مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو، جو طویل عرصے سے جاری کرپشن مقدمات میں نامزد ہیں، نے صدر آئزک ہرزوگ کو باضابطہ طور پر معافی کی درخواست جمع کرائی ہے۔
اتوار کو صدر کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ ایک غیر معمولی درخواست ہے جس کے دور رس اثرات ہیں۔ بیان کے مطابق تمام ضروری آراء موصول ہونے کے بعد صدر اس معاملے کا ذمہ داری کے ساتھ اور سنجیدگی سے جائزہ لیں گے۔
نیتن یاہو کے خلاف 2019 میں دائر کیے گئے تین الگ الگ مقدمات زیرِ سماعت ہیں، جن میں رشوت، دھوکہ دہی اور اختیارات کے غلط استعمال کے الزامات شامل ہیں۔ وہ تمام الزامات کی تردید کرتے ہیں اور خود کو بے گناہ قرار دیتے ہیں۔
نیتن یاہو کی درخواست ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ صدر ہرزوگ پر ان مقدمات میں نتن یاہو کو معاف کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ نومبر میں ٹرمپ نے صدر ہرزوگ کو ایک خط بھی بھیجا تھا جس میں انہوں نے معافی پر غور کرنے کی تاکید کی تھی۔ اکتوبر میں اسرائیل کے اپنے دورے کے دوران بھی ٹرمپ نے اسرائیلی پارلیمان سے خطاب میں نتن یاہو کی معافی کی اپیل کی تھی۔
نیتن یاہو دی ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کو بھی مطلوب ہیں۔ نومبر 2024 میں آئی سی سی نے ان کے خلاف اور سابق وزیرِ دفاع یوآف گیلنٹ کے خلاف غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔
نیتن یاہو اسرائیل کی تاریخ کے واحد موجودہ وزیرِاعظم ہیں جن پر عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے۔ ان پر تین مختلف مقدمات میں رشوت لینے، اختیارات کے ناجائز استعمال اور طاقتور سیاسی حامیوں کو فائدے پہنچانے کے بدلے تحائف لینے کے الزامات ہیں۔ ان ہی مقدمات میں ان پر تاجروں سے تقریباً 7 لاکھ شیکل (211,832 ڈالر) کے تحائف وصول کرنے کا بھی الزام ہے۔
اگرچہ اسرائیلی صدر کا کردار زیادہ تر رسمی نوعیت کا ہے، مگر غیر معمولی حالات میں صدر کو سزا یافتہ افراد کو معاف کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ تاہم نتن یاہو کا مقدمہ، جو 2020 میں شروع ہوا تھا، تاحال مکمل نہیں ہوا۔
’وسیع قومی مفاہمت‘
ایک ویڈیو بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ جاری مقدمہ ملک میں تقسیم کا سبب بن رہا ہے اور معافی سے قومی یکجہتی میں مدد ملے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہفتے میں تین مرتبہ عدالت میں پیشی کی پابندی ان کی حکومتی ذمہ داریوں میں رکاوٹ بنتی ہے۔
ان کے الفاظ میں، مقدمے کا جاری رہنا ملکی یکجہتی کو متاثر کرتا ہے، داخلی تقسیم کو بڑھاتا ہے اور مزید دراڑیں پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقدمے کے فوری خاتمے سے کشیدگی کم ہوگی اور وہ وسیع مفاہمت بڑھے گی جس کی قوم کو ضرورت ہے۔
معافی کی درخواست دو دستاویزات پر مشتمل تھی— ایک مفصل خط جس پر ان کے وکیل کے دستخط ہیں اور دوسرا خط جو خود وزیرِ اعظم نے دستخط کیا۔ یہ دستاویزات پہلے وزارتِ انصاف کو قانونی رائے کے لیے بھیجی جائیں گی اور بعد میں صدر کے دفتر کے قانونی مشیر کو ارسال کی جائیں گی جو اپنی رائے مرتب کرے گا۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ معافی کی درخواست سے مقدمے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
سابق ڈائریکٹر جنرل وزارتِ انصاف ایمی پالمور کے مطابق مقدمہ جاری ہوتے ہوئے معافی کا مطالبہ ممکن نہیں۔ ان کے مطابق کوئی شخص ایک طرف خود کو بے گناہ قرار دے اور دوسری طرف صدر سے مقدمہ روکنے کی درخواست کرے، یہ قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقدمہ روکنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ اٹارنی جنرل سے کارروائی منسوخ کرنے کی درخواست کی جائے۔
نیتن یاہو کی درخواست کے بعد اپوزیشن کی فوری ردعمل سامنے آیا، جس نے صدر پر زور دیا کہ وہ اس مطالبے کو قبول نہ کریں۔
اپوزیشن رہنما یائر لاپیڈ کے مطابق معافی اس وقت تک نہیں دی جا سکتی جب تک نتن یاہو جرم کا اعتراف، پچھتاوے کا اظہار اور سیاسی زندگی سے فوری کنارہ کشی کا اعلان نہ کریں۔

