مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – قطر اور مصر، جو غزہ میں جنگ بندی کے ضامن ممالک ہیں، نے ہفتے کے روز اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ سے اپنی فوج نکالے اور وہاں ایک بین الاقوامی استحکام فورس تعینات کی جائے، تاکہ نازک جنگ بندی سمجھوتے پر مکمل عمل درآمد ممکن ہو سکے۔
دوحہ فورم میں ایک پینل گفتگو کے دوران قطری وزیرِ اعظم محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے کہا کہ ثالث اس وقت جنگ بندی کے اگلے مرحلے کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، اور اسی مرحلے میں ان اقدامات کی وضاحت کی گئی ہے۔ تاہم، اسرائیل اور حماس ابھی تک ابتدائی مرحلے سے آگے بڑھنے کے طریقۂ کار پر متفق نہیں ہو سکے۔
ابتدائی مرحلے کے دوران اسرائیلی افواج غزہ کے اندر ایک مقررہ "پیلی لکیر” کے پیچھے ہٹ گئیں، جبکہ حماس نے اپنی تحویل میں موجود تمام زندہ یرغمالیوں کو رہا کیا اور تمام مقتول قیدیوں کی میتیں، سوائے ایک کے، واپس کر دیں۔
قطری وزیرِاعظم نے کہا کہ ہم ایک نازک موڑ پر کھڑے ہیں۔ ابھی ہم اس مقام تک نہیں پہنچے۔ جو کچھ ہم نے ابھی تک حاصل کیا ہے وہ محض ایک توقف ہے۔
انہوں نے کہا کہ مکمل جنگ بندی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا نہ ہو، غزہ میں استحکام بحال نہ ہو، اور لوگوں کے آنے جانے کا معمول پھر سے قائم نہ ہو – جو اس وقت ممکن نہیں۔
قطر نے مصر اور امریکہ کے ساتھ مل کر وہ جنگ بندی معاہدہ طے کرایا تھا جو 10 اکتوبر سے نافذ ہے۔ اگرچہ اس سے لڑائی میں کمی آئی ہے، اسرائیل نے محاصرہ زدہ علاقے پر بمباری جاری رکھی، جس کے نتیجے میں 600 جنگ بندی خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں، جن میں 360 سے زائد افراد شہید اور 900 زخمی ہوئے۔
فلسطینی مقامی صحت حکام کے مطابق ہفتے کو شمالی غزہ کے علاقوں بیت لحیہ اور جبالیا میں اسرائیلی فائرنگ سے پانچ افراد جاں بحق ہوئے۔
بین الاقوامی استحکام فورس
ابھی تک زیرِالتوا دوسرا مرحلہ اس بات پر مشتمل ہے کہ اسرائیل اپنی باقی ماندہ پوزیشنوں سے نکلے، ایک عبوری انتظامیہ قائم ہو، اور ایک بین الاقوامی استحکام مشن تعینات کیا جائے۔
دوحہ فورم میں خطاب کرتے ہوئے مصری وزیرِ خارجہ بدر عبدالطیف نے کہا کہ ہمیں اس فورس کو جلد از جلد تعینات کرنا ہوگا، کیونکہ فریقین میں سے ایک—یعنی اسرائیل—روزانہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ترکی کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے بھی کہا کہ استحکام فورس کے حوالے سے بات چیت جاری ہے، اور اس کے قیادت کرنے والے ممالک اور شریک ممالک کے متعلق بڑے سوال ابھی تک حل طلب ہیں۔
فیدان نے کہا کہ فورس کا بنیادی مقصد "فلسطینیوں کو اسرائیلیوں سے جدا رکھنا” ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ہمارا بنیادی ہدف ہونا چاہیے، اس کے بعد ہی دیگر مسائل پر بات ہو سکتی ہے۔
مصری وزیرِ خارجہ نے بھی اس سے اتفاق کرتے ہوئے زور دیا کہ فورس کو "پیلی لکیر کے ساتھ” تعینات کیا جائے تاکہ جنگ بندی کی تصدیق اور نگرانی ہو سکے۔
ترکی نے اس فورس میں شامل ہونے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، لیکن اسرائیلی حکومت نے اس کی مخالفت کی ہے۔
بعد ازاں فیدان نے کہا کہ حماس کو غیر مسلح کرنا غزہ میں اولین ترجیح نہیں ہونی چاہیے۔
"غیر مسلح کرنا اس عمل کا پہلا قدم نہیں ہو سکتا۔ ہمیں چیزوں کو صحیح ترتیب میں رکھنا ہوگا اور حالات کو حقیقت پسندانہ نظر سے دیکھنا ہوگا۔”

