اسلام آباد(مشرق نامہ):
کیا تقریباً ایک دہائی قبل مسلم لیگ (ن) حکومت کی جانب سے ایل این جی درآمدات کا آغاز ایک غلط فیصلہ تھا؟ موجودہ حالات دیکھ کر یہ سوال شدت سے ابھرتا ہے۔
حال ہی میں پاکستان اور قطر نے ایک سمجھوتہ کیا ہے جس کے تحت 2026 میں پاکستان کے لیے مختص 24 ایل این جی کارگو اب دیگر ممالک کو بھیجے جائیں گے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس سے 1,000 ارب روپے کی بچت ہوگی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 2015 میں بھی یہی دعویٰ کیا گیا تھا—جب مسلم لیگ (ن) نے قطر کے ساتھ پہلا ایل این جی معاہدہ کیا—کہ ملک کو فرنس آئل کے مقابلے میں 1 ارب ڈالر کی بچت ہوگی۔
قانونی تقاضے پورے کیے بغیر ایل این جی معاہدے
اس وقت حکومت اتنی جلدی میں تھی کہ اس نے پی ایس او کے مینیجنگ ڈائریکٹر کو صرف اس بات پر ہٹا دیا کہ وہ تمام قانونی تقاضے مکمل کرنے پر زور دے رہے تھے، جن میں:
- سپلائر
- پاور پلانٹس
- صارفین
کے درمیان “بیک ٹو بیک” معاہدے شامل تھے۔
صورتحال مزید خراب اس وقت ہوئی جب تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں قطر سے اضافی چار کارگو ماہانہ خریدنے کا دوسرا معاہدہ بھی کر لیا گیا، حالانکہ ملکی طلب و رسد پہلے ہی عدم توازن کا شکار تھی۔
آڈیٹر جنرل کی نشاندہی — کوئی جامع منصوبہ بندی نہیں
آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے بعد میں اپنی رپورٹ میں واضح کہا کہ:
- کسی اسٹیک ہولڈر نے جامع منصوبہ بندی نہیں کی۔
- ایل این جی کو “ٹیک یا پے” بنیاد پر مضبوط معاہدوں کے تحت سپلائی ہونا چاہیے تھا۔
- مگر آئی پی پیز کے ساتھ کوئی مضبوط معاہدہ نہیں ہوا۔
- سرکاری پاور پلانٹس کے ساتھ بھی صرف 66% ٹیک یا پے معاہدے کیے گئے، پورے 100% نہیں۔
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ:
- PSO
- SSGC
- SNGPL
تینوں ادارے مالیاتی دیوالیہ پن کے خطرے میں آگئے۔
مسابقتی کمیشن کے اعتراضات
حالیہ دنوں میں مسابقتی کمیشن آف پاکستان (CCP) نے بھی ایل این جی شعبے میں:
- مختلف رکاوٹوں
- غیر مسابقتی پالیسیاں
کی نشاندہی کی ہے اور حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ:
- سرکاری گیس کمپنیوں کو اَن بَنڈل کیا جائے
- ریگولیشن مضبوط کی جائے
- نجی شعبے کو داخلے کی اجازت دی جائے
لُوبیز کا کردار — ایل این جی بمقابلہ درآمدی کوئلہ
ایل این جی درآمدات کے آغاز میں دو مضبوط لابیاں سرگرم تھیں:
- ایل این جی لابی
- درآمدی کوئلے پر مبنی بجلی گھروں کی لابی
دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں لابیاں کامیاب ہوئیں، اور:
- ایل این جی درآمد بھی شروع ہوئی
- ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹ بھی لگے
- درآمدی کوئلہ منصوبے بھی لگ گئے
لیکن بعد میں دونوں ہی منصوبے ناکام ثابت ہوئے اور بوجھ حکومت پر پڑ گیا۔
ایل این جی درآمدات کے نقصان
ایل این جی نے:
- صارفین کے لیے توانائی کو مہنگا کر دیا
- مقامی گیس کی فراہمی میں شدید کٹوتیاں کرائیں
- گھریلو تیل و گیس کمپنیوں کو مالی بحران میں ڈال دیا
اس وقت:
- صارفین پر رواں مالی سال 242 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑا ہے
- مقامی کمپنیاں وزیر اعظم کو شکایات کر رہی ہیں
- نئی سرمایہ کاری اور نئی دریافتوں کا عمل روک دیا گیا ہے
گیس شعبے کا گردشی قرض — 2.6 کھرب روپے
سرکاری گیس کمپنیاں سردیوں میں بحران کے دوران درآمدی ایل این جی گھریلو صارفین کو دے دیتی ہیں، جبکہ:
- کوئی قانونی فریم ورک موجود نہیں
- قیمت وصول نہیں ہو سکتی
- گردشی قرض بڑھتا جاتا ہے
اور آج گیس سیکٹر کا گردشی قرض 2.6 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا ہے — جو توانائی کے پورے شعبے کو جام کر چکا ہے۔
اس کا اثر — OGDC سمیت پوری ایکسپلوریشن انڈسٹری مفلوج
گردشی قرض کے باعث:
- نئی گیس دریافتوں کا عمل رک گیا
- غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ جوائنٹ وینچرز متاثر
- مستقبل کا توانائی نظام خطرے میں
حل — ماہرین کی تجاویز
- دو گیس یوٹیلیٹیز (SSGC, SNGPL) کو ٹکڑوں میں تقسیم (unbundle) کیا جائے
تاکہ نقصانات کم ہوں اور شفافیت بڑھے۔ - گیس کمپنیوں کا ریٹرن فارمولہ تبدیل کیا جائے
کیونکہ موجودہ “گیارنٹیڈ ریٹ آف ریٹرن” بنیادی طور پر نقصاندہ ہے۔ - گیس مارکیٹنگ اور تقسیم میں نجی شعبے کی بھرپور شمولیت
نئے گیس فیلڈز کی 35% پیداوار پہلے ہی نجی شعبے کو دینے کی اجازت ہے۔ - گیس کا نیٹ ورک اور نہ پھیلایا جائے
اس سے گردشی قرض بڑھے گا۔ - گھریلو شعبے میں ایل پی جی کے استعمال کو فروغ دیا جائے
یہ سستا، قابلِ عمل اور نیٹ ورک پر بوجھ کم کرتا ہے۔ - وزن دار اوسط قیمتِ گیس (WACOG) کا اطلاق
تاکہ اصل لاگت ریکور کی جا سکے۔

