ٹیمو الفاروق
غزہ میں ’’اسرائیل‘‘ کی نسل کشی کے خلاف جرمنی میں بڑی عوامی مخالفت کے باوجود، جرمن حکومت نے اس کے لیے ہتھیاروں کی فراہمی میں اضافہ کیا ہے اور فلسطین یکجہتی پر جبر کو مزید شدید کر دیا ہے، جس نے برلن کو جرم سازی، سنسرشپ اور پولیس تشدد کی ایک تجربہ گاہ بنا دیا ہے۔
’’اسرائیل‘‘ کی غزہ پر نسل کشانہ جنگ کو دو سال سے زیادہ ہو چکے ہیں، جس نے فلسطینی وزارتِ صحت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کم از کم 70 ہزار فلسطینیوں کو قتل کیا ہے۔ ایسے ماحول میں جرمن عوام اپنی حکومت کی صیہونی ادارے کی غیر مشروط حمایت سے بڑھتی ہوئی بے چینی کا اظہار کر رہے ہیں۔
اگست میں عوامی نشریاتی ادارے ARD کی جانب سے کرائے گئے ایک سروے میں 66 فیصد جواب دہندگان نے اس بیان سے اتفاق کیا کہ ’’جرمن حکومت کو اسرائیلی حکومت پر دباؤ بڑھانا چاہیے تاکہ وہ غزہ پٹی کے حوالے سے اپنا موقف تبدیل کرے۔‘‘
ستمبر میں یوگَو کے ایک سروے میں 62 فیصد جرمن ووٹرز نے کہا کہ غزہ میں ’’اسرائیل‘‘ کا طرزِ عمل نسل کشی کے زمرے میں آتا ہے۔
تاہم مرکز-دائیں رجحان رکھنے والے چانسلر فریڈرک مرز کی سربراہی میں قائم جرمن مخلوط حکومت، جو تارکینِ وطن، برازیل اور انگولا کے بارے میں متعدد نسل پرستانہ بیانات کے باعث تنازعات کا شکار رہی ہے، اکثریتی عوامی رائے سے قطعی بے پروا دکھائی دیتی ہے۔
برلن نے حال ہی میں ’’اسرائیل‘‘ کو ہتھیاروں کی فراہمی دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے اگست سے جاری عارضی تعطل ختم ہو گیا۔
یہ فیصلہ ایسے وقت آیا ہے جب غزہ کی حکومتی میڈیا آفس کے مطابق 44 دنوں میں تقریباً 500 مرتبہ اسرائیلی سیز فائر کی خلاف ورزیاں ہوئی ہیں، جن میں سینکڑوں فلسطینی جاں بحق ہوئے۔
درایں اثنا، فلسطین یکجہتی کے خلاف کریک ڈاؤن مسلسل جاری ہے، خصوصاً دارالحکومت برلن میں، جو یورپ کی سب سے بڑی فلسطینی کمیونٹی کا مسکن ہے۔
برلن پولیس کے فسادی ساز و سامان سے لیس اہلکاروں کی وہ ویڈیوز جن میں وہ پُرامن مظاہرین کو آزادیٔ اظہار اور اجتماع کے حق کے استعمال پر گرفتار اور تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں، انسانی حقوق کے اداروں کی شدید مذمت کا باعث بنی ہوئی ہیں۔
25 نومبر کو خواتین پر تشدد کے خاتمے کے بین الاقوامی دن کے موقع پر نکالی گئی فلسطین یکجہتی مارچ بھی ایک بار پھر بلا اشتعال پولیس تشدد سے متاثر ہوئی۔
موقع پر موجود مختلف کارکنوں اور آزاد صحافیوں کی سوشل میڈیا ویڈیوز میں پولیس کو مظاہرین، بشمول خواتین اور بچوں، پر حملہ کرتے اور انہیں زبردستی گرفتار کرتے دکھایا گیا ہے۔
ایک ویڈیو میں ایک خاتون مظاہرہ کار کو زمین پر لیٹا دیکھا جا سکتا ہے جبکہ ایک پولیس اہلکار اس کے پہلو اور پیٹ پر مکے برسا رہا ہے۔
وردی میں ملبوس اہلکاروں کو فلسطینی خواتین اسیرات کی تصاویر والے پوسٹر چھینتے اور پھاڑتے ہوئے بھی ریکارڈ کیا گیا ہے۔
کافکائی صورتِ حال
اکتوبر میں اقوام متحدہ کے چھ ماہرین کے ایک گروپ نے جرمنی پر زور دیا کہ وہ فلسطین یکجہتی سرگرمیوں کے خلاف اندھا دھند سزاؤں اور کریک ڈاؤن کو بند کرے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ’’کوئی بھی صورتِ حال ایسی نہیں جو غیر ضروری اور حد سے زیادہ پولیس تشدد کو جائز قرار دے، یا بنیادی آزادیوں کے استعمال پر بلاجواز جرم سازی کی اجازت دے۔‘‘
میری-ایلس مورِل برلن میں بے شمار کارکنوں میں سے ایک ہیں جو ’’اسرائیل‘‘ کے حق میں جرمن ریاست کی ’’ناجائز جرم سازی‘‘ کا نشانہ بنی ہیں۔
جولائی میں، مورِل، جو بائیں بازو کی جماعت MERA25 برلن کی مقامی شریک چیئر ہیں، کو ایک احتجاج میں اس پلے کارڈ کی وجہ سے گرفتار کیا گیا جس پر لکھا تھا: ’’اسکولوں میں نسلی امتیاز ختم کرو‘‘ اور اس جملے کے بعد ایک بڑا سرخ نشانِ تعجب تھا۔
انہیں اس لیے گرفتار کیا گیا کہ نشانِ تعجب کا اوپری حصہ ایک سرخ الٹا مثلث بنتا تھا، جسے جرمن حکام کالعدم فلسطینی مزاحمتی گروہ حماس کی علامت سمجھتے ہیں۔
گزشتہ ماہ برلن کی استغاثہ نے یہ مقدمہ خارج کر دیا، تاہم ایک اور مقدمہ—اپریل 2024 کے مبینہ واقعے سے متعلق—ابھی جاری ہے، جس میں ان پر الزام ہے کہ انہوں نے بقول ان کے ’’دریاؤں اور سمندروں کے حوالے سے فلسطین کے بارے میں نعرے‘‘ لگائے۔
وہ دہائیوں پرانا فلسطینی آزادی کا نعرہ ’’نہر سے سمندر تک، فلسطین آزاد ہو گا‘‘ کی طرف اشارہ کر رہی تھیں، جسے جرمن حکام غلط طور پر حماس سے منسوب کرتے ہیں اور اسے قابلِ تعزیر جرم قرار دیتے ہیں، حالانکہ جرمن عدالتیں اس کے مبینہ طور پر غیر قانونی ہونے پر تقسیم ہیں۔
مورِل اپنے تجربے کو پرو-’’اسرائیل‘‘ جرمن قانون کاری کے حوالے سے ’’کافکائی‘‘ قرار دیتی ہیں—فرانز کافکا کے ناول The Trial کی طرف اشارہ، جس میں ایک نوجوان کو ایک نامعلوم جرم پر گرفتار کر کے ایک بھیانک اور بے معنی قانونی بھول بھلیاں میں دھکیل دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’پولیس محض الزامات گھڑ رہی ہے، جرائم تراش رہی ہے۔ وہ قانون کو اپنے فائدے کے لیے مروڑ رہے ہیں۔ یہ خوفناک تجربہ ہے، خاص طور پر اس لیے کہ قانون کا مقصد تو آپ کی حفاظت ہونا چاہیے۔‘‘
جبر کا معمول بن جانا
اگرچہ کئی لوگ 7 اکتوبر کے بعد جرمنی میں بڑھتے ہوئے کریک ڈاؤن پر حیران ہیں، مگر ملک میں فلسطین یکجہتی کے خلاف ریاستی تشدد کوئی نیا رجحان نہیں۔
ڈریسڈن یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کی محقق اور لیکچرر ہنّا الطاہر نے کہا کہ’’جو بھی گزشتہ چند برسوں میں جرمنی کو دیکھ رہا تھا، اس کے لیے یہ سب پہلے سے واضح تھا۔‘‘
اگست 2024 میں، الطاہر نے ایک تحقیقی مقالہ شائع کیا جس میں 7 اکتوبر 2023 کے بعد جرمن اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں جرمنی کے پرو-’’اسرائیل‘‘ ’’ریزن آف اسٹیٹ‘‘ (Staatsräson) کے جابرانہ اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
وہ اور آزاد محقق انا یونس لکھتی ہیں کہ ہمارے اردگرد مزید لوگ مقدمات، جرمانوں، دھمکیوں، گھروں پر چھاپوں، کمپیوٹروں کی ضبطی اور تقریبات کی منسوخی کا سامنا کر رہے ہیں۔
اگرچہ تازہ ترین سروے ظاہر کرتے ہیں کہ جرمن عوام کی اکثریت ’’اسرائیل‘‘ کی نسل کشانہ جنگ کی مخالفت کرتی ہے، مورِل افسوس کرتی ہیں کہ عام لوگ فلسطین یکجہتی پر بڑھتے ہوئے ریاستی جبر کے بارے میں بے حسی کا شکار ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ یہی وہ طریقہ ہے جس سے ہم اس طرح کے اقدامات کو معمول بنا دیتے ہیں—اور یہی وہ راستہ ہے جس سے یہ مستقبل میں مزید بدتر ہو سکتے ہیں۔

