مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – فلسطینی رہنما مروان برغوثی کی رہائی کے مطالبے کے لیے ایک عالمی مہم کا آغاز ہو گیا ہے۔ یہ مہم، جسے برغوثی کے مغربی کنارے میں مقیم اہلِ خانہ نے برطانوی سماجی گروہوں کی معاونت سے منظم کیا ہے، 66 سالہ رہنما کی گرفتاری کو حماس اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے آئندہ جنگ بندی مذاکرات کے مرکزی ایجنڈے پر لانا چاہتی ہے۔
برغوثی کو مستقبل کی فلسطینی قیادت کے نمایاں امیدوار کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور عوامی سروے مسلسل انہیں سرفہرست قرار دیتے ہیں۔
لندن کے مختلف علاقوں میں ’’فری مروان‘‘ کے عنوان سے بننے والی دیوارگیر تصاویر—جو کریئیٹو ڈی بیوٹس کے بانی کیلم ہال کی نگرانی میں تیار کی گئیں—آویزاں کی گئی ہیں، جب کہ ایک بڑا عوامی فن پارہ رام اللہ کے قریب گاؤں کوبر میں بھی نصب کیا گیا ہے۔
ایک خط، جس میں مختلف سیاسی و ثقافتی شخصیات نے ان کی رہائی کی اپیل کی ہے، آئندہ ہفتے شائع ہونے کی امید ہے۔
2004 میں ایک اسرائیلی عدالت نے برغوثی کو دوسری انتفاضہ کے دوران کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزامات پر پانچ عمر قید اور مزید 40 سال کی سزا سنائی تھی۔ بین البرلمانی یونین (آئی پی یو)، جو ایک بین الاقوامی ادارہ ہے، اس مقدمے کو ’’سنگین طور پر ناقص‘‘ قرار دے چکی ہے۔
اکتوبر جنگ بندی کے بعد ہونے والے بڑے قیدی تبادلے میں حماس اور خلیجی ریاستوں کے دباؤ کے باوجود اسرائیل نے ان کی رہائی سے انکار کر دیا تھا۔
بہت سے مبصرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل ان کی رہائی اس خوف کے باعث روکتا ہے کہ وہ فلسطینی حقوق کے ایک طاقتور سیاسی علمبردار کے طور پر ابھر سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، اسرائیل کے ساتھ ساتھ خود فتح کے بعض سینئر رہنماؤں نے بھی برغوثی کی رہائی کی مخالفت کی ہے اور تل ابیب کو مشورہ دیا ہے کہ انہیں کسی بھی تبادلہ فہرست میں شامل نہ کیا جائے۔
برغوثی کو بارہا طویل تنہائی میں رکھا گیا ہے، بنیادی ضروریات سے محروم رکھا گیا ہے اور 2023 سے اب تک چار سنگین تشدد آمیز واقعات کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس کے باوجود خیال کیا جاتا ہے کہ رہائی کی صورت میں وہ سیاسی قیادت سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔
انہیں گزشتہ تین برسوں سے اپنے اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی، اور وکلاء بھی گزشتہ دو سال میں صرف پانچ مرتبہ ان تک رسائی حاصل کر سکے ہیں۔ ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی (آئی سی آر سی) کو بھی اسرائیلی قبضے کے حکام نے ان سے رابطے سے روک رکھا ہے، جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
15 اگست کو اسرائیل کے نام نہاد وزیرِ سلامتی اتمار بن گویر نے ایک ویڈیو میں ان کا مذاق اُڑایا اور انہیں سزائے موت دینے کی دھمکی دی۔
اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں ایک بل زیرِ غور ہے جس کی حمایت بن گویر کر رہے ہیں۔ اس بل کے تحت مقبوضہ علاقوں میں آبادکاروں کے خلاف کارروائی کرنے والوں کو سزائے موت دی جا سکے گی، اور اس کا اطلاق برغوثی پر بھی ہو گا۔

