(مشرق نامہ(اسلام آباد:
حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ قطر سے 2026 کے لیے 24 مائع قدرتی گیس (LNG) کارگوز کو ڈائیورٹ کرکے اسے 1,000 ارب روپے سے زائد کی بچت ہوگی۔ اصلاحاتی ایجنڈے کے تحت حکومت گیس سیکٹر کے 2.6 کھرب روپے کے سرکلر ڈیٹ کو ختم کرنے کے لیے متعدد آپشنز کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔
پاکستان اور قطر نے سمجھوتا کیا ہے کہ اگلے سال مقامی طلب میں کمی کے باعث ایل این جی کارگوز کو دیگر منڈیوں کی طرف بھیج دیا جائے۔ ایک سرکاری عہدیدار کے مطابق:
“24 کارگوز ڈائیورٹ کرنے سے حکومت کو 1,000 ارب روپے سے زائد کی بچت ہوگی، کیونکہ لائف لائن گیس صارفین کے لیے سبسڈی کی ضرورت نہیں پڑے گی۔”
حکام کے مطابق سرکاری اصلاحات اور انتظامی اقدامات نے نہ صرف ترکی اور آذربائیجان کی سرکاری آئل و گیس کمپنیوں کی سرمایہ کاری کو راغب کیا ہے بلکہ واجبات کی ادائیگی کے مسائل کو حل کرنے اور گیس سیکٹر میں سرکلر ڈیٹ کے بڑھنے کو روکنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان مقامی گیس کی پیداوار کو محدود کر رہا ہے کیونکہ اس نے درآمدی ایل این جی پر انحصار بڑھا لیا ہے۔ حکومت توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری لانے کے لیے اصلاحاتی پروگرام کے تحت مختلف اقدامات پر بھی کام کر رہی ہے۔
سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (SNGPL) اور پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) نے ابتدائی تخمینے میں بتایا تھا کہ جولائی 2025 سے دسمبر 2031 تک مجموعی طور پر 177 کارگوز اضافی ہوں گے، جو سالانہ 24 کارگوز بنتے ہیں۔
ذرائع نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ پاکستان اور قطر کے درمیان 2026 کے لیے 24 ایل این جی کارگوز کی ڈائورژن کا معاہدہ ہو گیا ہے، کیونکہ مقامی طلب کم ہے۔ یہ معاہدہ نیٹ پروسیڈز Differential فارمولے کے تحت کیا گیا ہے، جس کے مطابق اگر قطر پاکستان کے لیے مختص ایل این جی کو عالمی مارکیٹ میں کنٹریکٹ قیمت سے کم پر فروخت کرتا ہے تو اس نقصان کا بوجھ پاکستان پر پڑے گا۔
یہ فرق بالآخر ایل این جی صارفین کو منتقل کیا جائے گا۔ اوگرا اس فرق کو عوامی گیس کمپنیوں کے ٹیریف میں شامل کرنے کی اجازت دے گی۔
اس سے قبل اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے 2026 میں 24 کارگوز کی ڈائورژن کے معاہدے کے لیے PSO کو منظوری دے دی تھی۔ پاکستان اور قطر کے درمیان دو ایل این جی فراہمی کے معاہدے ہیں جن کے تحت پاکستان کو ماہانہ نو کارگوز ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ اٹلی کی کمپنی Eni بھی ماہانہ ایک کارگو فراہم کرتی ہے۔ ڈائورژن سے مقامی ایکسپلوریشن کمپنیوں، بشمول آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی (OGDC)، کو سہارا ملنے کی توقع ہے۔ OGDC کو واجبات کی ادائیگی کی مد میں 82 ارب روپے موصول ہو چکے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ OGDC سے متعلق ادائیگیوں کے حل کے پس منظر میں حکومتی پالیسی اور انتظامی اقدامات شامل تھے۔ پیٹرولیم ڈویژن نے سوئی کمپنی کی جانب سے بروقت ادائیگی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے، جس سے سرکلر ڈیٹ کے بڑھنے پر مؤثر قابو پایا گیا۔ OGDC کو ٹرم فنانس سرٹیفکیٹس پر شیڈول کے مطابق ادائیگی بھی مل رہی ہے، جبکہ اصل رقم بھی مکمل وصول ہو چکی ہے۔ ان اقدامات سے عالمی یقین دہانی بحال ہوئی اور ترکی کے ساتھ حالیہ معاہدے کامیابی سے طے پائے۔
آذربائیجان کی کمپنی SOCAR کی تکنیکی ٹیم بھی رواں ماہ ایک ہفتے کے اجلاسوں کے لیے OGDC میں پہنچے گی تاکہ اپ اسٹریم پٹرولیم سیکٹر میں مواقع کا جائزہ لے۔ یہ ملاقاتیں آن شور اور آف شور ایکسپلوریشن لائسنسنگ، لیزز اور بین الاقوامی تعاون جیسے موضوعات پر ہوں گی۔
ریکو ڈک کا کاپر اور گولڈ مائننگ منصوبہ بھی شیڈول کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے۔ منصوبے کے لیے فنانسنگ 50 فیصد ایکویٹی اور 50 فیصد فنڈنگ کے فارمولے کے مطابق حاصل کر لی گئی ہے۔
ریکو ڈک کے لیے فنانسنگ ملک کی تاریخ کے کسی بھی کان کنی منصوبے کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہوگی۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے اس منصوبے اور سرکاری اداروں کی شراکت داری پر مکمل اعتماد ظاہر کیا ہے۔ منصوبہ دو مراحل پر مشتمل ہے، جن میں مستقبل میں توسیع کی بھی گنجائش موجود ہے۔ منصوبہ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد پاکستان کو سالانہ 1.5 سے 2 ارب ڈالر آمدن ہوگی۔
ایک جامع ٹائٹ گیس مونیٹائزیشن پروگرام پہلے ہی جاری ہے۔ OGDC شیل پائلٹ منصوبے پر کام تیز کر رہا ہے اور اس مقصد کے لیے شلمبرجر اور بیکر ہیوز کی تکنیکی معاونت حاصل کی گئی ہے۔
یہ پائلٹ پروگرام پاکستان میں شیل گیس کے ذخائر کی تکنیکی اور تجارتی افادیت جانچنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ افقی فریکنگ 2026 کے اوائل میں شروع ہوگی۔ حال ہی میں ترک کمپنیوں نے بھی مشترکہ منصوبوں اور تکنیکی تعاون میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ ایک معاہدے کے تحت ترک پٹرولیم OGDC، پاکستان پیٹرولیم اور ماری انرجیز کے ساتھ شراکت میں انڈس بلاک—C میں سیسمک اور ڈرلنگ آپریشنز کی قیادت کرے گا۔

