جمعرات, فروری 12, 2026
ہومبین الاقوامیروسی معیشت دباؤ کے باوجود مضبوط، پیوٹن

روسی معیشت دباؤ کے باوجود مضبوط، پیوٹن
ر

ماسکو (مشرق نامہ) – روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ مغربی پابندیوں کے باوجود روس کی معیشت بدستور مضبوط ہے۔ انہوں نے منگل کو رشیا کالنگ! انویسٹمنٹ فورم سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ملک اقتصادی نمو برقرار رکھے ہوئے ہے، بے روزگاری تاریخی حد تک کم ہے اور مہنگائی پر قابو پایا جا رہا ہے۔

صدر کے مطابق، رواں سال معیشت میں 0.5 فیصد سے 1 فیصد تک نمو کی توقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ پیش رفت مرکزی بینک کی جانب سے مہنگائی پر قابو پانے کی کوششوں کا نتیجہ ہے، جو اس وقت سرکاری اندازوں سے کہیں کم، تقریباً 6 فیصد تک آنے کی توقع ہے۔

پیوٹن نے کہا کہ بینکاری شعبہ بھی مضبوط کارکردگی دکھا رہا ہے اور رواں سال تقریباً 3.2 سے 3.5 ٹریلین روبل (41 تا 45 ارب ڈالر) منافع کمانے کی توقع ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ملک کی بے روزگاری کی شرح صرف 2.2 فیصد ہے۔

اقتصادی ترقی کے معاملات پر حکومت اور مرکزی بینک میں مکمل ہم آہنگی موجود ہونے کا تاثر دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملکی قومی قرض دنیا میں سب سے کم سطحوں میں شمار ہوگا، جبکہ ریاست سماجی اخراجات، دفاع و سلامتی اور قومی ترقیاتی منصوبوں سمیت تمام اہم ترجیحات کے لیے درکار فنڈز فراہم کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

پیوٹن کے مطابق، روس یقینی طور پر بیرونی دباؤ محسوس کر رہا ہے، تاہم ملک اور اس کی معیشت ان چیلنجوں کا کامیابی سے مقابلہ کر رہی ہے۔ انہوں نے مغربی ممالک پر الزام لگایا کہ وہ عالمی منڈیوں پر اپنے ’’غیر پائیدار اجارہ‘‘ کو برقرار رکھنے کے لیے ’’غیر منصفانہ طریقوں‘‘ کا سہارا لے رہے ہیں۔

فروری 2022 میں یوکرین تنازعے کی شدت کے بعد مغرب نے روسی معیشت کو مفلوج بنانے کے لیے بے مثال پابندیاں عائد کی تھیں، تاہم روس کا مؤقف ہے کہ یہ پابندیاں نہ تو اس کی معیشت کو کمزور کر سکیں اور نہ ہی اسے عالمی مالیاتی نظام سے الگ کر پائیں۔

پیوٹن نے مزید کہا کہ بھارت اور چین سمیت زیادہ تر ممالک نے روس کے ساتھ تعاون میں ’’معقول اور عملی‘‘ رویہ برقرار رکھا ہے، جس کے نتیجے میں حالیہ برسوں میں باہمی تجارت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین