جمعرات, فروری 12, 2026
ہومبین الاقوامییورپ کی کسی بھی جارحیت پر فوری جواب دیا جائے گا، پیوٹن...

یورپ کی کسی بھی جارحیت پر فوری جواب دیا جائے گا، پیوٹن کا انتباہ
ی

ماسکو (مشرق نامہ) – روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ ماسکو یورپ سے محاذ آرائی نہیں چاہتا، تاہم اگر یورپی ممالک کشیدگی بڑھانے کا فیصلہ کرتے ہیں تو روس مکمل طور پر تیار ہے اور فوراً جواب دے گا۔

منگل کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وِٹکوف اور جیَرڈ کُشنر سے کریملن میں ملاقات سے قبل، پیوٹن نے یورپی حکومتوں پر یوکرین میں جنگ بندی کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگایا۔

پیوٹن نے کہا کہ ’’ہم یورپ سے جنگ کرنے کا منصوبہ نہیں رکھتے—یہ بات میں کئی بار کہہ چکا ہوں—لیکن اگر یورپ اچانک ہم سے لڑنا چاہے، تو ہم فوری طور پر تیار ہیں۔ اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے۔‘‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’یورپ، امریکہ کی انتظامیہ کو یوکرین میں امن کی طرف جانے سے روک رہا ہے،‘‘ اور یہ کہ یورپی مطالبات ’’روس کے لیے ناقابل قبول‘‘ ہیں۔

ٹرمپ کے ایلچی ماسکو میں گزشتہ ماہ امریکی اور روسی حکام کی تیار کردہ 28 نکاتی امن تجویز پر بات چیت کر رہے ہیں۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ امریکی وفد کے ساتھ مذاکرات ’’جتنی دیر ضروری ہوں‘‘ جاری رہیں گے۔

واشنگٹن ڈی سی میں کابینہ کے اجلاس کے دوران ٹرمپ نے مختصراً مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ’’لوگ اس وقت روس میں ہیں تاکہ دیکھ سکیں کہ کیا ہم معاملہ طے کر سکتے ہیں۔‘‘

یورپی حکومتوں اور یوکرین نے امن منصوبے کی ابتدائی شرائط کی مخالفت کی تھی، جنہیں وہ ماسکو کے حق میں سمجھتے ہیں۔ ان شرائط میں مشرقی ڈونباس کے شہروں سے یوکرینی انخلا، کیف کی فوج کی تعداد پر حد مقرر کرنا، اور نیٹو میں شمولیت سے متعلق پابندیاں شامل تھیں۔

دریں اثنا، یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے منگل کے روز کہا کہ واشنگٹن اور کیف کے درمیان نئے 20 نکاتی امن فریم ورک پر اتفاق ہو گیا ہے۔ ڈبلن کے دورے کے دوران انہوں نے کہا کہ ’’کچھ تفصیل ابھی طے ہونا باقی ہے‘‘ اور یورپی تجاویز کو جنیوا میں ہونے والی پچھلی بات چیت کی بنیاد پر بہتر بنایا گیا ہے۔

یورپی رہنماؤں کو امن عمل میں اپنا مؤثر کردار بنانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ فرانس اور برطانیہ کی قیادت میں ایک نام نہاد ’’کولیشن آف دی وِلنگ‘‘ کی جانب سے یوکرین کے لیے بعد از جنگ سکیورٹی ضمانتوں کی پیشکش کی گئی، جسے روس نے مسترد کر دیا۔

مذاکرات طول پکڑنے کے ساتھ، یورپی ممالک گہرے اختلافات میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں۔ یورپی یونین اس تجویز پر بھی اتفاق رائے پیدا نہیں کر پائی جس کے مطابق بلاک میں منجمد روسی اثاثوں کے سیکڑوں ارب یورو کو استعمال کر کے یوکرین کے لیے 140 ارب یورو کے قرضے کی فراہمی ممکن بنائی جائے۔

یہ تنازع یورپی یونین کے اندر بڑھتی ہوئی دراڑوں کو نمایاں کرتا ہے۔ کچھ رکن ممالک ماسکو پر دباؤ بڑھانے کی سخت پالیسی کے حامی ہیں، جبکہ دیگر خبردار کرتے ہیں کہ ایسا اقدام قانونی چیلنجز، اقتصادی ردعمل اور روس کے ساتھ کشیدگی میں خطرناک اضافہ کا باعث بن سکتا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین