مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – روسی صدارتی دفتر نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جاری کی جانے والی تازہ ترین قومی سلامتی حکمتِ عملی (NSS) کے بعض حصے روسی نقطۂ نظر سے مطابقت رکھتے ہیں۔
جمعرات کے روز وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کیے گئے 33 صفحات پر مشتمل اس نئے دستاویز میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن یوکرین میں دشمنیوں کے جلد خاتمے کے لیے مذاکرات کا خواہاں ہے اور روس اور یورپی ریاستوں کے درمیان تنازع کے خطرات کم کرنا امریکی ترجیحات میں شامل ہے۔ اس حکمتِ عملی میں یہ ہدف بھی شامل کیا گیا ہے کہ نیٹو کے مستقل پھیلاؤ کے تاثر اور حقیقت دونوں کا خاتمہ کیا جائے۔
اتوار کے روز نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے وی جی ٹیار کی کے صحافی پاویل زاروبین سے گفتگو میں کہا کہ ٹرمپ کی یہ پالیسی ’’پچھلی امریکی حکومتوں کے مقابلے میں خاصی بڑی تبدیلی‘‘ ہے، اور ’’ان میں سے بہت سی باتیں ہمارے نقطۂ نظر سے ہم آہنگ ہیں۔‘‘
پیسکوف کے مطابق نئی حکمتِ عملی میں تصادم کے بجائے مذاکرات، اور اچھے تعلقات برقرار رکھنے کی بات کی گئی ہے، جو عین وہی مؤقف ہے جس پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن بھی زور دیتے ہیں۔
پیسکوف نے یہ بھی کہا کہ یہ دستاویز یوکرین کے حوالے سے پُرامن حل کی طرف تعمیری پیش رفت کی امید دیتی ہے، تاہم ان کے مطابق امریکی ’’ڈیپ اسٹیٹ‘‘ ٹرمپ کی اس حکمتِ عملی کو کمزور کرنے کی کوشش کر سکتی ہے، اسی لیے روس اس کی عمل درآمد پر محتاط نظر رکھے گا۔
روس نے ٹرمپ کی اُس پالیسی کو بھی سراہا ہے جس کے تحت سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے دور میں منقطع ہونے والے براہِ راست رابطوں کی بحالی ممکن ہوئی، اور یوکرین سے متعلق امن مذاکرات کی سہولت کاری بھی سامنے آئی ہے۔
نئی امریکی حکمتِ عملی یوکرین کے یورپی حامی ممالک کو سخت تنقید کا نشانہ بناتی ہے اور کہتی ہے کہ وہ ’’غیر حقیقی توقعات‘‘ رکھتے ہیں، جن کی حکومتیں ’’غیر مستحکم اقلیتی اکثریت‘‘ پر کھڑی ہیں اور ’’تہذیبی زوال‘‘ کے خدشات کا سامنا کر رہی ہیں۔
یورپی یونین کے چند ممالک نے ان الزامات کو کم اہمیت دیتے ہوئے رد کیا ہے۔ جرمن وزیرِ خارجہ یوہان واڈیفُل نے کہا کہ یورپی ممالک ’’ان معاملات پر مستقبل میں خود بحث و مباحثہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘‘ اور انہیں ’’بیرونی مشورے کی ضرورت نہیں۔‘‘
اگر چاہو ہانی، میں اس نئی امریکی حکمتِ عملی کے روس–امریکہ تعلقات، یورپی سیاست اور یوکرین جنگ کے توازنِ طاقت پر اثرات کا ایک مختصر مگر گہرا تجزیہ بھی دے دوں۔

