جمعرات, فروری 12, 2026
ہومنقطہ نظرٹرمپ انتظامیہ دراصل نیتن یاہو انتظامیہ ہے

ٹرمپ انتظامیہ دراصل نیتن یاہو انتظامیہ ہے
ٹ

رابرٹ انلیکش

امریکی انتظامیہ کا کوئی بھی اقدام تل ابیب میں بنیامین نیتن یاہو کی حکومت سے آزاد نہیں؛ یہ مکمل طور پر لیکوڈ پارٹی کی سوچ کے زیرِ اثر ایک انتظامیہ ہے جو امریکہ میں حکمرانی کر رہی ہے۔

طویل عرصے سے یہ بحث جاری رہی ہے کہ آیا امریکہ اسرائیلیوں کو کنٹرول کرتا ہے یا حقیقت میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ موجودہ ٹرمپ انتظامیہ کے تحت اب اس میں بہت کم شبہ رہ گیا ہے کہ اسرائیلی امریکہ کی مغربی ایشیا سے متعلق پالیسی طے کرتے ہیں اور بعض معاملات میں تو اندرونی امریکی معاملات پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔

پچھلی امریکی حکومتوں کے تحت ایک واضح رجحان رہا کہ اسرائیلی مفادات کو ترجیح دی گئی؛ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں۔ تاہم، یہ بھی دکھایا جا سکتا ہے کہ بعض امور پر امریکہ اور اسرائیل کے مؤقف میں معمولی اختلافات موجود تھے۔ اگرچہ طاقت اور اثرورسوخ کے لحاظ سے امریکہ یقیناً صہیونی ادارے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا دم کتے کو ہلا رہی ہے یا اس کے برعکس۔

لِنڈن بی جانسن کی صدارت سے لے کر اب تک واشنگٹن نے اسرائیل کی ہر طرح سے پشت پناہی کی، اسے کسی بھی اتحادی سے زیادہ مالی امداد فراہم کی اور اسے خطے کے کئی تنازعات میں پیچھے سے سہارا دیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ "اسرائیل لابی” کی طاقت میں اضافہ ہوا، جس نے وائٹ ہاؤس میں آنے والی مسلسل امریکی حکومتوں کو مزید سخت گیر صہیونی پالیسیوں کی طرف دھکیلا۔

اس واضح جانبداری اور اسرائیلی مفادات کے تحفظ کے باوجود، متعدد امریکی قیادتوں اور ان کے تل ابیب میں موجود ہم منصبوں کے درمیان اختلافات بھی دیکھے گئے۔ مثال کے طور پر اوباما انتظامیہ، جس نے تاریخ کی سب سے بڑی امدادی پیکیج اسرائیل کو دینے پر اتفاق کیا۔ مگر جب بات ایران کے جوہری معاہدے (JCPOA) کی آئی تو وہ AIPAC اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دباؤ کے خلاف جانے کی صلاحیت بھی رکھتی تھی۔

بائیڈن انتظامیہ کے تحت، جو اپنے اعتراف کے مطابق کھلے عام صہیونیت کے قریب تھی، اس کا رجحان پھر بھی ایک ایسے مؤقف کی طرف رہا جو بظاہر دو ریاستی حل کی طرف جاتا تھا، جس نے اسرائیلی عوام کی بھاری اکثریت اور نیتن یاہو حکومت دونوں کو ناراضی میں مبتلا کیا۔

کیا تل ابیب وائٹ ہاؤس کو کنٹرول کرتا ہے؟

یہ دعویٰ کہ اسرائیلی امریکی خارجہ پالیسی پر اثرانداز ہیں، اس بیان سے مختلف ہے کہ وہ مکمل طور پر امریکہ کو کنٹرول کرتے ہیں۔ پہلی بات پر سنجیدہ اختلاف موجود نہیں؛ یہ بالکل واضح ہے کہ اسرائیلی لابی، تھنک ٹینکس اور صہیونی نیوکان عناصر نے امریکہ کو متعدد جارحانہ جنگوں میں دھکیلا۔

جان مرشائمر اور اسٹیفن والٹ کی کتاب The Israel Lobby and U.S. Foreign Policy میں ظاہر کیا گیا ہے کہ اس طاقت کا عروج بش جونیئر کے دور میں ہوا۔ تاہم یہ بھی قابلِ بحث ہے کہ امریکی جارحانہ پالیسی نے اگرچہ اسرائیلی مفادات کو فائدہ پہنچایا، لیکن وہ مکمل طور پر اسرائیلی فیصلوں کے تابع نہیں تھی۔

دو ریاستی حل کا تصور بھی بنیادی طور پر صہیونی منصوبے کو طویل المیعاد تحفظ فراہم کرنے کی کوشش تھی، نہ کہ اسرائیلی قیادت کے اندر موجود اُن حلقوں کی خواہش جس کا ہدف "گریٹر اسرائیل” کا تصور تھا۔

اصل میں دونوں طرف جو حل پیش کیے گئے وہ اسرائیل کے حق میں تھے—ایک زیادہ حقیقت پسندانہ تھا اور دوسرا انتہائی جارحانہ، جو خود صہیونی منصوبے کی تباہی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

سابق امریکی وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن کی آخری اہم تقریر—جو انہوں نے اٹلانٹک کونسل میں کی—امریکی دو ریاستی مؤقف کی بہترین مثال ہے۔ اگرچہ ان کی تقریر کا بڑا حصہ اسرائیلی بیانیے کی تکرار پر مشتمل تھا، لیکن اختتام قدرے سنجیدہ اور حقیقت پسندانہ تھا۔

بلنکن نے کہا کہ 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد اسرائیل کا ردِعمل طاقت کا اظہار تھا، جو امریکہ کی خواہشات کے مطابق تھا۔ مگر ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ اگر تل ابیب دو ریاستی حل کی طرف پیش رفت نہیں کرتا تو خطے میں بد نظمی پیدا ہو گی اور صہیونی منصوبہ خطرے میں پڑ جائے گا، یہاں تک کہ مصر اور اردن کے ساتھ تعلقات بھی منقطع ہونے کا خدشہ ہے۔

یہ مؤقف بھی بنیادی طور پر اسرائیل مرکز ہے، جس کا مقصد صرف یہ ہے کہ صہیونی آبادکاری ریاست کو خطے میں ضم کیا جائے۔ یہی مؤقف سعودی۔فرانسیسی “نیو یارک ڈیکلریشن” میں بھی موجود تھا، جسے رواں ستمبر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کیا۔

لیکن ٹرمپ کے دور میں صورتِ حال بالکل بدل گئی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد اس نے کوئی حکمتِ عملی پر مبنی آزاد امریکی پالیسی اپنانے کی کوشش نہیں کی۔ اس نے تو بس اپنے اسرائیلی سرپرستوں کے پیچھے چلنے میں ہی عافیت سمجھی، اور ان کی ہر خواہش پر سرِ تسلیم خم کیا۔

ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر غزہ کے محصور عوام پر تین ماہ لمبا محاصرہ مسلط کیا، جس کے دوران کوئی امداد داخل نہیں ہونے دی گئی اور قحط جنم لیا۔ اس کے بعد اس نے امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے ایک نجی امدادی اسکیم شروع کرائی، جو دراصل موت کا جال ثابت ہوئی اور تقریباً 2,600 فلسطینی شہری اس میں مارے گئے۔

اس نے یمن کے خلاف ایک شرمناک ناکام فوجی مہم شروع کی، ایران کو سفارت کاری کے ذریعے دھوکا دے کر پھر حملہ کیا، شام میں مزید امریکی فوجیں داخل کیں، دو فضائی اڈے اپنے قبضے میں لیے، اور اسرائیل۔شام "سیکیورٹی ڈیل” کی کوشش کی۔ ساتھ ہی لبنان میں حزب اللہ اور عراق میں الحشد الشعبی کو غیر مسلح کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی۔

ٹرمپ انتظامیہ نے حال ہی میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو مجبور کیا کہ وہ فلسطین کے مسئلے پر ایک نہایت شرمناک قرارداد منظور کرے، جو دراصل ایک ریجیم چینج منصوبہ تھی۔ وہ غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے والے اسرائیلی جنگی جرائم پر روزانہ نظر رکھتا ہے اور فروری میں کیے گئے اپنے وعدے کے مطابق "غزہ کا مالک بننے” کی کوشش کر رہا ہے۔

امریکہ کے اندر اس نے "پراجیکٹ ایسٹر” نافذ کیا—جو ہیریٹیج فاؤنڈیشن کا تیار کردہ پروگرام ہے اور امریکہ میں اسرائیلی جرائم کے خلاف آزادیِ اظہار کو ختم کرنے پر مبنی ہے۔ اس کی حکومت نے امریکی جامعات پر بدترین پابندیاں لگائیں۔

اب وہ اسرائیلی لابی کی فرمائش پر مسلم برادرہڈ کو "دہشت گرد تنظیم” قرار دینے کی طرف بڑھ رہا ہے، تاکہ اس بہانے فلسطینی حامی تنظیموں کو کچلا جا سکے۔

اسرائیلی جاسوس جوناتھن پولارڈ سے ملاقات کرنے والے ٹرمپ کے سفیر مائیک ہکابی کے اسکینڈل کے باوجود واشنگٹن نے کچھ نہیں کیا۔ ٹرمپ کی انتخابی مہم کو بڑے بڑے صہیونی ارب پتیوں نے مالی مدد دی، اور سب سے بڑی رقم اسرائیل کی امیر ترین ارب پتی، میریم ایڈلسن نے دی۔

ٹرمپ نے جب اسرائیلی کنیسٹ میں تقریر کی تو اس نے اعتراف کیا کہ اس کا سب سے بڑا عطیہ دینے والا اسرائیل کو امریکہ سے زیادہ چاہتا ہے اور وہ نیتن یاہو کو اُن کے کرپشن کیس سے بچانے کے لیے معافی دینے کا مطالبہ بھی کر رہا ہے۔

کسی اور ملک کے بارے میں ایسا تصور کرنا بھی ناممکن ہے۔ اگر روس کا کوئی ارب پتی ٹرمپ کی انتخابی مہم کو فنڈ کرتا اور پھر ٹرمپ کا سفیر ماسکو میں کسی روسی جاسوس کو معافی دینے کی وکالت کرتا تو میڈیا اس کو "غداری” قرار دے کر ہنگامہ برپا کر دیتا۔

ٹرمپ انتظامیہ ICE کا استعمال کرتی ہے تاکہ وہ غیر ملکی طلبہ، حتیٰ کہ مستقل رہائشیوں تک کو بھی نشانہ بنائے—صرف اس لیے کہ وہ آزادیِ اظہار کا حق استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ اس کی انتظامیہ کے سوشل میڈیا صفحات لوگوں کو بغیر ثبوت "حماس کا حامی” قرار دے کر دھمکیاں دیتے ہیں۔

اس پوری انتظامیہ کی کوئی پالیسی نیتن یاہو حکومت سے آزاد نہیں۔ یہ مکمل طور پر لیکوڈ پارٹی کے نظریات کے مطابق چل رہی ہے۔ سب سے انتہا پسند آوازیں ہمیشہ غالب آتی ہیں، کیونکہ لارا لوومر جیسے انتہا پسند صہیونی وائٹ ہاؤس تک رسائی رکھتے ہیں۔ جو ریپبلکن رہنما اسرائیل پر تنقید کریں، وہ شدید حملوں کا نشانہ بنتے ہیں۔

ماضی میں کہا جا سکتا تھا کہ اسرائیلی واشنگٹن کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی پر اثرانداز ہیں؛ مگر آج سوال یہ ہے: کیا ٹرمپ انتظامیہ کے پاس اسرائیل سے متعلق کسی بھی معاملے میں کوئی خود مختاری باقی بھی ہے؟

کچھ لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ ایسے صہیونی عناصر امریکی شہری ہیں، اور وہ سب دوہری شہریت نہیں رکھتے—یہ بات درست ہے۔ مگر حقیقت میں، ٹرمپ انتظامیہ کے اندر سخت گیر کرسچن صہیونی بھی اسرائیلی مؤقف سے مختلف نہیں۔ ہکابی اس کی بہترین مثال ہے، جو جاسوس پولارڈ کی رہائی کے لیے برسوں سے آواز اٹھا رہا تھا۔

ٹرمپ انتظامیہ کے اہلکاروں کو صرف اس لیے برخاست کیا گیا کہ انہوں نے اسرائیل مخالف کوئی نرم سی بات کہہ دی تھی—مثلاً مقبوضہ مغربی کنارے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی بات کرنا، جسے واشنگٹن نے اب "یہودا اور سامریہ” کا نام دے رکھا ہے۔

جارڈ کوشنر—جو امریکی ایلچی اسٹیو وٹکاف کے ساتھ نام نہاد "سیزفائر” منصوبے چلا رہا ہے—اسرائیلی غیر قانونی بستی بیت ایل کے لیے مالی معاونت سے جڑا ہوا ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے امریکی پاسپورٹ کی اہمیت اس وقت ختم ہو جاتی ہے جب وہ جنگی جرائم میں ملوث ہوں یا اسرائیلی جاسوس کی رہائی کے حق میں دلائل دیں۔

یہ کہنا کوئی تنازعہ کا باعث نہیں ہونا چاہیے کہ ٹرمپ انتظامیہ امریکی تاریخ کی مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے سب سے کمزور حکومت ہے اور ایک غیر ملکی حکومت کے سامنے مکمل طور پر جھکی ہوئی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین