مشرق نامہ)اسلام آباد):
سپریم کورٹ کے جسٹس جمال خان مندخیل نے ججوں پر زور دیا ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہوں اور ذاتی مفادات کے بجائے آئین و قانون کے مطابق فیصلے دیں۔
انہوں نے کہا:
“ججز کو بہادر ہونا چاہیے۔ ججز کو اپنے غلط کاموں یا کمزوریوں کو درست ثابت کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ انہیں قانون کی حکمرانی کے لیے کھڑا ہونا چاہیے اور فیصلے قانون کے مطابق دینے چاہئیں، نہ کہ ذاتی مفاد، تعصب یا دباؤ کے تحت۔‘‘
وہ یہ بات ہفتے کے روز فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں ملک بھر کے سول ججز اور جوڈیشل مجسٹریٹس کی ایک ہفتے کی تربیت کے اختتام پر منعقدہ سرٹیفکیٹ تقسیم تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہہ رہے تھے۔
جسٹس مندخیل نے کہا کہ ججوں کو اپنی جرات کو انصاف کی فراہمی کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کو اپنے حلف کی پاسداری اور آئین کی بالادستی کو ہر حال میں قائم رکھنا چاہیے۔
انہوں نے ججوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی تمام توانائیاں عوام کو مؤثر، تیز رفتار اور معیاری انصاف فراہم کرنے پر مرکوز کریں۔ ان کے مطابق، انصاف کے نظام کا سب سے اہم اسٹیک ہولڈر عام شہری ہے، جو ججوں سے صرف جلد اور منصفانہ فیصلوں کی توقع رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلسل سیکھنا نہ صرف صلاحیتوں کو نکھارتا ہے بلکہ انسان کی سمجھ اور دنیا کو دیکھنے کا زاویہ بھی وسیع کرتا ہے۔
انہوں نے کہا:
“عدلیہ میں زندگی بھر سیکھنے کے اصول کو وسیع پیمانے پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ جج ہر روز اور ہر نئے کیس سے کچھ نہ کچھ سیکھتے ہیں۔‘‘
انہوں نے ججوں کو مشورہ دیا کہ وہ ایک دوسرے سے بھی علم حاصل کریں۔ نوجوان جوڈیشل افسران میں مسلسل سیکھنے کی عادت ہونی چاہیے تاکہ وہ اپنی اہلیت برقرار رکھ سکیں، اپنے فیصلوں کو منصفانہ بنا سکیں اور تیزی سے بدلتی دنیا میں قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھ سکیں۔
تقریب سے خطاب میں جسٹس مندخیل نے اخلاقی طرزِ عمل، ہمت اور جرات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔

