بیروت (مشرق نامہ) – لبنان نے اقوام متحدہ میں ایک شکایت جمع کروائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل ایک ایسی دیوار تعمیر کر رہا ہے جس کے بارے میں اقوام متحدہ کی امن فوج (یونفیل) کا کہنا ہے کہ وہ لبنانی سرزمین کے اندر واقع ہے۔
جمعے کو جاری کیے گئے ایک بیان میں لبنانی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی کہ یہ شکایت نیویارک میں قائم ملک کے مستقل مشن کے ذریعے 15 رکنی سلامتی کونسل کو جمع کروائی گئی۔
لبنان نے کونسل اور اقوام متحدہ کے سیکریٹریٹ پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو لبنانی خودمختاری کی خلاف ورزیوں سے روکنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔
شکایت کے مطابق، اسرائیل نے یارون کے جنوب مغرب اور جنوب مشرق میں دو T-شکل کی کنکریٹ دیواریں تعمیر کی ہیں جو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ لبنانی حدود کے اندر واقع ہیں۔
شکایت میں کہا گیا کہ ان دونوں دیواروں کی تعمیر اضافی لبنانی زمین کے قبضے کا باعث بن رہی ہے اور یہ سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 اور 2024 کے اعلانِ جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
مزید برآں، لبنان نے کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو ان دونوں دیواروں کو ہٹانے کا پابند کرے اور اسے ’’بلیو لائن‘‘ کے جنوب میں ان تمام علاقوں سے فوری انخلا کا حکم دے جن پر وہ اب بھی قبضہ کیے ہوئے ہے، جن میں پانچ سرحدی مقامات بھی شامل ہیں۔
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب لبنانی صدر جوزف عون نے وزارتِ خارجہ کو عالمی ادارے کے پاس فوری شکایت درج کروانے کی ہدایت کی۔
یونفیل نے حال ہی میں خبردار کیا کہ اسرائیلی فوج نے جنوب لبنان میں اونچی کنکریٹ دیواریں تعمیر کی ہیں جو UN کی مقرر کردہ ’’بلیو لائن‘‘ کے اندر لبنانی سرحد میں بنتی ہیں۔
یونفیل کے مطابق، اس نے اپنی تحقیقات کے نتائج اسرائیلی فوج کے سامنے رکھے ہیں اور مطالبہ کیا ہے کہ وہ دیوار کو فوری طور پر ہٹائے۔
یونفیل نے مزید کہا کہ لبنانی سرزمین میں اسرائیلی موجودگی اور تعمیرات، سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 اور لبنان کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہیں—وہی قرارداد جس نے 2006 میں اسرائیل اور حزب اللہ کی جنگ کا خاتمہ کیا تھا۔
یہ قرارداد 33 روزہ جنگ کے بعد طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی بنیاد تھی، اور اسرائیل کو لبنانی خودمختاری کے احترام کا پابند بناتی ہے۔
قرارداد نے گزشتہ برس نومبر میں طے پانے والی جنگ بندی کا بھی بنیادی فریم ورک فراہم کیا۔
اسرائیلی فوج اکتوبر 2023 میں شروع ہونے والے حملوں میں 4,000 سے زائد افراد کو ہلاک اور 17,000 سے زیادہ زخمی کر چکی ہے۔ یہ حملے ستمبر 2024 میں مکمل جنگ میں تبدیل ہو گئے تھے۔
لبنان اور اسرائیل نے 27 نومبر 2024 کو ایک جنگ بندی معاہدہ طے کیا جس کے تحت اسرائیل کو لبنانی علاقے سے مکمل انخلا کرنا تھا، لیکن اس نے اب بھی پانچ مقامات پر اپنے دستے تعینات رکھے ہوئے ہیں—جو کہ قرارداد 1701 اور گزشتہ نومبر کے معاہدے دونوں کی خلاف ورزی ہے۔
جنگ بندی کے نفاذ کے بعد بھی، اسرائیل نے بارہا لبنانی سرزمین پر جارحیت کر کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے اور جنوب و مشرقی لبنان پر تقریباً روزانہ حملے جاری رکھے ہیں۔
لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق، جمعے تک اسرائیلی فائرنگ سے کم از کم 335 افراد ہلاک اور 973 زخمی ہو چکے ہیں، وہ بھی اُس عرصے میں جس میں جنگ بندی نافذ ہے۔
یونفیل نے جنگ بندی کے بعد سے اب تک اسرائیل کی 10,000 سے زائد فضائی اور زمینی خلاف ورزیاں ریکارڈ کی ہیں۔
لبنانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی یہ خلاف ورزیاں ملک کے استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مزاحمت کے غیر مسلح ہونے کا مطالبہ دراصل لبنان کو کمزور کر کے بیرونی جارحیت کے سامنے بے بس کرنے کی کوشش ہے۔
انہوں نے مزاحمت کی غیر مسلحیت کے مطالبے کو ‘‘جارحیت کیلئے ایک بہانہ’’ قرار دیا۔
لبنانی رکنِ پارلیمنٹ حسن فضل اللہ نے بھی حالیہ بیان میں واضح کیا کہ لبنان ‘‘کسی نئی اسرائیلی جارحیت کے سامنے آسان شکار نہیں’’ ہوگا۔

