تحریر: مرزیہ ہاشمی
براہِ راست نشریات کے دوران پریس ٹی وی کے نمائندے مطیع ابو مصبح نے غزہ سے گفتگو کرتے ہوئے رفح میں فلسطینی مزاحمتی جنگجوؤں کی موجودہ صورتحال کو امام حسینؑ اور اُن کے ساتھیوں کے کربلا کے امتحان سے تشبیہ دی، جو تقریباً چودہ سو سال قبل پیش آیا تھا۔
لیکن جنوبی غزہ کے شہر رفح میں آخر کیا ہو رہا ہے جس نے ابو مصبح کو اس مثال کی طرف متوجہ کیا؟
رفح میں درجنوں فلسطینی مزاحمتی جنگجو دشمن فورسز کے درمیان گھِرے ہوئے ہیں اور زیرِ زمین ایک ایسے علاقے میں پھنسے ہیں جو اب مکمل طور پر اسرائیلی قبضے اور کنٹرول میں ہے۔
یہ جنگجو گزشتہ دو سال کے قتلِ عام کے دوران اسرائیلی فوج کے خلاف بہادری سے لڑتے رہے، اور رفح میں قابض افواج کو قابلِ ذکر نقصان پہنچایا۔
تاہم کئی ماہ سے ان جنگجوؤں کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں۔ اُن کے پاس اب نہ خوراک باقی ہے، نہ گولہ بارود، اور وہ مکمل طور پر کٹے ہوئے ہیں۔
اس تنہائی اور بے پناہ دباؤ کے باوجود وہ ہمت نہیں ہار رہے اور مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
حال ہی میں جب کچھ جنگجو خوراک کی تلاش میں سرنگوں سے باہر نکلے تو انہیں فوراً اسرائیلی فورسز کے ڈرونز نے نشانہ بنایا۔ اسرائیلی فوج مسلسل سرنگوں کو تباہ کرنے کے لیے بمباری کر رہی ہے تاکہ مزاحمت کو کمزور یا ختم کیا جا سکے۔
اس وقت اسرائیلی افواج غزہ کے تقریباً اٹھاون فیصد حصے پر قابض ہیں اور جدید ترین ٹریکنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے جنگجوؤں کو اُس لمحے تلاش کرتی ہیں جب وہ سطحِ زمین پر ظاہر ہوتے ہیں۔
رپورٹس مختلف ہیں کہ جنگجو کب سے زیرِ زمین محصور ہیں۔ بعض کا کہنا ہے کہ وہ فروری سے، یعنی دوسری جنگ بندی کے فوراً بعد سے پھنسے ہوئے ہیں، جبکہ دیگر کے مطابق وہ اکتوبر سے—گزشتہ جنگ بندی کے بعد سے—زیرِ زمین موجود ہیں۔
جو بھی مدت ہو، یہ جنگجو شدید ترین دباؤ اور شدید بھوک کا سامنا کر رہے ہیں۔
حماس کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے ضامن ممالک کو ان جنگجوؤں کے محفوظ انخلا کو یقینی بنانا چاہیے، مگر اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
حقیقت یہ ہے کہ وہ مغربی ممالک جو جمہوریت اور انسانی حقوق کے چیمپئن ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، وہی اسرائیل کے قریبی ترین اتحادی ہیں، جو بذاتِ خود ایک تضاد ہے۔
یہ وہی ممالک ہیں جنہوں نے اسنوادی حکومت کو وہ جدید اور مہلک ہتھیار فراہم کیے جنہیں غزہ میں فلسطینی شہریوں کے خلاف استعمال کیا گیا۔
یہ وہ ممالک ہیں جو نہ صرف ستر ہزار سے زائد فلسطینیوں کے قتلِ عام کو روکنے میں ناکام رہے بلکہ اِس ہولناک نسل کشی میں برابر کے شریک رہے۔
اور وہی ممالک اب ایک جھوٹی جنگ بندی کا ڈھول پیٹ رہے ہیں، گویا نسل کشی ختم ہو چکی ہو—حالانکہ فلسطینی روزانہ مارے جا رہے ہیں۔
جبکہ قابض حکومت غزہ کے عوام پر بھوک مسلط کرنے کی مہم جاری رکھے ہوئے ہے، اجتماعی مغرب ایسے ظاہر کرتا ہے جیسے کچھ ہو ہی نہیں رہا۔ یہی ممالک اپنے ہی شہریوں کو نسل کشی کے خلاف آواز اٹھانے پر جیلوں میں ڈال چکے ہیں۔
لہٰذا یہ حیرت کی بات نہیں کہ انہوں نے جنگجوؤں کے محفوظ انخلا کے لیے کوئی دباؤ نہیں ڈالا۔
علاقائی “ضامنوں” کے ساتھ جنگ بندی پر عملدرآمد اور محفوظ راستے کے بارے میں بات چیت جاری ہے، مگر اب تک کوئی ٹھوس قدم سامنے نہیں آیا۔
اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ وہ کم از کم چالیس جنگجو مار چکی ہے۔ اگرچہ اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی، اندازہ ہے کہ درجنوں جنگجو اب بھی سرنگوں میں پھنسے ہوئے ہیں، ایسے علاقے میں جو تقریباً مکمل طور پر صہیونی قبضے میں ہے۔
یہ فلسطینی جنگجو ایسے دشمن کے نرغے میں ہیں جس کے پاس دنیا کا جدید ترین اسلحہ اور ٹیکنالوجی موجود ہے۔
اس کے باوجود وہ ہمت نہیں ہار رہے، نہ ہتھیار ڈال رہے ہیں—اگرچہ اُن کے پاس کھانے پینے کو کچھ نہیں بچا۔
رپورٹس کے مطابق صہیونی چاہتے تھے کہ یہ جنگجو اجتماعی طور پر سرنڈر کریں، تاکہ قابض حکومت اسے اپنے لیے ایک بڑا پروپیگنڈا بنائے، مگر ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔
یہیں صحافی نے امام حسینؑ کی مثال دوبارہ یاد دلائی—وہ ۷۲ جانثار ساتھی جنہیں ہزاروں کے منظم اور طاقتور لشکر نے گھیر رکھا تھا۔
یزید، اموی حکمران، نے اپنی فوج کو حکم دیا کہ اس قلیل جماعت کو پانی تک نہ پہنچنے دیا جائے، اور پھر اُن پر حملہ کر کے ایک ایک کو شہید کر دیا جائے۔
امام حسینؑ اور اُن کے ساتھی حق کے لیے ڈٹ کر کھڑے رہے، اور جانفشانی سے لڑے؛ لیکن دشمن کی بربریت ناقابلِ بیان تھی۔
اس کے باوجود امام حسینؑ نے سر نہیں جھکایا اور کہا کہ اُن جیسے شخص کے لیے کسی ظالم کو بیعت کرنا ممکن نہیں۔
مغربی ممالک اور اُن کے اسرائیلی اتحادی جو جمہوریت اور انسانی حقوق کا دعویٰ کرتے ہیں، فلسطینی جنگجوؤں کو دہشت گرد کہتے ہیں۔
ان ممالک کے رہنما اپنے ہی منظور کردہ بین الاقوامی قوانین بھول چکے ہیں۔
جنیوا کنونشن مقبوضہ عوام کو مزاحمت کا حق دیتا ہے، یہاں تک کہ مسلح مزاحمت کا، تاکہ وہ اپنا حقِ خودارادیت حاصل کر سکیں۔
یہ چوتھے جنیوا کنونشن کا حصہ ہے جو شہریوں کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے جب وہ قبضے کے خلاف جدوجہد کر رہے ہوں۔
دنیا کے ۱۹۶ ممالک اس کنونشن کے دستخط کنندہ ہیں۔
اس کے باوجود یہی ممالک اسرائیلی حکومت کو جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی پر کوئی سزا دینے کو تیار نہیں۔
یہ وہی ممالک ہیں جو رفح میں محصور جنگجوؤں کو مرتے دیکھ رہے ہیں، انتظار کر رہے ہیں کہ یہ بھوکے لوگ زمین پر آئیں تو انہیں ایک ایک کر کے قتل کر دیا جائے—وہ بھی انتہائی بزدلانہ طریقے سے۔
یہ دنیا کا وہ منظرنامہ ہے جس میں نسل کشی کرنے والے انعام پاتے ہیں، اور اس کے خلاف لڑنے والوں کو بدنام کیا جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ظلم کے مقابلے میں مزاحمت ایک فطری عمل ہے۔
اور امام حسینؑ کا راستہ اُن تمام انقلابیوں کے لیے ایک فطری انتخاب ہے جو ظلم کے آگے جھکنے کو تیار نہیں اور آزادی کی قیمت اپنی جان دے کر ادا کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
امام حسینؑ کے الفاظ میں: “ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے۔”
دنیا کے ہر آزاد انسان کو چاہیے کہ وہ جوابدہی کا مطالبہ کرے، ان جنگجوؤں کے فوری محفوظ انخلا پر اصرار کرے، اور قابض حکومت کو اس کے جنگ بندی کے تمام وعدوں پر عمل کرنے پر مجبور کرے۔
احتجاج مت روکیں، بائیکاٹ مت چھوڑیں، نسل کشی کے خاتمے کا مطالبہ کرتے رہیں، اور “فری فلسطین” کہتے رہیں—یہاں تک کہ یہ ایک حقیقت بن جائے۔

