جمعرات, فروری 12, 2026
ہومبین الاقوامیآسٹریلیا کی طالبان حکام پر پابندیاں

آسٹریلیا کی طالبان حکام پر پابندیاں
آ

سڈنی(مشرق نامہ): آسٹریلیا نے افغانستان کی طالبان حکومت کے چار اعلیٰ حکام پر مالی پابندیاں اور سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ آسٹریلیا کا کہنا ہے کہ افغانستان میں بالخصوص خواتین اور لڑکیوں کے لیے انسانی حقوق کی صورتحال مسلسل خراب ہو رہی ہے۔

آسٹریلیا کی وزیرِ خارجہ پینی وونگ نے کہا کہ یہ حکام “خواتین اور لڑکیوں پر ظلم و ستم، اور اچھی حکمرانی اور قانون کی بالادستی کو نقصان پہنچانے” میں ملوث رہے ہیں۔

آسٹریلیا بھی ان ممالک میں شامل تھا جنہوں نے اگست 2021 میں افغانستان سے اپنی فوجیں نکال لی تھیں۔ یہ افواج دو دہائیوں تک طالبان کے خلاف لڑتی رہیں اور نیٹو کی زیرِ قیادت اس بین الاقوامی فورس کا حصہ تھیں جس نے افغان سکیورٹی فورسز کو تربیت بھی دی۔

طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے انہیں خصوصاً خواتین کی تعلیم اور ملازمت پر پابندی سمیت ان کے حقوق اور آزادیوں کو شدید محدود کرنے پر عالمی تنقید کا سامنا ہے۔

طالبان حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ خواتین کے حقوق کا احترام کرتی ہے، لیکن اپنی اسلامی قانون اور مقامی روایات کی تشریح کے مطابق۔

آسٹریلیا کی وزیرِ خارجہ پینی وونگ نے ایک بیان میں کہا کہ نئی پابندیاں تین طالبان وزرا اور چیف جسٹس پر لگائی گئی ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم، روزگار، آزادانہ نقل و حرکت اور عوامی زندگی میں شرکت پر پابندیاں عائد کیں۔

یہ اقدامات آسٹریلیا کے نئے سرکاری فریم ورک کا حصہ ہیں، جس کے تحت وہ “افغان عوام پر طالبان کے ظلم و جبر” کے خلاف براہِ راست اپنی پابندیاں اور سفری پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔

طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد آسٹریلیا نے ہزاروں افغان شہریوں—بالخصوص خواتین اور بچوں—کو اپنے ملک میں پناہ دی، جبکہ افغانستان کی بڑی آبادی آج بھی انسانی امداد پر ہی گزارا کر رہی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین