جمعہ, فروری 13, 2026
ہومبین الاقوامیپاکستان، مصر کا تجارتی روابط مضبوط کرنے کے لیے 250 کاروباری اداروں...

پاکستان، مصر کا تجارتی روابط مضبوط کرنے کے لیے 250 کاروباری اداروں کے اشتراک پر اتفاق
پ

مانئڑینگ ڈیسک(مشرق نامہ) مصر نے جامعہ الازہر، قاہرہ میں پاکستانی طلبہ کے لیے اسکالرشپس کی تعداد دگنی کرنے کا اعلان بھی کر دیا

مصر کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر بدر احمد محمد عبدالعاطی اتوار کو وزارتِ خارجہ پہنچے جہاں ڈپٹی وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ان کا استقبال کیا۔

ملاقات کے بعد مشترکہ پریس اسٹیٹمنٹ میں اسحاق ڈار نے مصری وزیرِ خارجہ کے دورۂ پاکستان کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان اور مصر کے درمیان “گہری شراکت داری اور برادرانہ تعلقات” کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دورہ مشترکہ مقاصد کو آگے بڑھانے میں مددگار ہوگا، اور دونوں ممالک کے درمیان معیشت اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعاون کا ذکر کیا۔

ڈاکٹر عبدالعاطی نے پاکستان کی مہمان نوازی کا شکریہ ادا کیا اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اسلام آباد اور پشاور میں حالیہ دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتے ہوئے جانوں کے ضیاع پر حکومتِ پاکستان اور عوام سے تعزیت کی۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت بڑھانے اور کاروبار سے کاروبار (B2B) روابط کو مضبوط کرنے سے متعلق تفصیلی گفتگو کی۔

انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد مصر کے ساتھ معیشت کے اہم شعبوں سے تعلق رکھنے والے 250 پاکستانی کاروباری اداروں کی ایک جامع فہرست شیئر کرے گا، جنہیں تجارتی تعاون کے لیے مصر کی جانب سے سہولت فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ چھ ماہ بعد مزید 250 کاروباری اداروں کی فہرست بھی اسی میکانزم کے تحت مصر کو دی جائے گی، یوں مجموعی طور پر 500 پاکستانی کاروبار مصر کے ساتھ اشتراک کے لیے شامل ہوں گے۔

ڈپٹی وزیراعظم نے بتایا کہ نجی شعبے کے تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے اور باہمی تجارتی شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے پاک–مصر بزنس کونسل قائم کی جائے گی۔

جلد ہی پاک–مصر بزنس فورم بھی قائم کیا جائے گا تاکہ B2B روابط کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

تعلیمی و عوامی روابط کے حوالے سے اسحاق ڈار نے بتایا کہ مصر نے قاہرہ کی معروف جامعہ الازہر میں پاکستانی طلبہ کے لیے اسکالرشپس کی تعداد دگنی کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مصر زراعت، تجارت و سرمایہ کاری، ادویات سازی، پبلک ہیلتھ اور انتہاپسندی کے خلاف اقدامات جیسے شعبوں میں پاکستان کو بھرپور تعاون دینے کے لیے تیار ہے۔

مصری وزیرِ خارجہ نے دونوں ممالک کے تعلقات کو “مضبوط اور تاریخی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ باہمی مفاد اور احترام پر مبنی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک نے سیاسی مکالمے، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، اور دہشت گردی و انتہا پسندی کے خلاف تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔

ڈاکٹر عبدالعاطی نے کثیرالجہتی فورمز پر پاکستان کی مستقل حمایت کو سراہا اور غزہ جنگ بندی کے معاہدے میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے اسرائیل-فلسطین تنازع کے لیے اقوام متحدہ کی منظور شدہ قرارداد اور دو ریاستی حل کو “عملی اور دیرپا حل” قرار دیتے ہوئے غزہ کی تعمیرِ نو میں پاکستان کی شمولیت میں بھی دلچسپی ظاہر کی۔

وزیرِ خارجہ ڈار کی دعوت پر ڈاکٹر عبدالعاطی ہفتہ کو پاکستان کے دو روزہ سرکاری دورے پر پہنچے۔

یہ دورہ پاکستان اور مصر کے دیرینہ اور خوشگوار تعلقات کا عکاس ہے، جو مشترکہ مذہب، ثقافتی ہم آہنگی اور علاقائی و عالمی معاملات پر یکساں نقطہ نظر پر مبنی ہیں۔

اس ماہ کے اوائل میں ڈپٹی وزیراعظم ڈار اور وزیر عبدالعاطی کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو بھی ہوئی تھی، جس میں مصر نے پاکستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں پر تعزیت کا اظہار کیا تھا۔

دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورتحال، بالخصوص مشرقِ وسطیٰ اور غزہ میں امن کی کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا تھا۔

ڈار نے عمان کے وزیرِ خارجہ سید بدر بن حمد بن حمود البوسعیدی سے بھی بات چیت کی تھی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین