مصنف: پیٹر اوبورن
میں نے پہلی بار دو دہائیاں قبل منی مناوی کو دیکھا تھا۔ اُس وقت وہ دارفور کے عوام کو خرطوم میں قائم سوڈانی حکومت کی حمایت یافتہ جنجوید ملیشیا سے بچانے کی کوشش کرنے والے ایک باغی رہنما تھے۔
گزشتہ ہفتے میں نے مناوی کو دوبارہ پورٹ سوڈان میں دیکھا، جو خرطوم کے سقوط کے بعد سوڈانی مسلح افواج اور ان کے اتحادیوں کی نمائندگی کرنے والی ڈی فیکٹو حکومت کا عارضی مرکز بن چکا ہے۔ لیکن وہ اب باغی نہیں رہے: دارفور کے گورنر کی حیثیت سے وہ پورٹ سوڈان کی “حکومتِ امید” کا مضبوط حصہ ہیں۔
تاہم اُن کا دشمن تبدیل نہیں ہوا۔ مناوی اب بھی انہی جنجوید لڑاکوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں جو بیس برس قبل اُن کے مہلک دشمن تھے۔
دارفور میں تنازعہ کے تھم جانے کے بعد، 2013 میں سابق صدر عمر البشیر کی حکومت نے جنجوید کو ایک نیم فوجی گروہ میں تبدیل کرنے اور اسے ریاستی ڈھانچے میں شامل کرنے کی کوشش کی، جس کے تحت اسے ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کا نام دیا گیا۔
2017 میں سوڈانی پارلیمان نے ایک مسودۂ قانون منظور کیا جس کے تحت آر ایس ایف کو فوج کے ساتھ منسلک کیا گیا۔ لیکن آر ایس ایف اور ریاست کے درمیان یہ وقتی مفاہمت زیادہ دیر نہ چل سکی۔ 2019 میں عوامی احتجاج کے ذریعے البشیر کے ہٹائے جانے کے بعد ایک مشترکہ فوجی و سول حکومت تشکیل دی گئی، تاکہ سوڈان کے لیے ایک نیا راستہ متعین کیا جا سکے۔ تاہم دو سال بعد یہ حکومت بھی ختم ہوگئی۔
2021 کی بغاوت سوڈانی فوج کے کمانڈر جنرل عبدالفتاح البرہان اور آر ایس ایف کے سربراہ جنرل محمد حمدان دگالو، المعروف حمیدتی، نے کی۔ آنے والے مہینوں میں آر ایس ایف کو فوج میں ضم کرنے کے معاملے پر دونوں رہنماؤں کے درمیان طاقت کی کشمکش شروع ہوئی — اور اپریل 2023 میں یہ کشیدگی کھلی جنگ میں بدل گئی۔ جنگ کے چند ماہ بعد البرہان نے ستمبر میں ایک فرمان جاری کرکے آر ایس ایف کو تحلیل کرنے کا اعلان کیا۔
لیکن تب تک آر ایس ایف ایک زیادہ طاقتور، دوبارہ منظم اور بھاری اسلحے سے لیس گروہ بن چکا تھا — جسے متحدہ عرب امارات جیسا بااثر اور مالدار بین الاقوامی سرپرست حاصل تھا۔
تب سے سوڈان ایک پراکسی جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ کم از کم ایک لاکھ پچاس ہزار سوڈانی شہری — اور غالباً اس سے بھی زیادہ — ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ تقریباً 1 کروڑ 20 لاکھ لوگ اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں۔
دہشت کی حکمرانی
زیادہ تر مبصرین اس تنازعے کو دو ایسے حریفوں کے درمیان طاقت و دولت کی جنگ سمجھتے ہیں جن میں کوئی بھی بہتر نہیں۔ مگر سوڈان میں ایک ہفتے کے سفر کے دوران جو کچھ میں نے دیکھا اور سنا، اس کی بنیاد پر میں سمجھتا ہوں کہ اس تجزیے کو فوری چیلنج کرنے کی ضرورت ہے۔
آر ایس ایف خود کو سیکولر جمہوریت کا حمایتی ظاہر کرتا ہے۔ گزشتہ برس انہوں نے بعض شہری سیاسی شخصیات کے ساتھ مل کر “سوڈان فاؤنڈنگ الائنس” (تأسِیس) تشکیل دی، جن میں ایس پی ایل ایم/اے نارتھ کے ایک دھڑے کے رہنما عبدال عزیز الحلو بھی شامل ہیں، جو ایک سیکولر سوڈانی ریاست کے پرزور حامی ہیں۔
تاہم زمینی حقائق پر آر ایس ایف کا طرزِ عمل ان دعوؤں کو مکمل طور پر بے معنی ثابت کرتا ہے۔
اس نیم فوجی گروہ کے جنگجوؤں پر قتلِ عام، اغوا، اجتماعی عصمت دری، جنسی غلامی، تشدد اور نسلی تطہیر کے الزامات ہیں۔ وہ اپنی بربریت کی کچھ ویڈیوز خود بنا کر آن لائن نشر کرتے ہیں۔ وہ سوڈان کے ثقافتی ورثے کو لوٹتے اور تباہ کرتے ہیں، جیسا کہ خرطوم کے سوڈانی نیشنل میوزیم کی بربادی سے ظاہر ہے۔
وہ اپنے دشمنوں کو نسلی یا قبائلی بنیادوں پر نشانہ بناتے ہیں۔ سماجی امور کی وزیر سلیمہ اسحاق نے ہمیں بتایا کہ آر ایس ایف کے اہلکار خواتین کو “فلول” (تقریباً مطلب: پرانا نظام) کہہ کر گالی دیتے ہیں اور پھر اُنہیں جنسی تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔
یہ سب اس جانب واضح اشارہ کرتا ہے کہ آر ایس ایف کے جنگجو نسل کشی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ وہ لوٹتے ہیں، مارتے ہیں اور دہشت کی حکمرانی قائم کرتے ہیں — اور یہی وجہ ہے کہ آر ایس ایف کے خرطوم پر قبضے کے بعد شہریوں کی بڑے پیمانے پر ہجرت ہوئی۔
گزشتہ ہفتے ام درمان میں رات کے کھانے کے دوران، سوڈانی فوج کے ڈپٹی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل یاسر العطا نے آر ایس ایف کا موازنہ چنگیز خان کی منگول فوج سے کیا، جو قرون وسطیٰ میں ایشیا بھر میں دہشت پھیلاتی رہی۔ یہ موازنہ بے جا نہیں۔
سوڈانی فوج پر بھی شہری علاقوں میں مبینہ طور پر اندھا دھند فضائی حملوں کے ذریعے جنگی جرائم کے الزامات ہیں، لیکن ان کا پیمانہ آر ایس ایف کے برابر نہیں، جو حال ہی میں شمالی دارفور کے دارالحکومت الفاشر پر خونریز حملے کے بعد قبضہ کر چکا ہے۔
سوشل میڈیا پر اس کی بربریت کی ویڈیوز دیکھ کر نیند اڑ جائے۔ اقوام متحدہ نے اب سوڈان کو دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔
اور ان مظالم کی قیادت وہی لوگ کر رہے ہیں جو دو دہائیاں قبل دارفور میں قتلِ عام کے ذمہ دار تھے۔ آر ایس ایف کی صفوں میں مبینہ طور پر پڑوسی ممالک — چاڈ، مالی اور لیبیا — کے کرائے کے جنگجو بھی شامل ہیں۔ بچ جانے والے شہریوں نے مجھے بتایا کہ اُن کے کچھ حملہ آور ایسی زبانیں بول رہے تھے جو وہ سمجھ نہیں سکتے تھے۔
“خاموشی خریدی گئی”
دو دہائیاں قبل حمیدتی، دارفور میں جنجوید کے جنگی سرداروں میں شامل تھا۔ اب آر ایس ایف کا فوجی سربراہ ہونے کے ناطے وہ نہ صرف دارفور بلکہ پورے سوڈان کو تباہ کر رہا ہے۔
بہت سے سوڈانی شہریوں کی نظر میں یہ محض بے ترتیب تشدد نہیں۔ العطا کا کہنا ہے کہ حمیدتی کے آر ایس ایف جنگجو مقامی لوگوں کو “نسل اور قومیت” کی بنیاد پر نشانہ بناتے ہیں، جس کا مقصد نسلی بے دخلی اور نسلی انجینئرنگ ہے۔
تاہم یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ یہ جنگ دراصل وسائل پر قبضے کی جنگ ہے، جس میں شہریوں کی زندگیاں بے وقعت ہو چکی ہیں۔
آر ایس ایف کو “متحدہ عرب امارات کے ہاتھوں میں ایک آلہ” قرار دیتے ہوئے، العطا نے سوڈان میں ہونے والے ہولناک واقعات پر عالمی خاموشی کی سخت مذمت کی۔
انہوں نے کہا: “یہ خاموشی امارات کے پیسے کی طاقت سے خریدی گئی ہے۔” انہوں نے برطانیہ — جو سوڈان کا سابق نوآبادیاتی حکمران بھی ہے اور اقوام متحدہ میں سوڈان کے معاملات کا قلمبردار بھی — کو خاص طور پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ اور یہ بات سمجھنا مشکل نہیں۔
جون 2024 میں دی گارڈین نے رپورٹ کیا تھا کہ “برطانوی سرکاری اہلکار” متحدہ عرب امارات پر تنقید دبانے کی کوشش کر رہے تھے، جو مبینہ طور پر سوڈان میں نسلی تطہیر کرنے والی بدنام ملیشیا کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے — ان الزامات کی تردید برطانوی دفترِ خارجہ نے کی ہے۔
یہ بھی اشارے ملتے ہیں کہ برطانوی فوجی ساز و سامان آر ایس ایف کے ہاتھوں تک پہنچ چکا ہے۔ کیمپین اگینسٹ آرمز ٹریڈ کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ نے امارات کو اسلحہ کی فروخت میں نمایاں اضافہ کیا ہے، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ امارات اس اسلحے کو آر ایس ایف کو منتقل کر رہا ہے۔ برطانوی ساختہ انجن آر ایس ایف کے زیرِ استعمال بکتر بند گاڑیوں میں بھی پائے گئے ہیں۔
دارفور میں جاری نسل کشی میں مبینہ شمولیت کے الزامات پر برطانوی وزراء نہ صرف امارات کی مذمت کرنے سے انکاری ہیں، بلکہ وہ اس معاملے میں امارات کا نام تک لینے کے لیے تیار نہیں — جیسا کہ پارلیمانی مباحثوں کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے۔
اس کی وجہ سمجھنا آسان ہے: امارات مشرقِ وسطیٰ میں برطانیہ کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، اور برطانیہ میں بڑا سرمایہ کار بھی — خاص طور پر مانچسٹر سٹی فٹبال کلب کے ذریعے۔
حتمی انکشاف
مکمل شفافیت کے لیے: ہمارے سوڈان کے سفر کے دوران، مڈل ایسٹ آئی کے ساتھ ایسے رہنما بھی موجود تھے جو سوڈانی حکومت کے ہمدرد تھے اور جنہیں سوڈانی فوج تک آسان رسائی حاصل تھی۔
ہم نے باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں کا سفر نہیں کیا۔ ہم نے لندن میں اماراتی سفارتخانے سے بھی رابطہ کیا، لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
اس دوران، جیسے جیسے آر ایس ایف کے شہریوں اور ثقافتی اداروں پر وحشیانہ حملوں کے شواہد بڑھ رہے ہیں، ایک واضح تصویر سامنے آ رہی ہے: ایک جاری نسل کشی — جسے امارات کی پشت پناہی اور برطانیہ کی خاموش تائید حاصل ہے۔ اس کی غزہ سے مماثلتیں خوفناک حد تک واضح ہو رہی ہیں۔

