جمعہ, فروری 13, 2026
ہومپاکستانجعلی خبروں کیخلاف ملک گیر کریک ڈاؤن کا اعلان

جعلی خبروں کیخلاف ملک گیر کریک ڈاؤن کا اعلان
ج

اسلام آباد (مشرق نامہ) – وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پیر کو اعلان کیا کہ وزارتِ اطلاعات، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے ساتھ مل کر سوشل میڈیا پر جعلی خبروں کے پھیلاؤ کے خلاف بڑے پیمانے پر ملک گیر کارروائی شروع کرے گی۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نقوی نے کہا کہ حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا 90 فیصد مواد جعلی ہے، تاہم انہوں نے اظہارِ رائے کی آزادی اور تنقید کے حق کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ مرکزی دھارے کے میڈیا کے برعکس سوشل میڈیا غیر منظم ہے۔ ان کے مطابق نہ کوئی ادارتی نظام ہے اور نہ ہی کوئی نگرانی، اس لیے کوئی بھی شخص تصویر یا خبر بنا کر شیئر کر دیتا ہے۔ “ہم اس کی اجازت نہیں دیں گے،” انہوں نے کہا۔

محسن نقوی نے کہا کہ مستند رپورٹنگ شواہد پر مبنی ہوتی ہے۔ “آپ کسی پر بھی الزام نہیں لگا سکتے، نہ کسی کو اپنی طرف سے زندہ یا مردہ قرار دے سکتے ہیں۔ یہ منظور نہیں کیا جاسکتا۔” ان کے مطابق وزارتِ اطلاعات اور NCCIA بہت بڑے پیمانے پر کارروائی کا آغاز کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ صرف وہی افراد صحافی تصور ہوں گے جو ادارتی ڈھانچے کے تحت کام کرنے والے تسلیم شدہ میڈیا اداروں سے وابستہ ہوں۔ “جو لوگ جھوٹی خبریں پھیلاتے ہیں وہ ہمارے نزدیک صحافی نہیں،” انہوں نے کہا۔

وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ آنے والی کارروائی کا ہدف صحافی نہیں بلکہ وہ عناصر ہیں جو جان بوجھ کر غلط معلومات پھیلاتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نئی ریگولیٹری باڈی بنانے کا عمل پہلے ہی جاری ہے۔

انہوں نے بظاہر عمران خان کی بہنوں کے بھارتی میڈیا کو دیے گئے حالیہ انٹرویوز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ “لوگوں کو بے نقاب ہونا چاہیے۔ ملک کی سالمیت کی ایک حد ہوتی ہے جسے پار نہیں کیا جاسکتا۔”

چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر پر تنقید سے متعلق سوال پر نقوی نے کہا کہ ریاست ایسی تنقید برداشت نہیں کرے گی۔ “یہ سلسلہ ختم ہوگا۔ اور جو لوگ بیرون ملک بیٹھے ہیں، وہ جان لیں کہ وہ جلد واپس آ رہے ہیں۔”

پریس بریفنگ کے آغاز میں وزیر داخلہ نے خیبر پختونخوا میں غیر قانونی افغان مہاجرین کی واپسی سے متعلق مشکلات کی نشاندہی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے ڈی نوٹیفائی کرنے کے باوجود افغان کیمپ اب بھی صوبے میں فعال ہیں۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ افغان باشندے حالیہ دہشت گردی کے واقعات—بشمول وفاقی کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر پشاور پر 24 نومبر کے حملے—میں ملوث رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایس ایچ اوز کو ہدایت کی گئی ہے کہ غیر قانونی افغانوں کی نشاندہی کریں تاکہ انہیں واپس بھیجا جا سکے۔ “میرا پیغام یہ ہے کہ غیر قانونی افغان عزت کے ساتھ چلے جائیں۔ اگر آپ دوبارہ ڈی پورٹ ہو کر واپس آئے تو گرفتار کیے جائیں گے۔”

نقوی نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کی پالیسی میں ہم آہنگی یقینی بنانے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ “قومی سلامتی کے معاملے پر کوئی صوبہ اپنی الگ پالیسی نہیں چلا سکتا۔ ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔”

ملک سے باہر سفر پر پابندی اور مسافروں کو آف لوڈ کرنے کی خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روزانہ صرف 50 سے 70 افراد کو روکا جاتا ہے، اور یہ کہ ایف آئی اے کو حقائق جاری کرنے چاہئیں تاکہ سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی “ایجنٹ مافیا” کی مہم کا جواب دیا جا سکے۔ ان کے مطابق صرف وہی مسافر روکے جاتے ہیں جن کے کاغذات نامکمل ہوتے ہیں، جبکہ حکومت پاکستان کے پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی بہتر بنانے کے لیے بھی کام کر رہی ہے۔

CDF (چیف آف ڈیفنس فورسز) کے نوٹیفکیشن میں تاخیر سے متعلق سوشل میڈیا پر پھیلنے والی قیاس آرائیوں پر ردعمل دیتے ہوئے نقوی نے کہا کہ نئے ادارے کا قیام—خصوصاً آئینی ترمیم کے بعد—وقت اور طریقہ کار کا تقاضا کرتا ہے۔
“لوگ چاہتے ہیں کہ سب کچھ بٹن دبانے سے ہو جائے، مگر نظام وقت لیتے ہیں،” انہوں نے کہا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین