مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – کیلیفورنیا کے شہر اسٹاکٹن میں ہفتہ کی شب ایک ’ٹارگٹڈ‘ فائرنگ کے واقعے میں چار افراد ہلاک اور دس زخمی ہوئے، جیسا کہ سان جواکین کاؤنٹی شیرف آفس نے تصدیق کی ہے۔
شیرف آفس کے مطابق مجموعی طور پر 14 افراد گولیوں کا نشانہ بنے جن میں سے چار موقعے پر ہی دم توڑ گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور فی الحال واقعے کی وجوہات کے بارے میں تفصیلات محدود ہیں۔
یہ فائرنگ ایک بچے کی سالگرہ کی تقریب میں ہوئی۔ اسٹاکٹن کے نائب میئر جیسن لی نے فیس بک پوسٹ میں بتایا کہ وہ متعلقہ محکموں اور سکیورٹی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں اور واقعے کی مکمل تفصیلات جاننے کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔
پولیس کے مطابق شام چھ بجے سے کچھ پہلے اسٹاکٹن کے 1900 لوسیل ایونیو کے قریب فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئیں، جو سان فرانسسکو سے تقریباً 50 میل مشرق میں واقع ہے۔ فائرنگ ایک بینکوئٹ ہال کے اندر ہوئی، جس کا پارکنگ ایریا قریبی کاروباری مراکز کے ساتھ مشترکہ ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کے پاس واقعے کی ویڈیو، معلومات یا عینی شاہدین کی شہادت موجود ہو تو فوری طور پر سان جواکین کاؤنٹی شیرف آفس سے رابطہ کریں۔ حکام کے مطابق ابتدائی اشارے اس بات کی طرف ہیں کہ واقعہ ’ٹارگٹڈ‘ ہو سکتا ہے، اور تمام امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم کو فائرنگ کے واقعے پر بریفنگ دی گئی ہے۔ یہ واقعہ ریاست میں بڑھتے ہوئے مسلح حملوں اور گن وائلنس کے سلسلے میں ایک اور اضافہ ہے، جس نے احتساب اور روک تھام کے مطالبات میں شدت پیدا کر دی ہے۔
معاملے کی تحقیقات کے دوران اسٹاکٹن بھی ان امریکی شہروں کی صف میں شامل ہو گیا ہے جو نشانہ بنا کر کی جانے والی فائرنگ اور بڑھتے ہوئے مسلح تشدد کے انسانی المیے کا سامنا کر رہے ہیں۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کے واقعے میں زخمی ہونے والی نیشنل گارڈ کی اہلکار سارہ بیک اسٹروم جاں بحق ہو گئی ہیں۔ وہ ان دو اہلکاروں میں شامل تھیں جنہیں بدھ کے روز نشانہ بنایا گیا تھا۔ تھینکس گیونگ کے موقع پر امریکی فوجیوں کے ساتھ ویڈیو کال کے دوران ٹرمپ نے انہیں انتہائی قابل احترام اور باصلاحیت جوان قرار دیا، اور بتایا کہ وہ کال میں شامل ہونے سے کچھ دیر قبل ان کی موت کی اطلاع ملی۔
یہ حملہ دوپہر 2:15 کے قریب، وہائٹ ہاؤس سے چند ہی بلاک کے فاصلے پر 17ویں اور آئی اسٹریٹ کے چوراہے پر ہوا۔ واقعے کے وقت ٹرمپ فلوریڈا میں موجود تھے، جبکہ فائرنگ کے بعد وہائٹ ہاؤس کو عارضی طور پر لاک ڈاؤن کرنا پڑا، اور مقامی و وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بڑے پیمانے پر کارروائی کی۔
میٹروپولیٹن پولیس کے اسسٹنٹ چیف جیف کیرول کے مطابق نیشنل گارڈ اہلکار علاقے میں ہائی ویژیبلیٹی پیٹرول پر مامور تھے کہ اچانک حملہ آور نے قریب آ کر فائرنگ کر دی۔ جوابی کارروائی میں دیگر گارڈ اراکین نے حملہ آور کو قابو کر لیا۔

