مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – بینن کے صدر پیٹریس تالون نے کہا ہے کہ وفادار سکیورٹی فورسز نے بغاوت پر آمادہ فوجیوں کی جانب سے انہیں ہٹانے کی کوشش ناکام بنا دی۔ مغربی افریقی ریاستوں کی تنظیم ایکوواس نے اس ناکام بغاوت کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’’غیر آئینی‘‘ اور عوامی مینڈیٹ کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
اتوار کے روز ایک گروہ نے چند گھنٹوں کے لیے سرکاری ٹیلی ویژن کا کنٹرول سنبھال لیا اور اعلان کیا کہ صدر تالون کو ہٹا دیا گیا ہے، آئین معطل ہے، ریاستی ادارے تحلیل کر دیے گئے ہیں، فضائی و زمینی سرحدیں بند کر دی گئی ہیں، اور ملک کی نئی ’’ریفاؤنڈیشن کمیٹی‘‘ کی سربراہی لیفٹیننٹ کرنل پاسکل ٹِگری کو دی جا رہی ہے۔
باغی فوجیوں نے اس اقدام کی وجہ شمالی بینن کی بگڑتی سکیورٹی صورتحال اور اپنے ’’شہید ساتھیوں کی ناقدری اور عدم توجہ‘‘ کو قرار دیا۔ صدر کی رہائش گاہ کے قریب اور تجارتی مرکز کوٹونو کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں، جبکہ غیر ملکی سفارتخانوں نے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایات جاری کیں۔
صدر تالون بعد ازاں قومی ٹیلی ویژن پر نمودار ہوئے اور اعلان کیا کہ وفادار فورسز نے ’’باغیوں کی آخری مزاحمتی جیبیں بھی صاف کر دی ہیں۔‘‘ انہوں نے ناکام بغاوت کا الزام ’’فوجیوں کے ایک چھوٹے گروہ‘‘ پر عائد کیا، جن کے مطابق وہ ’’جھوٹے دعوؤں‘‘ کے ذریعے ریاست اور اس کے اداروں کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے تھے۔ حکومت کے مطابق بغاوت کی ناکام کوشش کے سلسلے میں 14 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب 12 اپریل 2026 کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں تالون کی دوسری مدتِ صدارت ختم ہونا ہے۔ وہ 2016 سے ملک کی قیادت کر رہے ہیں۔
اتوار کی یہ ناکام بغاوت 1972 کے بعد بینن میں پہلی مرتبہ ہے، جبکہ خطۂ غربی افریقہ 2020 کے بعد سے مسلسل فوجی تحویلوں کی لہر کا شکار ہے۔ اس عرصے میں مالی، گنی، برکینا فاسو، نائجر، گبون اور گزشتہ ماہ گنی بِساو میں حکومتی تبدیلیاں دیکھنے میں آ چکی ہیں۔
ایکوواس کا کہنا ہے کہ اس نے نائجیریا، سیرالیون، آئیوری کوسٹ اور گھانا کے دستوں پر مشتمل ایک اسٹینڈ بائی فورس کی تعیناتی کی منظوری دی ہے، جو بینینی فوج کی ’’آئینی نظم و نسق اور علاقائی سالمیت کے تحفظ‘‘ میں مدد کرے گی۔

