مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – ہزاروں اسرائیلی شہریوں نے پرتگالی سفارت خانے کی جانب سے شاذونادر کھلنے والی بالمشافہ شہریت درخواستوں کی نشستوں کے اعلان کے بعد سینیما سٹی گلیلوٹ کے باہر گھنٹوں قطار میں کھڑے رہ کر اپائنٹمنٹ حاصل کرنے کی کوشش کی۔
جمعہ کی صبح وسطی مقبوضہ فلسطین کے شہر نما گلیلوٹ میں واقع سینیما سٹی کے باہر ہزاروں اسرائیلی آبادکاروں نے طویل قطاریں بنائیں، جب پرتگالی سفارت خانے نے شہریّت اور پاسپورٹ کی تجدید کیلئے بالمشافہ رجسٹریشن شروع کی اور اپنے طویل عرصے سے بوجھ تلے دبے آن لائن نظام کو موقت طور پر بائی پاس کر دیا۔
’اولڈ ٹائمز آر بیک‘ پروگرام میں غیر معمولی شرکت
سفارت خانے کی یہ عارضی مہم، جسے “اولڈ ٹائمز آر بیک” پروگرام کے طور پر پیش کیا گیا، نے پرتگالی شہریوں اور اہل درخواست گزاروں کو بغیر پیشگی وقت لیے، موقع پر ہی دسمبر اور جنوری کیلئے اپائنٹمنٹ حاصل کرنے کی سہولت دی۔ قطار سینیما کمپلیکس سے لے کر اس کی زیرِ زمین پارکنگ تک پھیلی ہوئی تھی، کئی افراد سحر سے پہلے پہنچ گئے جبکہ کئی نے گھنٹوں طویل انتظار دیکھ کر کوشش ترک کر دی۔
بعد ازاں سفارت خانے نے فیس بک پر لکھا کہ اس دوران ”ہزاروں“ افراد کی معاونت کی گئی اور ”کوئی بھی نظرانداز نہیں ہوا“، حالانکہ غیر معمولی رش دیکھا گیا۔ اسرائیلی شہریوں میں پرتگالی شہریت کا رجحان 2015 میں اس قانون کے بعد بڑھا، جس کے تحت سولہویں صدی میں نکالے گئے سفاردی یہودیوں کی نسل کو شہریت کا حق دیا گیا تھا۔ اگرچہ پرتگال نے 2023 میں اس پالیسی کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم اسے مکمل طور پر منسوخ کرنے کے بجائے سخت کر دیا گیا۔
اب درخواست گزاروں کیلئے لازم ہے کہ وہ پرتگال سے گہرا اور جاری تعلق ثابت کریں، جس میں کم از کم تین سال وہاں رہائش بھی شامل ہے۔ مزید یہ کہ مئی 2026 سے پرتگالی پاسپورٹ کی مدتِ استعمال پانچ کے بجائے دس سال کر دی جائے گی، تاہم موجودہ درخواست دہندگان کو اب بھی پانچ سال والا پاسپورٹ ہی ملے گا۔
اسرائیلی شہریوں کا یورپی پاسپورٹ کی تلاش، جنگ سے فرار
گزشتہ برسوں میں پرتگالی شہریت کی کشش مزید بڑھ گئی ہے، کیونکہ اس سے پورے یورپ میں ویزا فری سفر، کم اخراجاتِ زندگی، اور یورپی یونیورسٹیوں میں مقامی فیس کے برابر تعلیم کی سہولت دستیاب ہوتی ہے۔
7 اکتوبر کو شروع ہونے والے آپریشن طوفان الاقصیٰ اور اس کے بعد غزہ، لبنان، ایران اور شام پر اسرائیلی جارحیت کے بعد دوسری شہریت کی تلاش میں اسرائیلیوں کی دلچسپی میں اضافہ ہوا، کیونکہ کئی اسرائیلی اسے سلامتی کیلئے ضروری سمجھ رہے ہیں۔ اگرچہ اسرائیلی حکومت نے متعدد جنگ بندیوں پر اتفاق کیا اور شام کے معاملے میں براہِ راست بات چیت بھی کی، لیکن اس کے باوجود وہ جنگ بندیوں کی سنگین خلاف ورزیوں اور خطے میں بلا جواز حملوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
ان حملوں کے ردِعمل نے خاص طور پر وسطی مقبوضہ فلسطین میں آبادکاروں کی مصنوعی سلامتی کو چیلنج کر دیا۔ اسی دوران غزہ میں فلسطینی مزاحمت اور لبنان میں حزب اللہ کی کارروائیوں نے ہزاروں آبادکاروں کو اپنی چوکیوں سے ہٹ کر مرکز کی جانب منتقل ہونے پر مجبور کر دیا۔
جون 2025 کی ’’12 روزہ جنگ‘‘ اور اس کے بعد ایران پر اسرائیلی جارحیت نے میٹروپولیٹن مراکز، صنعتی علاقوں اور بڑے مضافات میں بسنے والے آبادکاروں کو دکھا دیا کہ ان کی حکومت کی توسیع پسندانہ اور تصادمی پالیسیاں ان ہی کے شہروں میں کتنی بڑی تباہی لانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
ہر تصادم کے بعد اسرائیلی ہوائی اڈے آبادکاروں سے بھر جاتے ہیں، جو اپنے طویل عرصے سے جاری قبضے اور مغربی ایشیا میں کیے گئے جرائم کے نتائج سے راہِ فرار چاہتے ہیں۔
دسیوں ہزار اسرائیلی ملک چھوڑ چکے ہیں
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق اُس وقت سے اب تک دسیوں ہزار افراد ملک چھوڑ چکے ہیں، جس سے یورپی شہریت کے لیے ریکارڈ تعداد میں درخواستیں سامنے آئی ہیں۔ جمعہ کو رمت ہشارون میں دکھائی دینے والے مناظر نے اس رجحان کی وسعت کو نمایاں کر دیا—یورپی یونین کے پاسپورٹ کیلئے ایسا ہجوم، جسے اب زیادہ سے زیادہ اسرائیلی اپنی طویل المیعاد حفاظت کا ذریعہ سمجھ رہے ہیں۔

