تحریر: زینت آدم
یورپی مالی اعانت، جو بظاہر غیر قانونی مہاجرت روکنے کے لیے دی گئی تھی، نے نادانستہ طور پر سوڈانی نیم فوجی گروہوں کو مضبوط کیا، جبکہ کمزور برآمدی نگرانی نے اسلحہ کے بہاؤ کو ممکن بنایا۔
سوڈان، اپریل 2023 میں کھلی جنگ بھڑکنے سے بہت پہلے ہی بحران کے دہانے پر کھڑا تھا۔ عمر البشیر کی دہائیوں پر مشتمل آمرانہ حکومت نے ایک نازک معیشت، منتشر سکیورٹی ڈھانچوں اور گہرے پیوست نیم فوجی ڈھانچے کی شکل میں ایک کمزور ریاست چھوڑی تھی۔
2019 میں البشیر کے خاتمے کے بعد قائم ہونے والا نازک شہری-فوجی عبوری انتظام بھی متحارب دھڑوں کو یکجا کرنے میں ناکام رہا۔ سیاسی عدم استحکام، مقامی بغاوتیں اور سوڈانی آرمڈ فورسز (SAF) اور ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) — جو پاپولر ڈیفنس فورسز کا جانشین ہیں، وہی سرکاری حمایت یافتہ ملیشیا جو 2000 کی دہائی کے اوائل میں دارفور میں جنگی جرائم کی مرتکب ہوئی تھیں — کے درمیان بڑھتی ہوئی رقابت بالآخر ایک مکمل تصادم میں تبدیل ہوگئی۔
2023 کے وسط تک، سوڈان عملی طور پر متنازعہ علاقوں میں تقسیم ہو چکا تھا۔ خرطوم اور ام درمان جیسے بڑے شہری مراکز میدانِ جنگ بن گئے، اور لاکھوں شہری ملک کے اندر بے گھر ہوئے یا سرحد پار پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔
اگرچہ جغرافیائی طور پر دور، یورپی یونین نے ان واقعات میں ایک نہایت اہم کردار ادا کیا۔ تقریباً ایک دہائی تک، اس نے مہاجرت کو بیرونی سرحدوں سے کنٹرول کرنے کی حکمتِ عملی اپنائی، جس کے تحت افریقی ریاستوں کو امداد، تربیت اور سازوسامان فراہم کیا گیا تاکہ یورپ کی جانب غیر قانونی آمد کو کم کیا جاسکے۔
سوڈان میں اس حکمتِ عملی نے وہ تباہ کن نتائج پیدا کیے جن کے لیے یورپی یونین کو ابھی تک جوابدہ نہیں ٹھہرایا گیا۔ ’’مہاجرت کے انتظام‘‘ اور ’’صلاحیت سازی‘‘ کے نام پر فراہم کی گئی فنڈنگ، اسلحے کے غیر شفاف بہاؤ، خلیجی ثالثوں اور کمزور نگرانی کے ساتھ مل کر ایک ایسا ماحول تشکیل دیتی رہی، جس میں یورپی رقوم اور سازوسامان — جو بظاہر سرحدی کنٹرول اور آبادی کو مستحکم کرنے کے لیے تھا — بالواسطہ طور پر انہی طاقتوں کو مضبوط کرتا رہا جو آج سوڈان میں جنگی جرائم کی مرتکب ہیں۔
2014 سے 2018 کے درمیان، یورپی یونین نے EU Emergency Trust Fund for Africa (EUTF) اور Better Migration Management (BMM) کے ذریعے سوڈان کو 200 ملین یورو (موجودہ شرح مبادلہ کے مطابق 232 ملین ڈالر) سے زائد فراہم کیے۔
یہ پروگرام باضابطہ طور پر مہاجرت کنٹرول کو تقویت دینے، سرحدی سکیورٹی بہتر بنانے اور اسمگلنگ کے خلاف کارروائی کے لیے تھے۔ لیکن حقیقت میں، انہوں نے یورپی یونین اور سوڈان کے سکیورٹی ڈھانچوں — بشمول وہ یونٹس جو بعد میں RSF کا حصہ بن گئے — کے درمیان تعاون کو مضبوط کیا۔
2017 میں ہی Enough Project نامی تنظیم نے Border Control from Hell کے عنوان سے رپورٹ شائع کر کے خبردار کیا کہ ’’سوڈان کے ساتھ یورپی یونین کی شراکت کا سب سے سنگین پہلو یہ ہے کہ RSF، جو ملک کے سب سے بدنامِ زمانہ نیم فوجی گروہوں میں سے ایک ہے، یورپی فنڈنگ سے فائدہ اٹھا سکتی ہے‘‘، اور یہ کہ ’’مہاجرین کی شناخت اور رجسٹریشن کے لیے فراہم کردہ آلات حکومت کی نگرانی کی صلاحیت کو بھی بڑھا دیں گے، جس نے گزشتہ 28 برسوں سے اپنے شہریوں کو تشدد کے ذریعے دبایا ہے۔‘‘
دو سال بعد، یورپی یونین کو سوڈان میں متعدد مہاجرت کنٹرول سرگرمیوں کو اس خطرے کے پیش نظر معطل کرنا پڑا کہ وسائل ’’جبر‘‘ کے مقاصد کے لیے استعمال ہوسکتے ہیں، جیسا کہ ڈوئچے ویلے نے ایک یورپی دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا۔
اس کے باوجود، 2018 میں یورپی بلاک کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک فیکٹ شیٹ What the EU really does in Sudan میں دعویٰ کیا گیا کہ ’’یورپی یونین سوڈان کی حکومت کو کوئی براہِ راست یا بالواسطہ مالی معاونت فراہم نہیں کرتی … اور RSF کو یورپی فنڈنگ سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔‘‘
یہ سب ایک بنیادی سوال اٹھاتا ہے: اگر یورپی یونین کو ان خطرات کا علم تھا، تو اس نے ایسے ماحول میں کروڑوں یورو کیوں خرچ کیے جہاں تربیت، سامان اور فنڈز کے حتمی استعمال پر کنٹرول واضح طور پر کمزور تھا؟
اس سے بھی سنگین بات یہ ہے کہ یورپی کردار صرف فنڈنگ تک محدود نہیں تھا — وہ بالواسطہ طور پر اسلحے کا ذریعہ بھی بن رہا تھا۔
جنگ کے شدت اختیار کرنے کے ساتھ، تحقیق کاروں نے سوڈان میں RSF اور SAF کے درمیان گردش کرنے والے غیر ملکی تیار کردہ اسلحے اور گولہ بارود کو بے نقاب کرنا شروع کیا۔ تصدیق شدہ تصاویر، کھلے ذرائع سے تجزیہ، اور سیریل نمبر کے سراغ نے ظاہر کیا کہ سوڈان کے میدانوں میں یورپی ساختہ نظام استعمال ہو رہے ہیں۔
نومبر 2024 میں، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک تحقیق جاری کی جس میں بتایا گیا کہ نیمَر اجبان بکتر بند گاڑیاں فرانسیسی ساختہ گیلِکس دفاعی نظام سے لیس تھیں۔ ایمنسٹی نے مختلف مقامات سے ویڈیوز اور تصاویر کی تصدیق کی اور نتیجہ اخذ کیا کہ اگر یہ گاڑیاں دارفور میں استعمال ہوئیں تو وہ برسوں پرانے اقوام متحدہ کے اسلحہ پابندی کی خلاف ورزی ہوں گی۔
اپریل میں، فرانس24 اور روئٹرز کی تحقیقات نے شمالی دارفور میں RSF کے ایک قافلے سے ملنے والے 81 ملی میٹر مارٹر گولوں کا سراغ بلغاریہ تک پہنچایا۔ ان پر موجود نشانات 2019 میں متحدہ عرب امارات کو برآمد کیے گئے بلغاریہ کے تیار کردہ گولوں سے مطابقت رکھتے تھے۔ بلغاریہ نے ان گولوں کی دوبارہ برآمد کی اجازت نہیں دی تھی۔
اکتوبر میں، گارڈین نے رپورٹ کیا کہ برطانوی فوجی سازوسامان — بشمول چھوٹے ہتھیاروں کے ٹارگٹ سسٹم اور APC انجن — سوڈان میں RSF کے قبضے میں تھے، اور ممکنہ طور پر انہیں بھی UAE کے ذریعے منتقل کیا گیا تھا۔
یہ تمام شواہد ایک واضح نمونہ ظاہر کرتے ہیں: یورپی ساختہ اسلحہ جو تیسرے ممالک کو باضابطہ طور پر برآمد کیا گیا، بعد میں سوڈان کے تنازعے میں استعمال ہوا، پابندیوں اور حفاظتی اقدامات کے باوجود۔
اگرچہ UAE تنازعے میں کسی کردار سے انکار کرتا ہے، لیکن اس کا ثالثی مرکز کے طور پر کردار کئی تحقیقات میں ثابت ہو چکا ہے۔ اس کے باوجود، یورپی سپلائر — جو اینڈ یوزر معاہدوں کے پابند ہیں — ذمہ داری سے بری نہیں ہوسکتے۔
برطانوی اور یورپی قوانین کے تحت، حکومتوں پر لازم ہے کہ جب اسلحے کے غلط استعمال یا جنگی علاقوں تک منتقلی کا واضح خطرہ ہو تو وہ لائسنس منسوخ کریں۔ لہٰذا سوڈان میں یورپی ساختہ اسلحے کا استعمال ترسیل کے بعد نگرانی اور نفاذ کے سخت جائزے کا متقاضی ہے۔
اس کے باوجود، یورپی اور برطانوی حکومتیں ان ممالک کو نئے برآمدی لائسنس جاری کرتی رہی ہیں جہاں سے اسلحہ منحرف ہوچکا ہے۔ مڈل ایسٹ آئی کی نئی رپورٹوں کے مطابق، برطانیہ نے رواں سال اپریل سے جون کے درمیان UAE کو تقریباً 227 ملین ڈالر مالیت کے فوجی لائسنس جاری کیے — باوجود اس کے کہ اسے آگاہ کیا گیا تھا کہ اماراتی اسلحہ RSF تک پہنچ چکا ہے۔
یورپی ممالک اس معاملے میں تنہا نہیں۔ بہت سی جمہوری ریاستیں بھی اپنے اسلحے کے جنگی علاقوں میں استعمال روکنے میں ناکام رہی ہیں۔
میرا اپنا ملک، جنوبی افریقہ بھی اس سلسلے میں شدید تنقید کا سامنا کر چکا ہے۔ 2010 کی دہائی کے وسط میں، نیشنل کنوینشنل آرمز کنٹرول کمیٹی (NCACC) پر دباؤ بڑھا کہ جنوبی افریقی ساختہ اسلحہ یمن میں سعودی اور اماراتی افواج کے پاس موجود تھا۔
نتیجتاً، 2019 میں NCACC نے کئی برآمدی اجازت نامے روک دیے، خاص طور پر ’’انتہائی مہلک‘‘ اشیاء کے لیے۔ جنوبی افریقی حکام نے مطالبہ کیا کہ انہیں درآمد کرنے والے ممالک میں تنصیبات کا معائنہ کرنے کی اجازت دی جائے — جسے UAE، سعودی عرب اور کئی دیگر ممالک نے مسترد کیا۔ 2022 تک، طویل مذاکرات کے بعد بہت سی رکی ہوئی کھیپیں بحال ہوئیں۔
آج شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوبی افریقی اسلحہ بھی سوڈان میں منتقل ہو چکا ہے۔ محققین اور تجزیہ کار دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے سوڈان میں استعمال ہونے والا ایسا اسلحہ شناخت کیا ہے جو جنوبی افریقہ کی ساخت سے مطابقت رکھتا ہے۔
یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ اگرچہ سیاسی ارادہ ہو تو بھی اسلحے کے اینڈ یوزر معاہدوں پر مؤثر نگرانی مشکل ہوتی ہے — لیکن یہ امن سازی کی بنیادی ضرورت ہے۔
اگر جمہوری حکومتیں اپنی ساکھ بحال کرنا چاہتی ہیں تو اسلحے کے بعد از ترسیل معائنے کو محض ایک رسمی مرحلہ نہیں بلکہ قابلِ نفاذ ذمہ داری بنانا ہوگا۔ یورپی دارالحکومتوں اور پریٹوریا میں متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ پرانے لائسنسوں کا شفاف آڈٹ کریں، اسلحے کی منتقلی کے معتبر شواہد کی تحقیقات کریں، اور جہاں خطرہ ثابت ہو وہاں نئے لائسنس روک دیں۔
اسی کے ساتھ، یورپی یونین کو مہاجرت سے متعلق فنڈنگ کو بھی ایسے نظاموں سے محفوظ بنانا ہوگا جہاں اسے طاقتور مسلح گروہ اپنے فائدے کے لیے استعمال کریں۔
بصورتِ دیگر، یورپ کی مہاجرت پالیسی اور جنوبی افریقہ کی دفاعی تجارت ایک ایسے المناق تضاد میں مبتلا رہیں گی، جس میں ’’سکیورٹی‘‘ کے نام پر شروع کیے گئے اقدامات، عدم سکیورٹی کو جنم دیتے رہیں۔

