جمعہ, فروری 13, 2026
ہومبین الاقوامییمنی رہنما لوٹے گئے فنڈز کو بیرونِ ملک جائیدادوں میں منی لانڈر...

یمنی رہنما لوٹے گئے فنڈز کو بیرونِ ملک جائیدادوں میں منی لانڈر کر رہے ہیں
ی

صنعا (مشرق نامہ) – سعودی حمایت یافتہ یمن کی صدارتی لیڈرشپ کونسل (PLC) کے سینئر رہنماؤں پر الزام ہے کہ وہ ریاستی وسائل سے لوٹی گئی بھاری رقوم کو بیرونِ ملک جائیداد اور تجارتی سرمایہ کاری میں منتقل کر رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق یہ مالی سرگرمیاں اس وقت مزید تیز ہو گئی ہیں جب حال ہی میں PLC کے رکن عثمان مجالی کو اردن میں حراست میں لیا گیا۔ مجالی کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ مبینہ طور پر سیکڑوں ملین ڈالر منتقل کرنے کی کوشش کر رہے تھے، جن کے بارے میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ رقم جائیداد کی خریداری کے لیے ہے۔ اس واقعے نے کونسل کے دیگر دھڑوں میں موجود رہنماؤں کے درمیان اس خدشے کو بڑھا دیا ہے کہ مشکوک اثاثوں کی ممکنہ ضبطی شروع ہو سکتی ہے۔

رپورٹس میں جن شخصیات کا نام سامنے آیا ہے ان میں احمد عبید بن دغر بھی شامل ہیں، جو سعودی-اماراتی قبضے کے ساتھ منسلک ایک شوریٰ کونسل کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے حالیہ ہفتوں میں بیرونِ ملک بھاری سرمایہ کاری کی ہے، جن میں مصر میں تقریباً 100 ملین ڈالر کی لاگت سے ایک فیکٹری اور پیکجنگ سینٹر کا قیام، اور قاہرہ اور اس کے مضافات میں متعدد لگژری ولاز اور اپارٹمنٹس کی خریداری شامل ہے۔ اسی نوعیت کی سرمایہ کاری کی اطلاعات اردن میں بھی سامنے آئی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سرگرمیاں برسوں کی جارحیت اور قبضے کے دوران جمع کی گئی دولت کو سفید کرنے کی ایک عجلت پسند کوشش کی عکاسی کرتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب سعودی قیادت والے اتحاد سے منسلک اداروں پر مالی اصلاحات کے لیے بین الاقوامی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ رپورٹس ایک ایسی گہری جڑی ہوئی بدعنوانی کی تصویر پیش کرتی ہیں جہاں رہنما اربوں کماتے رہے، جبکہ لاکھوں یمنیوں کو شدید معاشی تباہی اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کا سامنا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین