جمعرات, فروری 12, 2026
ہومبین الاقوامی"دباؤ، فریب، مسلط کرنا": امریکی مذاکرات کا دعویٰ حقیقی نہیں، ایرانی اسپیکر

"دباؤ، فریب، مسلط کرنا”: امریکی مذاکرات کا دعویٰ حقیقی نہیں، ایرانی اسپیکر
&

نیوز – مشرقِ وسطیٰ: ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ حقیقی مذاکرات کا خواہاں نہیں ہے، بلکہ ملک کو جھکانے کے لیے “دباؤ، فریب اور مسلط کرنے” کی حکمت عملی پر عمل کر رہا ہے۔

منگل کے روز تہران میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمد باقر قالیباف نے کہا کہ 12 روزہ امریکی – صیہونی جارحیت نے ثابت کر دیا کہ ایران "نہ دھمکی سے جھکتا ہے اور نہ ہی پیچھے ہٹتا ہے۔”

انہوں نے کہا کہ امریکہ نے طے شدہ ملاقات سے صرف دو روز قبل “مذاکرات کی میز پر بمباری” کر کے ظاہر کر دیا کہ “وہ دراصل مذاکرات کے خواہاں ہی نہیں، بلکہ عملاً جنگ کا راستہ اختیار کر چکے ہیں۔”

مغرب کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے بعد ہونے والی بات چیت کے بارے میں قالیباف نے بتایا کہ مغربی فریق ایران سے میزائلوں کی رینج کم کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ملک کا دفاع ناقابلِ مذاکرات ہے اور ایسا مطالبہ “بالکل ناممکن” ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ مذاکرات میں بھی انہوں نے خود کو سازشی اور جھوٹا ثابت کیا؛ ان کے طرزِ عمل نے دکھایا کہ ان کا مقصد مسئلہ حل کرنا نہیں بلکہ دباؤ ڈالنا، فریب دینا اور چیزیں مسلط کرنا ہے۔

"12 روزہ جنگ ایک سنگین اور سفّاک دہشت گرد جارحیت”

قالیباف نے 12 روزہ جنگ کو ایک "منظم، سنگین اور سفّاک دہشت گرد جارحیت” قرار دیا، جسے صیہونی رژیم کے مجرمانہ حکمران ادارے نے امریکہ کے ساتھ مل کر منصوبہ بندی کے تحت انجام دیا۔

ابتدائی ردعمل میں معمولی تاخیر کا اعتراف کرتے ہوئے انہوں نے اس رفتار پر زور دیا جس کے ساتھ ایران نے جواب دیا۔

قالیباف نے کہا کہ تقریباً پانچ دنوں کے اندر ہم نے صیہونی دشمن کی فضائی اور زمینی برتری پر کافی حد تک قابو پا لیا تھا، اور دعویٰ کیا کہ دشمن چھٹے اور ساتویں دن تک جنگ بندی کے لیے بے چین ہو چکا تھا۔

انہوں نے اس کامیابی کا سہرا رہبرِ انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی حکمت و شجاعت، عوام کی قربانیوں اور مسلح افواج کی ٹھیک نشانے پر کی جانے والی کارروائیوں کو دیا جنہوں نے “دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔”

قالیباف نے کہا کہ آج ہم واقعی اس حقیقت پر یقین رکھتے ہیں کہ ہماری طاقت صرف ہماری فوجی اور میزائلی صلاحیت میں نہیں ہے؛ خدا کے فضل کے بعد ہماری اصل طاقت ہمارے عوام کے دلوں میں ہے۔

"نئے حملے کہیں زیادہ سخت جواب سے ٹکرائیں گے”

اسپیکر نے سچے وعدہ 1، 2 اور 3 آپریشنز سے حاصل ہونے والے اسباق پر بھی روشنی ڈالی، جنہوں نے ایران کو وسیع جنگی اور تکنیکی تجربہ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا، “اصل میدانِ جنگ میں، دشمن کے کثیر پرتوں والے دفاعی نظام اور فضائی برتری کے باوجود محدود وقت میں 100 سے زائد میزائل داغنا اور 70 فیصد سے زائد درست نشانہ بنانا ایک بڑی عسکری کامیابی ہے۔”

انہوں نے خبردار کیا کہ مستقبل میں امریکہ یا صیہونی رژیم کی کسی بھی نئی جارحیت کا جواب کہیں زیادہ سخت ہو گا۔

قالیباف نے کہا کہ آج ایران کی دفاعی اور جارحانہ صلاحیت، مقدار اور معیار دونوں میں، اس سطح پر ہے کہ امریکہ یا صیہونی رژیم کی کسی بھی جارحیت کا جواب کہیں زیادہ مضبوط، زیادہ درست اور زیادہ مؤثر ہو گا۔

"یورپ کا اسنیپ بیک فیصلہ غیر دانشمندانہ”

قالیباف نے یورپی ممالک کی “غیر دانشمندانہ فیصلوں” اور کمزور خارجہ پالیسی پر بھی سخت تنقید کی اور کہا کہ ان کا عالمی کردار اب بے وقعت ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یورپی فریقین نے 2015 کے جوہری معاہدے کے خاتمے سے عین قبل امریکہ کے براہِ راست حکم پر اسنیپ بیک میکانزم فعال کیا، “جیسے ان کی اپنی کوئی مرضی نہ ہو۔”

ایران سمیت چین اور روس نے اس فیصلے کو مسترد کیا ہے، یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ چونکہ یورپی فریق پہلے خود معاہدے کی خلاف ورزی کر چکے ہیں، اس لیے انہیں اسے فعال کرنے کا کوئی حق نہیں۔

قالیباف نے کہا کہ یورپ نے خود کو ایران کے جوہری معاملے سے باہر کر لیا ہے اور اب یوکرین کے بحران میں بھی کوئی معنی خیز کردار ادا نہیں کر رہا۔

ان کے مطابق امریکہ یورپ کا دو طریقوں سے استحصال کر رہا ہے:
ایک، انہیں یوکرین کو فراہم کیے جانے والے امریکی اسلحے کی قیمت ادا کرنے پر مجبور کر کے،
اور دوسرا، انہیں مہنگی امریکی گیس خریدنے پر مجبور کر کے جسے وہ اپنے عوام کو بیچنے پر مجبور ہیں۔

قالیباف نے کہا، “انہیں ایک طرف سے نکالا جاتا ہے اور دوسری طرف پھنسایا جاتا ہے، اور یہی ان کی بدترین بدانتظامی کی علامت ہے۔”

مقبول مضامین

مقبول مضامین