دورہ اس اعتبار سے خصوصی اہمیت رکھتا ہے کہ پاکستان اور انڈونیشیا اس سال اپنے سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل کر رہے ہیں۔
اپنے قیام کے دوران صدر پرابوو وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ وزیراعظم ہاؤس میں وفود کی سطح پر مذاکرات کریں گے۔ وہ صدر آصف علی زرداری سے بھی ملاقات کریں گے۔ صدر زرداری منگل کے روز انڈونیشین صدر کو نشانِ پاکستان عطا کریں گے اور بعد ازاں ان کے اعزاز میں عشائیہ دیں گے۔
مذاکرات میں تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، صحت، اطلاعاتی ٹیکنالوجی، موسمیاتی تبدیلی، تعلیم، ثقافت اور دیگر اہم شعبوں میں تعاون کے فروغ پر بات چیت ہوگی۔ دونوں ممالک علاقائی اور عالمی سطح پر شراکت داری کو مزید بڑھانے کے طریقوں کا جائزہ بھی لیں گے۔
پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان تعلقات دیرینہ، دوستانہ اور مشترکہ اقدار و مفادات پر مبنی ہیں۔ صدر پرابوو کا یہ دورہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی فائدے کی نئی راہیں کھولنے کا ذریعہ بننے کی توقع ہے۔
روزنامہ دی نیشن سے خصوصی گفتگو میں پاکستان کے سفیر برائے انڈونیشیا زاہد حفیظ چوہدری نے بتایا کہ وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے مذاکرات کے بعد متعدد مفاہمت کی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط ہوں گے۔
ان کے مطابق صحت، تعلیم، تجارت اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھے گا اور انڈونیشین کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کریں گی۔
انہوں نے کہا کہ انڈونیشین صدر کو پاکستان سے خاص محبت ہے، اسی لیے انہوں نے پاکستانی دعوت قبول کرتے ہوئے اسلام آباد کا دورہ کیا۔

