بینکاک/فنوم پین (مشرق نامہ) – تھائی لینڈ نے پیر کے روز اعلان کیا کہ اس نے کمبوڈیا کی سرزمین پر فضائی حملے کیے ہیں، کیونکہ دونوں ممالک کے مابین متنازع سرحد پر مختلف مقامات پر لڑائی بھڑک اٹھی۔ یہ سب اس کے بعد ہوا جب دونوں ریاستوں نے ایک دوسرے پر اس جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات لگائے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے طے ہوئی تھی۔
تھائی فوج کے ترجمان کے مطابق تازہ جھڑپوں میں کم از کم ایک تھائی فوجی ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے ہیں۔ ترجمان نے بتایا کہ جھڑپیں مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 5 بجے (2200 جی ایم ٹی) تیز ہوئیں، جس کے بعد کمبوڈین فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے فضائی مدد طلب کی گئی۔
تھائی فضائیہ نے کہا کہ کمبوڈیا نے بھاری ہتھیار تعینات کیے، جنگی یونٹوں کی از سرِنو پوزیشننگ کی اور سپورٹ عناصر تیار کیے جن سے فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہو سکتا تھا۔
بیان میں کہا گیا کہ ’’یہ پیش رفتیں فضائی قوت کے استعمال کا سبب بنیں تاکہ کمبوڈیا کی فوجی صلاحیتوں کو روکنے اور کم کرنے کے اقدامات کیے جا سکیں۔‘‘
کمبوڈیا کی وزارتِ دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ تھائی فوج نے دو مقامات پر اس کی پوزیشنز پر علی الصبح حملے کیے ہیں، جو اس کے بقول کئی دن کی اشتعال انگیزیوں کے بعد ہوئے، جبکہ کمبوڈین فوج نے کسی قسم کا جواب نہیں دیا۔
کمبوڈیا کے طاقتور سابق طویل المدتی رہنما ہن سین—جو موجودہ وزیراعظم ہن مانیت کے والد ہیں—نے کہا کہ تھائی فوج ’’جارح‘‘ کے طور پر کام کر رہی ہے اور وہ کمبوڈیا کو جوابی کارروائی پر مجبور کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کمبوڈین فورسز سے تحمل کے ساتھ کام کرنے کی اپیل کی۔
انہوں نے فیس بک پر لکھا کہ جوابی کارروائی کے لیے سرخ لکیر پہلے ہی مقرر کی جا چکی ہے، تاہم اس کی وضاحت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ میں تمام سطحوں کے کمانڈروں پر زور دیتا ہوں کہ تمام افسران اور سپاہیوں کو اس بارے میں مناسب رہنمائی دیں۔
ایک اعلیٰ صوبائی عہدیدار کے مطابق اب تک تین کمبوڈین شہری لڑائی کے دوران شدید زخمی ہوئے ہیں۔ وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس کی فوج نے اب تک کوئی جوابی کارروائی نہیں کی۔
دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ سرحدی تنازعہ رواں سال جولائی میں پانچ روز تک جاری رہنے والی جھڑپوں میں بدل گیا تھا، جس کے بعد ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم اور ٹرمپ کی ثالثی سے جنگ بندی طے پائی۔ اکتوبر میں دونوں ممالک کے درمیان کوالالمپور میں ایک توسیع شدہ امن معاہدے پر بھی دستخط کیے گئے، جس کی گواہی ٹرمپ نے بھی دی تھی۔

