جمعہ, فروری 13, 2026
ہومنقطہ نظراسرائیلی حراستی گولاگ میں پھنسے فلسطینی قیدیوں کیلیے وکیل کی ملاقات ایک...

اسرائیلی حراستی گولاگ میں پھنسے فلسطینی قیدیوں کیلیے وکیل کی ملاقات ایک زندگی بخش سہارا
ا

جنان عبدو

“ہتھکڑیوں اور تاریکی کے درمیان: اپنے وکیل سے ملاقات میں ایک سانس کا لمحہ۔” یہ وہ عنوان تھا جو ایک فلسطینی اسیر، جسے میں یہاں RZ کہوں گی، نے میرے نام لکھے اپنے خط کو دیا، جس میں اُس نے اوفر فوجی جیل میں میری ملاقات کی اہمیت بیان کی۔

RZ، جو اب رہا ہو چکا ہے، قید کے دوران مکمل طور پر دنیا سے کٹا ہوا تھا۔ اسے غزہ سے گرفتاری کے بعد کئی ماہ تک شدید تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔

وہ نہیں جانتا تھا کہ اسے کہاں بند رکھا گیا ہے، کیوں رکھا گیا ہے اور کب تک رکھا جائے گا۔ اسے اپنے خاندان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا؛ اس کا بھائی، جسے اس کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا، جیل کے ایک اور حصے میں قید تھا۔

انہیں ابتدا میں بدنام زمانہ سدے تیمن حراستی مرکز میں رکھا گیا تھا، لیکن جیسے ہی میں نے وہاں دونوں سے ملاقات کی درخواست جمع کرائی، انہیں فوراً اوفر منتقل کر دیا گیا—ایک ایسا حربہ جو میری نظر میں میری ملاقات میں تاخیر کرنے اور کسی بیرونی وکیل کو سدے تیمن میں ہونے والی ہولناک خلاف ورزیوں کو دیکھنے سے روکنے کے لیے اختیار کیا گیا۔

RZ کا خط اس کے کرب کی مکمل تفصیل بیان کرتا ہے۔

“میں گرفتاری کی کتابوں میں بس ایک نیا نمبر تھا—ایک ایسا نمبر جسے آنکھوں پر پٹی باندھ کر اندھیرے کی نامعلوم گہرائی میں گھسیٹا گیا، سدے تیمن میں بھلا دیا گیا،” اس نے لکھا، اور مزید بتایا کہ بدنام جیل نے “مجھے تین ماہ تک نگل لیا، جس دوران وہاں نہ دن تھا نہ رات، بلکہ مسلسل تشدد اور پابندیاں، چیخیں، لاتیں اور مار پیٹ تھی۔ اس دوران ہمیں کسی بھی ایسی خبر یا سرگوشی سے مکمل طور پر دور رکھا گیا جو دل کو ذرا سا سکون دیتی۔

“ہم زمین اور آسمان کے درمیان معلق تھے، یہ جانے بغیر کہ کیا غزہ اب بھی مضبوط کھڑا ہے، یا کیا ہمارے بچے اب بھی زندہ ہیں یا انہیں ملبے نے نگل لیا ہے۔”

‘کسی بھولی ہوئی شے کا ایک ٹکڑا’

اوفر منتقلی کے بعد بھی، RZ کے مطابق، اسے وہی جبر اور تشدد سہنا پڑا۔ پھر ایک دن اسے یاد ہے کہ اسے “کسی بھولی ہوئی شے کے ٹکڑے کی طرح”—ہتھکڑیوں، آنکھوں پر پٹی اور بیڑیوں کے ساتھ—چھوٹے پتھروں سے بھرے نوکیلے فرش پر گھسیٹا گیا۔

گھنٹوں تک “مجھے زانوؤں کے بل بیٹھنے پر مجبور کیا گیا، میری کمر درد سے کراہ رہی تھی، میرا سینہ گھٹ رہا تھا۔ میرے خیالات خوف کے بادل میں بھاگ رہے تھے: کیا مجھے ایک اور تفتیش کے دور کے لیے لے جایا جا رہا ہے؟ ایک اور تشدد کی ‘پارٹی’ کے لیے؟” RZ نے یاد کیا۔ “یا کیا مجھے کسی نامعلوم جگہ منتقل کیا جا رہا ہے؟”

بالآخر، اسرائیلی حکام اسے ایک چھوٹے سے کمرے میں لائے اور اس کی آنکھوں کی پٹی ہٹا دی۔ اس کے سامنے دو خواتین بیٹھی تھیں: میں اور اسرائیل میں پبلک کمیٹی اگینسٹ ٹارچر سے میری ساتھی۔

“میرا دل ٹھٹھک گیا: کیا یہ دونوں مختلف لباس میں ملبوس تفتیش کار ہیں؟” RZ نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے یہی سوچا۔

مگر جب میں نے اپنا تعارف بطور وکیل کروایا، تو اس کے مطابق ایک ہلکی سی امید جاگنے لگی۔

“میں خاموش تھا، گھبرایا ہوا، اسے تھکی ہوئی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا،” اس نے لکھا۔ “لیکن مجھے لگا کہ شک کی باڑ ٹوٹ گئی ہے۔ وہ اب اجنبی نہیں لگ رہی تھی، بلکہ سیاہ رات کے درمیان ایک چمک کی طرح۔ ٹھنڈے پانی کا ایک قطرہ جو میری پیاسی روح پر گرا ہو۔”

میں کبھی نہیں بھولوں گی RZ کی وہ نظر جب اس نے ہمیں اس سخت پلاسٹک کی دیوار کے پیچھے دیکھا جو کمرے کو دو حصوں میں بانٹ رہی تھی؛ وہ ہمیں ایسے دیکھ رہا تھا جیسے ہم آسمان سے اُترے ہوں۔ بعد میں ہمیں علم ہوا کہ گرفتاری کے لمحے سے اب تک وہ مکمل طور پر تنہا رکھا گیا تھا۔

میں نے اسے بتایا کہ مجھے اس کے خاندان کی طرف سے پاور آف اٹارنی ملی ہے اور اسے اس کی اہلیہ کے دستخط والا دستاویز دکھایا۔ یہ اس کا اعتماد جیتنے کے لیے کافی تھا، اور وہ اپنا دل کھولنے لگا، اپنے ساتھ ہونے والی ہراسانی، غیر انسانی سلوک اور اذیتی حالات کے بارے میں بتانے لگا۔

میں نے اسے اسرائیل کے ’غیر قانونی لڑاکا قانون‘ (UCL) کے تحت اس کی قانونی حیثیت سمجھائی۔ یہ ایک سفاک قانونی ہتھیار ہے جس کے ذریعے غزہ کے فلسطینیوں کو بغیر فردِ جرم یا مقدمے کے چھ، چھ ماہ کے قابلِ توسیع دورانیوں میں انتظامی حراست میں رکھا جاتا ہے۔
7 اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیل 4,000 سے زائد افراد کو UCL کے تحت گرفتار کر چکا ہے۔

سچ کی کرن

اس دن RZ سے ملاقات کے بعد میں جیل سے یہ امید لیے نکلی کہ شاید ہماری گفتگو نے اس کی روندی گئی انسانیت واپس لوٹا دی ہو۔ اسے حق ملا کہ وہ بول سکے، اپنی گواہی سنا سکے اور جو کچھ برداشت کیا اسے آشکار کر سکے۔ یہ قانونی پیروی کا ایک دروازہ بھی کھول گیا۔

RZ کے الفاظ یہ سب واضح کرتے ہیں:
“پینتالیس منٹ، اس سے زیادہ نہیں۔ مگر یہ میرے لیے زندگی کی رسی تھی،” اس نے ہماری ملاقات کے بارے میں کہا۔ “یہ وہ لمحہ تھا جب میں نے اپنی وہ انسانیت دوبارہ حاصل کی جسے محافظ دفن کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ مجھے محسوس ہوا کہ میں اب بھی انسان ہوں، میرا ایک خاندان ہے، ایک مقدمہ ہے، ایک وطن ہے جسے ذبح کیا جا رہا ہے اور جلایا جا رہا ہے، مگر وہ مرا نہیں۔”

RZ ایک سال بعد رہا ہو گیا، مگر اس کا بھائی اب بھی قید میں ہے—اور غزہ میں ہونے والی تباہی کی وسعت سے بے خبر ہے۔

“وہ نہیں جانتا کہ ہماری ماں، ہماری بہنیں، بھائی اور ان کے بچے ملبے کے نیچے مارے جا چکے ہیں؛ اور ہمارے گھروں کو مٹا کر زمین کے برابر کر دیا گیا ہے؛ اور یہ کہ آج ہم ایک ایسے وطن میں ایک خیمے سے دوسرے خیمے کی طرف جاتے پھر رہے ہیں جو مٹی کے سوا کچھ نہیں بچا،” RZ نے لکھا۔

اس نے دوبارہ زور دیا کہ ہماری ملاقات اس کے لیے کتنی اہم تھی، اسے “اس بات کا ثبوت” قرار دیا کہ “سچ اوفر جیل کی موٹی دیواروں کو چیر سکتا ہے، اور انسان کی آواز اس خاموشی پر غالب آ سکتی ہے جو محافظ مسلط کرتے ہیں۔”

یہ الفاظ واضح کرتے ہیں کہ کس طرح قیدیوں کو غیر انسانی بنانا ایک جذباتی اذیت کے نظام کے طور پر استعمال ہوتا ہے، انہیں دنیا اور اپنے خاندان کی ہر خبر سے کاٹ کر۔

وکیلوں کی ملاقاتیں اضافی اہمیت رکھتی ہیں؛ وہ بیرونی نگرانی اور قانونی جائزے کا ذریعہ بنتی ہیں۔ بہت سے انسانی حقوق کارکن اب بھی اسرائیلی جیلوں تک رسائی سے محروم ہیں، اور ہمارے جمع کردہ بیانات کے مطابق جج اکثر قیدیوں سے صرف موبائل فون کی اسکرین کے ذریعے ملتے ہیں۔ یہ ملاقاتیں بمشکل ایک منٹ رہتی ہیں، نتیجتاً حراست میں مزید توسیع ہو جاتی ہے، بغیر اس کے کہ کوئی ان کی حالت کے بارے میں جانچ کرے۔

یوں وکیل ہی وہ واحد حقیقی انسان ہوتے ہیں جن سے قیدی مل سکتے ہیں۔ ان ملاقاتوں میں کسی بھی تاخیر یا منسوخی کا مقصد اسی پالیسی کو تقویت دینا ہے جو قیدیوں کی انسانیت مٹانے اور نظامی زیادتیوں کو چھپانے کا ہدف رکھتی ہے۔
یہ بات بھی اتفاق نہیں کہ زیادہ تر قیدیوں نے کہا کہ میں پہلی “انسان”—’شخص‘ سے مختلف معنوں میں—تھی جسے انہوں نے گرفتاری کے بعد دیکھا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین