کاراکاس (مشرق نامہ) – وینزویلا کے صدر نے کاراکاس کے خلاف واشنگٹن کی جانب سے طاقت کے استعمال کی مسلسل دھمکیوں کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکا فوجی قوت کے ذریعے وینزویلا کے وسیع تیل ذخائر پر قبضہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
نکولاس مادورو نے یہ بات تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے سیکریٹری جنرل اور رکن ممالک کے نام لکھے گئے خط میں کہی۔
انہوں نے کہا کہ وینزویلا اس ادارے کے روبرو باضابطہ طور پر یہ اعلان کرتا ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکا کی حکومت وینزویلا کے وسیع ترین تیل ذخائر، جو کرہ ارض پر سب سے بڑے ہیں، پر مہلک فوجی طاقت کے ذریعے ملک کے علاقے، عوام اور قومی اداروں کے خلاف کارروائی کر کے قبضہ کرنا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ دعویٰ نہ صرف اقوام کے درمیان پرامن بقائے باہمی سے متعلق اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ وینزویلا کی تیل پیداوار اور عالمی منڈی کی استحکام کے لیے بھی شدید خطرہ ہے۔
اپنے خط میں مادورو نے مؤقف اختیار کیا کہ وینزویلا اپنے قدرتی اور توانائی وسائل کے دفاع میں ثابت قدم رہے گا اور کسی بھی قسم کی دھونس یا دھمکی کے سامنے نہیں جھکے گا۔
ان کا یہ خط اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز خبردار کیا تھا کہ وینزویلا کی فضائی حدود مکمل طور پر بند کر دی جائیں گی۔
ٹرمپ بارہا دھمکی دے چکے ہیں کہ کیریبین اور پیسیفک میں مبینہ منشیات بردار کشتیوں پر امریکی حملے، جن میں 80 سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں، جنوبی امریکی ملک میں زمینی کارروائی کی شکل بھی اختیار کر سکتے ہیں۔
البتہ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ٹرمپ نے مادورو سے ٹیلی فون پر بات کی ہے اور وینزویلا کے صدر کے ممکنہ امریکی دورے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
اوپیک کے رکن وینزویلا کی تیل پیداوار اس سال تقریباً 1.1 ملین بیرل یومیہ پر مستحکم رہی ہے، جو 1990 کی دہائی کے اواخر کی بلند ترین سطح کے ایک تہائی سے بھی کم ہے۔
جہاز رانی کے اعداد و شمار کے مطابق جون سے اکتوبر تک 80 فیصد سے زائد برآمدات چین کو بھیجی گئیں۔
امریکی پابندیوں کے باعث مادورو کی حکومت کو ملک کے تیل کے شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔

