دونوں ممالک آف شور گیس تلاش اور مائننگ شعبے میں سرمایہ کاری بڑھائیں گے
(مشرق نامہ (اسلام آباد:
پاکستان اور ترکیہ نے منگل کے روز گیس اور مائننگ کے شعبوں میں اہم معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، جن کے ذریعے بالخصوص آف شور ڈرلنگ سرگرمیوں کے لیے 30 کروڑ ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری آئے گی۔
ترکیہ کے وزیرِ توانائی و قدرتی وسائل البارسلان بایراکتار، جو پاکستان کے دورے پر ہیں، نے کہا کہ ترکیہ پاکستان کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے تیل و گیس کی تلاش، توانائی کے انفراسٹرکچر اور مائننگ کے شعبے میں مزید منصوبے شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
انہوں نے وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک سے ملاقات کے دوران کہا،
“دو طرفہ تجارت کو 5 ارب ڈالر تک لے جانے کے مشترکہ ہدف کے حصول میں توانائی اور مائننگ کے شعبوں میں گہرا تعاون اہم کردار ادا کرے گا۔”
وزیراعظم شہباز شریف نے مفاہمت کی یادداشتوں اور معاہدوں کے تبادلے کی تقریب میں شرکت کی، جن میں ایسٹرن آف شور انڈس-سی کے لیے ڈیڈ آف اسائنمنٹ، زیارت نارتھ بلاک کے لیے پٹرولیم کنسیشن، سکھپور-II بلاک کے لیے پٹرولیم کنسیشن، اور آف شور ڈیپ-سی اور آف شور ڈیپ-ایف بلاکس کے لیے پٹرولیم کنسیشن شامل تھے۔
علی پرویز ملک نے ان معاہدوں کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھے گی اور دو طرفہ تعلقات مضبوط ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف صدر رجب طیب ایردوان کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں، اور ’’یہی جذبہ پاکستان کی اس حکمتِ عملی کی بنیاد ہے کہ اسٹریٹجک شعبوں میں دو طرفہ تعاون بڑھایا جائے‘‘۔
ملاقات کے دوران میری انرجیز، او جی ڈی سی ایل اور پی پی ایل کے مینیجنگ ڈائریکٹرز نے اپنے جاری اور مجوزہ منصوبوں پر بریفنگ دی اور ترک اداروں کے ساتھ تیل و گیس کی تلاش اور مائننگ میں تعاون کے مواقع اجاگر کیے۔
او جی ڈی سی ایل کے ایم ڈی نے ریکو ڈیک کاپر اینڈ گولڈ پروجیکٹ, پاکستان کے پہلے شیل گیس پائلٹ پروجیکٹ, اور ٹائٹ گیس کی تلاش کے منصوبوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے ترک سرمایہ کاروں کو او جی ڈی سی ایل کے غیر روایتی ہائیڈرو کاربن پروگرام میں جائنٹ وینچر اور تکنیکی شراکت داری کی دعوت دی۔
البارسلان بایراکتار اور علی پرویز ملک نے اتفاق کیا کہ ترکش پیٹرولیم کا دفتر دسمبر میں اسلام آباد میں کھولا جائے گا، جہاں 10 ترک ماہرین مقامی عملے کے ساتھ کام کریں گے۔ دونوں وزراء نے پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری کے لیے مشترکہ ٹریڈنگ کمپنی قائم کرنے کے امکان پر بھی اتفاق کیا۔
اہم معاہدے اور لائسنس
- انڈس آف شور بلاک-سی میں 25 فیصد ورکنگ انٹرسٹ اور آپریٹرشپ پی پی ایل سے ترکش پیٹرولیم اوورسیز کمپنی (TPOC) کو منتقل کرنے کا اسائنمنٹ معاہدہ، جس میں میری انرجیز اور او جی ڈی سی ایل بھی شریک ہیں۔
- آف شور ڈیپ-ایف بلاک کے لیے تلاش کا لائسنس میری انرجیز (آپریٹر)، ٹی پی او سی اور فاطمہ پٹرولیم کو جاری کیا گیا۔
- آف شور ڈیپ-سی بلاک کے لیے بھی یہی کنسورشیم لائسنس کا حامل ہوگا۔
- سکھپور-II بلاک کے لیے آن شور تلاش کا لائسنس پرائم پاکستان (آپریٹر)، او جی ڈی سی ایل، میری انرجیز اور ٹی پی او سی کو دیا گیا۔
- زیارت نارتھ بلاک کے لیے آن شور لائسنس میری انرجیز (آپریٹر)، او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل، ٹی پی او سی اور جی ایچ پی ایل کو جاری کیا گیا۔
بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں ترک سرمایہ کاروں کی دلچسپی
پاکستان پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (DISCOs) کی نجکاری میں تجربہ کار بین الاقوامی نجی سرمایہ کاروں کی شمولیت کا منتظر ہے۔
اس سلسلے میں ترک کمپنیوں کی دلچسپی کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیرِ توانائی اویس احمد خان لغاری نے ترک وزیرِ توانائی سے ملاقات میں بتایا کہ پاکستان جلد تین ڈسکوز کو نجکاری کے لیے پیش کرے گا۔ انہوں نے ترکیہ کی حکومت کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے پاکستانی ماہرین کو ترک توانائی ماڈل کا مطالعہ کرنے کا موقع فراہم کیا، جو نجی شعبے پر مبنی ہے۔

