مانئڑئنگ ڈیسک (مشرق نامہ) امریکا 30 سے زائد ممالک پر سفری پابندی بڑھانے کا منصوبہ رکھتا ہے
امریکا اپنے سفری پابندیوں کی فہرست میں شامل ممالک کی تعداد کو بڑھا کر 30 سے بھی زیادہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، یہ بات امریکی وزیرِ ہوم لینڈ سکیورٹی کرسٹی نوم نے جمعرات کو بتائی۔
فاکس نیوز کے پروگرام “دی انگراہم اینگل” میں ایک انٹرویو کے دوران نوم سے پوچھا گیا کہ کیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سفری پابندیوں کی فہرست میں شامل ممالک کی تعداد بڑھا کر 32 کر رہی ہے؟
انہوں نے جواب دیا:
“میں مخصوص تعداد نہیں بتاؤں گی، لیکن یہ 30 سے زیادہ ہیں، اور صدر ممالک کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔”
جون میں ٹرمپ نے ایک حکم نامے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت 12 ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخل ہونے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی، جبکہ سات دیگر ممالک کے شہریوں پر سخت پابندیاں لگائی گئی تھیں۔ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ یہ اقدام “غیر ملکی دہشت گردوں” اور دیگر سکیورٹی خطرات سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے۔ یہ پابندیاں تارکینِ وطن اور غیر تارکینِ وطن دونوں پر لاگو ہیں، جن میں سیاح، طلبہ اور کاروباری مسافر شامل ہیں۔
نوم نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن نئے ممالک کو فہرست میں شامل کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا:
“اگر کسی ملک میں مستحکم حکومت نہیں ہے، اگر وہ ملک اپنے شہریوں کی شناخت کی تصدیق نہیں کر سکتا یا ہماری مدد نہیں کر سکتا، تو ہم ایسے ملک کے لوگوں کو امریکا آنے کی اجازت کیوں دیں؟”
روئٹرز نے اس سے قبل رپورٹ کیا تھا کہ ایک اندرونی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کیبل کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ 36 مزید ممالک کے شہریوں پر پابندی لگانے پر غور کر رہی تھی۔
فہرست میں توسیع کرنا امیگریشن پالیسیوں میں مزید سختی کی نشاندہی کرتا ہے، خصوصاً گزشتہ ہفتے واشنگٹن ڈی سی میں دو نیشنل گارڈ اہلکاروں کی فائرنگ میں ہلاکت کے بعد۔
تحقیقات کے مطابق یہ حملہ ایک افغان شہری نے کیا جو 2021 میں ایک ایسے ری سیٹلمنٹ پروگرام کے تحت امریکا میں داخل ہوا تھا جس کے بارے میں ٹرمپ حکام کا کہنا ہے کہ اس میں مناسب جانچ پڑتال نہیں ہوئی۔
فائرنگ کے چند دن بعد، ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ تمام “تھرڈ ورلڈ ممالک” سے آنے والی ہجرت کو “مستقل طور پر روک” دیں گے، تاہم انہوں نے کسی ملک کا نام نہیں لیا اور نہ یہ واضح کیا کہ ان کی مراد کن ممالک سے ہے۔
اس سے قبل ہوم لینڈ سکیورٹی کے حکام نے بتایا تھا کہ ٹرمپ نے سابق ڈیموکریٹ صدر جو بائیڈن کے دور میں منظور ہونے والے سیاسی پناہ کے کیسز اور 19 ممالک کے شہریوں کو جاری ہونے والے گرین کارڈز کا وسیع پیمانے پر ازسرِنو جائزہ لینے کا حکم دیا ہے۔
جنوری میں دوبارہ منصب سنبھالنے کے بعد ٹرمپ نے امیگریشن قوانین پر سختی کو اپنی اولین ترجیح بنایا ہے۔ انہوں نے وفاقی ایجنٹس کو امریکا کے بڑے شہروں میں بھیجا ہے اور امریکا—میکسیکو سرحد پر پناہ کے متلاشی افراد کو واپس لوٹایا ہے۔
ان کی انتظامیہ بارہا ملک بدری کے اقدامات کو نمایاں کرتی رہی ہے، تاہم ابھی تک قانونی امیگریشن کے ڈھانچے میں تبدیلی پر نسبتاً کم توجہ دی گئی تھی۔

