جمعرات, فروری 12, 2026
ہومپاکستانسرحدی رکاوٹوں سے 20 کروڑ ڈالر کی ادویات کی تجارت خطرے میں

سرحدی رکاوٹوں سے 20 کروڑ ڈالر کی ادویات کی تجارت خطرے میں
س

کراچی(مشرق نامہ): پاکستان اور افغانستان کی سرحد کی بار بار بندش نے دوطرفہ ادویات کی تجارت کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا ہے، جس کے باعث سیکڑوں ٹرک پھنس گئے ہیں اور تقریباً 200 ملین ڈالر مالیت کی فارماسیوٹیکل برآمدات داؤ پر لگ گئی ہیں، صنعت کے ذرائع نے بتایا۔

صنعتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ طورخم اور چمن سرحد پر جاری بلاکڈ نے افغانستان کیلئے دواؤں کی سپلائی کو شدید نقصان پہنچایا ہے جس سے درجہ حرارت کے لحاظ سے حساس ادویات خراب ہو رہی ہیں، اور ایسے وقت میں پاکستان کو بھاری تجارتی نقصان کا سامنا ہے جب برآمد کنندگان مزید کسی جھٹکے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔

ان کے مطابق افغانستان، پاکستان کا سب سے بڑا زمینی تجارتی شراکت دار ہے اور ازبکستان، تاجکستان، ترکمانستان اور قازقستان تک رسائی کیلئے بنیادی ٹرانزٹ راستہ بھی ہے۔ سرحد کی ہر بندش نہ صرف پاکستان کو ان لینڈ لاکڈ معیشتوں سے کاٹ دیتی ہے بلکہ علاقائی رابطہ کاری کے منصوبوں اور پاکستان-ازبکستان-افغانستان ریلوے سمیت دوسرے ملٹی لیٹرل سرمایہ کاری منصوبوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔

پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PPMA) کے طوقیر الحق نے کہا:

“سرحدی بندشیں اتنی بار بار ہو رہی ہیں کہ یہ ڈھانچہ جاتی خطرے کی شکل اختیار کر چکی ہیں، جس سے اس راستے پر سرمایہ کاری کرنے والے ممالک اب زیادہ قابلِ بھروسہ متبادل تلاش کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ پاکستان کی فارماسیوٹیکل صنعت تو پہلے ہی شدید نقصان کا سامنا کر رہی ہے۔”

انہوں نے بتایا:

“افغانستان کو تقریباً تمام برآمدات بند ہو چکی ہیں، جبکہ اینٹی بائیوٹکس، انسولین، ویکسینز، قلبی ادویات اور دیگر ضروری میڈیسن سے بھرے کنٹینرز سرحدی گزرگاہوں، ڈرائی پورٹس اور گوداموں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ تاخیر نے مقامی مینوفیکچررز کو ناقابلِ تلافی مالی نقصان پہنچایا ہے۔”

ایک مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صرف ایک کمپنی کی 85 کروڑ روپے مالیت کی مصنوعات طورخم اور چمن پر پھنسی ہوئی ہیں، جبکہ پچاس سے زائد کمپنیاں اسی طرح کے شدید نقصانات جھیل رہی ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین