واشنگٹن (مشرق نامہ) – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ وہ ’’تھرڈ ورلڈ ممالک‘‘ سے آنے والی امیگریشن کو معطل کر دیں گے۔ یہ اعلان اس واقعے کے ایک روز بعد سامنے آیا جب ایک افغان شہری پر واشنگٹن میں دو نیشنل گارڈ اہلکاروں پر فائرنگ کا الزام لگا، جس میں ایک فوجی ہلاک ہو گیا۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں، جس میں انہوں نے اپنے پیش رو جو بائیڈن کے دور میں دی گئی ’’لاکھوں‘‘ امیگریشن منظوریوں کو منسوخ کرنے کی دھمکی بھی دی، ٹرمپ نے اپنی دوسری مدت میں جاری کریک ڈاؤن کو مزید سختی کی طرف موڑ دیا ہے، جو بڑے پیمانے پر ملک بدری کی پالیسی سے عبارت ہے۔
اس سے قبل ٹرمپ نے بتایا تھا کہ سارہ بیکاسٹروم، مغربی ورجینیا کی 20 سالہ نیشنل گارڈ اہلکار جو واشنگٹن میں ان کے جرائم کے خلاف آپریشن کے تحت تعینات تھی، زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئی ہیں۔
ایف بی آئی نے بین الاقوامی دہشت گردی کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق مبینہ حملہ آور 29 سالہ افغان شہری ’’زیرو یونٹس‘‘ نامی سی آئی اے کی معاونت یافتہ انسدادِ دہشت گردی فورس کا سابق رکن تھا۔
19 ممالک کے گرین کارڈز کی دوبارہ جانچ پڑتال
اس واقعے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے ’’تشویش کے حامل‘‘ 19 ممالک کے شہریوں کو جاری کیے گئے تمام گرین کارڈز کی سخت جانچ پرکھ کا حکم دیا ہے۔
امریکی امیگریشن سروسز کے ڈائریکٹر جو ایڈلو نے ایک بیان میں کہا کہ صدر کی ہدایت پر ’’تشویش کے حامل ہر ملک کے ہر شہری کو جاری کردہ ہر گرین کارڈ کا مکمل، سخت اور دوبارہ جائزہ لیا جائے گا‘‘۔
ان 19 ممالک میں افغانستان، برما، چاڈ، کانگو، ایکویٹوریل گنی، اریٹیریا، ہیٹی، ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، یمن، برونڈی، کیوبا، لاؤس، سیئرالیون، ٹوگو، ترکمانستان اور وینیزویلا شامل ہیں۔ پاکستان ان ممالک میں شامل نہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ پہلے ہی افغانستان سے آنے والی امیگریشن درخواستوں کی پروسیسنگ روک چکی ہے۔
حملہ: ’’دیدہ دلیری سے کیا گیا ٹارگٹڈ حملہ‘‘
دوسرا زخمی فوجی، 24 سالہ اینڈریو وولف، ’’زندگی اور موت کی جنگ‘‘ لڑ رہا ہے۔ حملہ آور بھی تشویش ناک حالت میں ہے۔
واشنگٹن کے امریکی اٹارنی، جینین پیرو، کے مطابق ملزم رحمان اللہ لکان وال امریکی ریاست واشنگٹن میں رہائش پذیر تھا اور حملے کے لیے ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک سفر کر کے آیا۔ پیرو نے اس حملے کو ’’بے باکی اور نشانہ بنا کر کیا گیا‘‘ اقدام قرار دیا۔
مبینہ حملہ آور نے .357 اسمتھ اینڈ ویسن ریوالور سے گشت پر موجود گارڈز پر فائرنگ کی۔ اس پر قتل کی نیت سے حملے کی تین دفعات عائد کی گئی ہیں، جو کسی اہلکار کی موت کی صورت میں قتلِ عمد میں تبدیل ہو جائیں گی۔
حکام اب تک حملے کی واضح محرکات تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔
افغان جنگ کی میراث اور نئی سیاسی بحث
سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف کے مطابق ملزم افغانستان میں سی آئی اے کے اتحادی دستے کا حصہ تھا اور طالبان کے خلاف کارروائیوں کے دوران امریکہ کے ساتھ تعاون کے بدلے خصوصی پروگرام کے تحت امریکہ لایا گیا تھا۔
ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے الزام عائد کیا کہ لکان وال کو ’’غیر جانچے پرکھے‘‘ طریقے سے امریکہ داخل ہونے کی اجازت بائیڈن دور کی ڈھیلی پالیسیوں کے باعث ملی۔ تاہم افغان ایویک نامی تنظیم، جو امریکی انخلا کے بعد افغانوں کی آبادکاری میں پیش پیش رہی، نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان افراد کا ’’سب سے سخت سیکیورٹی اسکریننگ‘‘ کیا گیا تھا۔
تنظیم نے کہا کہ لکان وال کو اپریل 2025 میں ٹرمپ انتظامیہ ہی کے دور میں پناہ دی گئی تھی اور وہ ایک سال بعد مستقل رہائش کے لیے درخواست دینے کا اہل ہوتا۔
تنظیم کے صدر شان وین ڈائیور نے کہا کہ ایک فرد کا الگ تھلگ اور پرتشدد فعل پوری کمیونٹی کو بدنام کرنے کا بہانہ نہیں بن سکتا۔
دارالحکومت میں مزید 500 فوجی تعینات
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے مطابق اس واقعے کے بعد واشنگٹن میں مزید 500 فوجی تعینات کیے جا رہے ہیں، جس سے تعداد بڑھ کر 2,500 ہو جائے گی۔
ٹرمپ ملک کے اندر کئی شہروں—بشمول واشنگٹن، لاس اینجلس اور میمفس—میں فوج تعینات کر چکے ہیں۔ یہ تمام شہر ڈیموکریٹک پارٹی کے زیر انتظام ہیں۔ اس اقدام کے خلاف متعدد مقدمات اور ’’آمریت پسندی‘‘ کے الزامات سامنے آ چکے ہیں۔

