جمعرات, فروری 12, 2026
ہومپاکستانعبادت گاہ کی بے حرمتی مذہبی برابری کی خلاف ورزی ہے: ترجمان...

عبادت گاہ کی بے حرمتی مذہبی برابری کی خلاف ورزی ہے: ترجمان دفتر خارجہ
ع

اسلام آباد،(مشرق نامہ) 5 دسمبر (اے پی پی): پاکستان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کسی بھی عبادت گاہ کی بے حرمتی مذہبی برابری کے اصولوں کی سراسر خلاف ورزی ہے اور اس سے تمام برادریوں کے اُس اجتماعی احساسِ تحفظ اور باہمی احترام کو ٹھیس پہنچتی ہے جس کی وہ حقدار ہیں۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرا بی نے یہ بات جمعے کے روز ایک سوال کے جواب میں کہی، جو 6 دسمبر کو بابری مسجد کی شہادت کی برسی کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف سے متعلق تھا۔

انہوں نے کہا،

“بابری مسجد ہماری اجتماعی یادداشت میں نقش ہے۔ 6 دسمبر 1992 کو ایودھیا میں یہ تاریخی مسجد ایسے حالات میں منہدم کی گئی جنہیں یاد کر کے آج بھی شدید دکھ اور تشویش محسوس ہوتی ہے۔ یہ واقعہ اُن تمام لوگوں کے لیے بے چینی کا باعث ہے جو عدم برداشت اور مذہبی امتیاز کے خلاف کھڑے ہیں۔”

ترجمان نے کہا کہ مذہبی ورثے اور مقدس مقامات کا تحفظ بین الاقوامی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

انہوں نے زور دیا:

“مسلم مذہبی علامات یا تاریخی ورثے کو نقصان پہنچانے والے تمام اقدامات کا شفافیت، احتساب اور انصاف کے پختہ عزم کے ساتھ جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔”

انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد بھارتی مسلمانوں میں جو مستقل احساسِ محرومی اور جذباتی کرب پایا جاتا ہے، وہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔

“ریاستی سرپرستی سے حوصلہ پا کر ہندو فاشسٹ تنظیمیں اب بھارتی مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو مکمل طور پر الگ تھلگ کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔”

ترجمان نے کہا کہ پاکستان بین المذاہب ہم آہنگی اور پرامن بقائے باہمی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

انہوں نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ کے متعلقہ اداروں اور مؤثر عالمی آوازوں سے اپیل کی کہ مسلم مذہبی ورثے کے تحفظ کی اہمیت کو تسلیم کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ایسے تکلیف دہ واقعات دوبارہ نہ ہوں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان اپنے قانونی تقاضوں کے مطابق ملک میں رہنے والی تمام اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادی کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔

بابری مسجد کی شہادت کی برسی کے موقع پر، انہوں نے دنیا بھر کے اُن مسلمانوں سے یکجہتی کا اظہار کیا جو اس نقصان کے دائمی دکھ کو محسوس کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا،

“یہ موقع نہ صرف ایک دردناک واقعے کی یاد دہانی ہے بلکہ وقار، انصاف اور مقدس ورثے کے احترام جیسے آفاقی اصولوں کی تجدید کا بھی لمحہ ہے۔”

آخر میں انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ رواداری اور شمولیت کا ماحول قائم کرے اور تمام مذہبی و ثقافتی برادریوں کے لیے برابر کے شہری حقوق اور باہمی احترام کو یقینی بنائے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین