جمعرات, فروری 12, 2026
ہومبین الاقوامیاسرائیل خطے میں بحران پھیلا رہا ہے، شامی صدر کا الزام

اسرائیل خطے میں بحران پھیلا رہا ہے، شامی صدر کا الزام
ا

دمشق (مشرق نامہ) – شامی صدر احمد الشرع نے ہفتے کے روز الزام عائد کیا کہ اسرائیل دیگر ممالک میں جان بوجھ کر بحران پیدا کر رہا ہے تاکہ محصور غزہ پٹی میں جاری "خوفناک قتلِ عام” سے عالمی توجہ ہٹائی جا سکے۔

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں منعقدہ دوحہ فورم سے خطاب کرتے ہوئے شرع نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل متعدد مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے خلاف اپنے اقدامات کو "سکیورٹی خدشات” کے بے بنیاد جواز کے تحت درست ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل غزہ میں ہونے والے ’’ہولناک قتلِ عام‘‘ سے بھاگنے کے لیے بحرانوں کو باہر منتقل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ گفتگو انہوں نے سی این این کی بین الاقوامی اینکر کرسٹین امان پور کے ساتھ نشست میں کی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل اب ایسے ملک کی شکل اختیار کر چکا ہے جو ’’بھوتوں سے لڑائی‘‘ کر رہا ہے، اور دعویٰ کیا کہ 7 اکتوبر کے واقعات کو جارحانہ طرزِ عمل کے جواز کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

شرع نے کہا کہ دمشق پہنچنے کے بعد ان کی حکومت نے علاقائی امن اور استحکام سے متعلق مثبت پیغامات دیے تھے اور اس بات پر زور دیا تھا کہ شام تنازع برآمد کرنے والا ملک نہیں بننا چاہتا، "اسرائیل کے لیے بھی نہیں‘‘۔

ان کے مطابق، اس کے جواب میں اسرائیل نے ’’انتہائی تشدد‘‘ سے پیش آیا اور 8 دسمبر 2024 کو اسد حکومت کے خاتمے کے بعد سے اب تک ایک ہزار سے زائد فضائی حملے اور چار سو زمینی کارروائیاں کی ہیں۔

عبوری صدر نے یہ مطالبہ بھی دہرایا کہ اسرائیل ان تمام علاقوں سے انخلا کرے جن پر اس نے اس دوران قبضہ کیا ہے، اور دعویٰ کیا کہ اس انخلا کے لیے امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔

اسد حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیلی فورسز جنوبی شام میں داخل ہو گئیں تھیں اور اب تک اقوامِ متحدہ کے بفر زون — جبلِ الشیخ (ماؤنٹ ہیئرمن) کی اسٹریٹجک بلندیوں — پر قابض ہیں، جو اسرائیل، لبنان اور شام پر نظر رکھتی ہیں۔

اسی ہفتے کے اوائل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے لیے ایک مبہم تنبیہ جاری کی تھی اور کہا تھا کہ اسرائیل کو شام کی ’’ارتقائی پیش رفت‘‘ میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے، جب اسرائیلی حملے میں ایک درجن سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ امریکا شام میں ’’نتائج سے بہت مطمئن‘‘ ہے، جو ’’انتہائی محنت اور عزم‘‘ کے ذریعے سامنے آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے لیے ضروری ہے کہ وہ شام کے ساتھ ’’مضبوط اور بامعنی مکالمہ‘‘ برقرار رکھے اور کوئی ایسا اقدام نہ کرے جو شام کے ’’ایک خوشحال ریاست کی طرف ارتقا‘‘ میں خلل ڈالے۔

’پائیدار امن‘

ہفتے کے روز اپنی گفتگو میں شرع نے 1974 کے اسرائیل-شام فوجی علیحدگی معاہدے کی حمایت کا اعادہ کیا اور خبردار کیا کہ اس معاہدے سے چھیڑ چھاڑ یا اسے بدل کر ’’غیر فوجی علاقہ‘‘ جیسی نئی تجاویز لانا ’’انتہائی خطرناک صورتحال‘‘ پیدا کر سکتا ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر شامی فوج یا شامی سکیورٹی فورسز موجود نہ ہوں تو ’’اس بفر زون یا غیر فوجی علاقے کی حفاظت کون کرے گا؟‘‘

شرع نے یہ بھی کہا کہ سابقہ اسدی حکومت ملک میں گہری فرقہ وارانہ تقسیم چھوڑ کر گئی تھی، جبکہ ان کی انتظامیہ نے ’’سالمیت اور معافی‘‘ کو ترجیح دی تاکہ ملک میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔

انہوں نے اقتصادی بحالی کو استحکام کا بنیادی محرک قرار دیا اور بتایا کہ واشنگٹن کو سیزر ایکٹ کی پابندیاں ختم کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو ان کے بقول سابق حکومت کو سزا دینے کے لیے عائد کی گئی تھیں۔

چیلنجز کے باوجود، شرع نے اصرار کیا کہ شام ’’استحکام اور معاشی نمو کی مثبت راہ‘‘ پر گامزن ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج حکومت میں ہر فرد کی نمائندگی ’’صلاحیت کی بنیاد پر‘‘ ہو رہی ہے، نہ کہ فرقہ وارانہ بنیادوں پر، اور اسے ایک نئے راستے کے طور پر بیان کیا جس سے دوسرے ممالک جنگوں اور بحرانوں کے بعد نظم و نسق چلانے کا ہنر سیکھ سکتے ہیں۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ شام کی تعمیر نو شخصیات سے وابستہ نہیں بلکہ اداروں سے جڑی ہے، اور اسے ’’اس عبوری مرحلے کا سب سے بڑا چیلنج‘‘ قرار دیا جس سے ملک گزر رہا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین