لندن (مشرق نامہ) – برطانیہ میں ویپ کے غلط طریقے سے پھینکے جانے کے بعد آگ بھڑک اٹھنے کے بڑھتے واقعات نے بڑے حفاظتی خدشات کو جنم دیا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ویپ میں موجود لیتھیم بیٹریاں اگر کچرے میں دب جائیں یا ٹوٹ جائیں تو آگ بھڑکا سکتی ہیں، جو نہ صرف ماحول بلکہ انسانی جانوں کے لیے بھی خطرناک ہے۔
انتہائی تشویشناک امر یہ ہے کہ صحت کے لیے مضر سمجھے جانے والے ویپ اس وقت اور بھی خطرناک ہو جاتے ہیں جب انہیں بے احتیاطی سے کچرے میں پھینک دیا جائے۔
برطانیہ کی ایک بڑی ویسٹ مینجمنٹ فرم سیؤز (Suez) نے بتایا کہ پابندی کے چھ مہینے بعد بھی غلط طریقے سے پھینکے گئے ویپ کے باعث کوڑے کے ڈھیروں، ویسٹ اسٹورز اور ردی کے ٹرکوں میں آگ کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ کمپنی کے مطابق رواں سال اب تک 339 سے زائد آگ کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، یعنی تقریباً روزانہ ایک آگ—جس سے ملازمین کی جانیں خطرے میں پڑ رہی ہیں اور لاکھوں پاؤنڈ کا نقصان ہو چکا ہے۔
کمپنی نے وضاحت کی کہ ویپ میں لگی لیتھیم بیٹریاں فضلہ پروسیسنگ کے دوران دبنے یا ٹوٹنے پر بھڑک اٹھتی ہیں۔
سیؤز کے چیف آفیسر برائے ماحولیات و امور خارجہ ایڈم ریڈ نے کہا کہ
’’پابندی کے چھ ماہ بعد بھی سڑکوں، کوڑے دانوں اور ری سائیکلنگ مراکز میں ویپ کی موجودگی بدستور ایک عام منظر ہے۔‘‘
ماہرین نے واضح کیا کہ ویپ کو عام کچرے یا گھریلو ری سائیکلنگ میں نہیں پھینکنا چاہیے بلکہ انہیں خصوصی ری سائیکلنگ بِنز میں ڈالنا ضروری ہے، جو مختلف دکانوں اور ری سائیکلنگ مراکز میں دستیاب ہیں۔
ایڈم ریڈ کے مطابق پابندی پہلا اہم قدم تھی، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف ایک ’’عارضی حل‘‘ ثابت ہوئی ہے، جبکہ ہر روز بڑی تعداد میں ویپ کچرے کے ڈھیروں میں شامل ہو رہی ہے۔
ایک اور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی بِفا (Biffa) نے بھی ستمبر 2025 میں خبردار کیا تھا کہ پابندی کے باوجود غلط طریقے سے پھینکے گئے ویپ کے واقعات بڑھ رہے ہیں اور ان سے پہلے سے زیادہ آگ لگ رہی ہے۔
اس حوالے سے انڈیپنڈنٹ برٹش ویپ ٹریڈ ایسوسی ایشن (IBVTA) نے بتایا کہ پابندی کے بعد ویپ کی فروخت نصف رہ گئی ہے، تاہم صارفین کو ذمہ دارانہ طریقے سے انہیں ٹھکانے لگانے سے متعلق مزید آگاہی دینے کی ضرورت ہے۔
کمپنیوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ سنگل یوز ویپ اب بھی غیر قانونی طور پر فروخت ہو رہے ہیں اور ماحولیاتی بحران میں اضافہ کر رہے ہیں۔
بی بی سی کے مطابق حکومت نے غیر قانونی ویپ فروخت کرنے والے دکانداروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا ہے، جس میں £10,000 تک جرمانہ اور قید کی سزا شامل ہے۔
حکومتی ترجمان نے بتایا کہ:
’’ہم ٹریڈنگ اسٹینڈرڈز اور مقامی حکام کے ساتھ مل کر پابندی پر عملدرآمد یقینی بنا رہے ہیں، اور اس بات کو لازمی قرار دیا ہے کہ تمام ویپ ریٹیلرز ری سائیکلنگ بِنز فراہم کریں۔ اپریل 2025 سے ملک بھر میں 10,500 ٹیک بیک بِنز نصب کیے جا چکے ہیں۔‘‘
سیؤز نے صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سستے اور ناقص ویپ سے پیدا ہونے والے آتشزدگی اور ماحولیاتی نقصان کے خلاف مزید جامع قومی ری سائیکلنگ نظام متعارف کرایا جائے، جس کی مالی ذمہ داری مینوفیکچررز پر عائد ہو۔
برطانیہ میں سنگل یوز ویپ پر پابندی یکم جون 2025 سے نافذ ہے، جو آن لائن اور دکانوں دونوں پر لاگو ہوتی ہے۔ حکومت نے یہ قدم ویپ کے طبی اور ماحولیاتی اثرات کے پیش نظر اٹھایا تھا۔
صحت پر ویپ کے نقصانات
- ویپ یا ای سگریٹ پھیپھڑوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور دمے کی شدت بڑھاتے ہیں۔ کئی صارفین کو مسلسل سانس پھولنے کی شکایت رہتی ہے۔
- ویپ میں موجود نیکوٹین دماغ پر شدید انحصار پیدا کرتی ہے، جس سے اضطراب، ڈپریشن اور روزمرہ ذہنی دباؤ بڑھتا ہے۔
- ویپ کا استعمال علمی صلاحیت، فیصلہ سازی اور دل کی بیماریوں کے خطرات میں اضافہ کرتا ہے۔
- دیگر مسائل میں نامردی اور بے خوابی شامل ہیں۔
ماحولیاتی نقصان
- ویپ میں موجود لیتھیم بیٹریاں پھینکے جانے کے بعد پھٹ سکتی ہیں اور آگ لگنے کا شدید خطرہ پیدا کرتی ہیں۔
- ویپ کو پھینکنے سے زہریلے کیمیکلز، پلاسٹک اور دیگر فضلہ ماحول میں شامل ہو کر آلودگی بڑھاتے ہیں۔
- خاص طور پر ڈسپوزیبل ویپ الیکٹرانک فضلے کا بڑا ذریعہ بن چکے ہیں، جنہیں ری سائیکل کرنا مشکل اور مہنگا ہے، جبکہ یہ شہروں میں نظریاتی آلودگی (visual pollution) بھی بڑھا رہے ہیں۔

