جمعہ, فروری 13, 2026
ہومبین الاقوامیعون کا پوپ لیو چہار دہم کو پیغام: لبنان نہ مرے گا...

عون کا پوپ لیو چہار دہم کو پیغام: لبنان نہ مرے گا نہ جھکے گا
ع

بیروت (مشرق نامہ) – صدرِ لبنان جنرل جوزف عون نے ہفتے کے روز لبنان کے سرکاری دورے پر آنے والے پوپ لیو چہار دہم کا باضابطہ استقبال کیا۔ اس تاریخی موقع پر انہوں نے لبنان کو ’’چھوٹا ملک، لیکن عظیم پیغام‘‘ قرار دیتے ہوئے اسے امن اور بقائے باہمی کا استعارہ کہا اور دنیا پر زور دیا کہ وہ اس کی منفرد شناخت کے تحفظ میں مدد کرے۔

لبنان… مقدس تاریخ اور زندہ ایمان کی سرزمین

بیروت میں خطاب کرتے ہوئے صدر عون نے پوپ کو ’’سرزمینِ امن کے لیے امن کا پیغام لانے والے‘‘ کے طور پر خوش آمدید کہا اور لبنان کی روحانی گہرائیوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ لبنان کا ذکر متعدد مرتبہ مقدس صحائف میں آیا ہے اور یہاں سے وابستہ کئی مسیحی مقدس مقامات اسے ایک منفرد مذہبی ورثہ عطا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ وہ سرزمین ہے جہاں کنعانی عورت رہی، جہاں مقدس مریم آئیں، اور جہاں سے بہنے والا دریائے حاصبانی یردن میں جا ملتا ہے، وہی مقام جہاں حضرت عیسیٰ کو بپتسمہ دیا گیا۔
صدر نے لبنان کی حضرت مریم سے وابستہ خصوصی عقیدت کو بھی نمایاں کیا، خصوصاً یہ کہ ملک میں بشارتِ مریم کا دن تمام مذاہب کے ماننے والوں کے لیے قومی تعطیل کے طور پر منایا جاتا ہے۔

عون نے کہا کہ لبنان کی اہمیت صرف تاریخ سے نہیں بلکہ اس کے اس پیغام سے بھی ہے جو آزادی، تنوع اور باہمی احترام پر مبنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ لبنان آزادی میں پیدا ہوا اور آزادی کے لیے قائم ہوا، کسی ایک مذہب یا فرقے کے لیے نہیں بلکہ ہر انسان کی حرمت کی سرزمین کے طور پر۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ لبنان کا وہ سیاسی اور سماجی نظام جو آئینی شراکت کے اصول کے تحت مسلمانوں اور مسیحیوں کو مساوی حقوق دیتا ہے، آج کی منقسم دنیا میں ایک نادر اور ناگزیر ماڈل ہے۔

عون نے خبردار کیا کہ اگر یہ ماڈل ناکام ہوتا ہے تو دنیا میں کہیں بھی اس کی مثال قائم نہیں ہوسکے گی۔
انہوں نے اپنی اقوام متحدہ کی تقریر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ لبنان میں مسلمانوں یا مسیحیوں کی کوئی بھی کمی اس کے توازن اور شناخت کو متاثر کر دے گی۔
’’اگر لبنان مفلوج یا مسخ ہوا تو اس کا نتیجہ علاقائی اور عالمی سطح پر نئے تصادمات کی صورت میں نکلے گا، ہر طرح کے انتہاپسندانہ رجحانات — نظریاتی، مادّی اور حتیٰ کہ پرتشدد — کے درمیان۔‘‘

ویٹیکن کی مستقل حمایت کا تسلسل

عون نے ویٹیکن کے دیرینہ تعاون کا ذکر کرتے ہوئے سابق پوپ پال ششم، پوپ جان پال دوم اور پوپ بینیڈکٹ شانزدہم کے وہ بیانات یاد دلائے جن میں لبنان کو ہمیشہ ’’پیغام‘‘ قرار دیا گیا۔
انہوں نے پوپ جان پال دوم کے مشہور الفاظ دہراتے ہوئے کہا کہ لبنان صرف ایک ملک نہیں بلکہ مشرق و مغرب کے لیے بقائے باہمی، تکثیریت اور آزادی کا پیغام ہے۔

عون نے پوپ لیو چہار دہم کے اس فیصلے کو بھی سراہا کہ انہوں نے روم سے باہر اپنے پہلے دورے کے لیے لبنان کا انتخاب کیا، خصوصاً ایسے وقت میں جب نیقیہ کے عقیدہ کی 1700 ویں سالگرہ کی یادگاری تقریبات منعقد ہوئی تھیں۔

یکجہتی کی اپیل اور بقا کا عزم

صدر عون نے پوپ سے اپیل کی کہ وہ لبنان اور خطے کے مظلوم عوام کی آواز بنیں۔
انہوں نے پوپ کی حالیہ رسولی ہدایت ’’میں نے تم سے محبت کی ہے‘‘ کے ایک اقتباس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مظلوموں کے زخموں کو چھونا، مسیح کے زخموں کو چھونے کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ اے آپ کی مقدس ذات، ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں: دنیا کو بتا دیں کہ ہم نہ مریں گے، نہ چھوڑیں گے، نہ مایوس ہوں گے، نہ ہتھیار ڈالیں گے۔
’’ہم یہاں رہتے ہیں… آزادی کی سانس لیتے ہوئے، خوشی ایجاد کرتے ہوئے، محبت کو عمل میں ڈھالتے ہوئے… محبت اور نیکی کے پیامبر بن کر۔‘‘

اپنے خطاب کے اختتام پر صدر نے روحانی یقین کے ساتھ کہا کہ ہم یہاں رہتے ہیں… امید کے فرزند، قیامت کے فرزند… اُس کے شاگرد جنہوں نے ہمیں بے خوف رہنے اور اُس پر بھروسہ کرنے کا حکم دیا، کیونکہ اُس کی محبت اور اُس کے امن نے دنیا پر غلبہ پایا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین