جمعہ, فروری 13, 2026
ہومبین الاقوامیٹرمپ کا اعلان: امریکہ ‘تمام تھرڈ ورلڈ ممالک’ سے آنے والی ہجرت...

ٹرمپ کا اعلان: امریکہ ‘تمام تھرڈ ورلڈ ممالک’ سے آنے والی ہجرت کو مستقل طور پر روک دے گا
ٹ

مانیڑینگ ڈیسک (مشرق نامہ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز ٹروتھ سوشل پر متعدد بیانات جاری کیے، جن میں انہوں نے اعلان کیا کہ وہ “تمام تھرڈ ورلڈ ممالک” سے آنے والی ہجرت کو “مستقل طور پر روک دیں گے”، اور کچھ مخصوص تارکینِ وطن کو واپس بھیجنے کے لیے “ریورس مائیگریشن” کی پالیسی اپنائیں گے۔

ٹرمپ نے لکھا:

“میں امریکہ کے نظام کو مکمل طور پر بحال ہونے دینے کیلئے تمام تھرڈ ورلڈ ممالک سے ہجرت کو مستقل طور پر روک دوں گا۔ یہ ضروری ہے کیونکہ بے قابو ہجرت نے امریکی معاشرے کو کمزور کیا ہے اور اس کے وسائل پر دباؤ ڈالا ہے۔ نظام کے مستحکم ہونے تک ان ممالک سے کسی نئے تارکِ وطن کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔”

ٹرمپ نے کسی ملک کا نام نہیں لیا اور نہ ہی وضاحت کی کہ “مستقل روک” سے کیا مراد ہے۔ تاہم ان کے بیانات ایک وسیع کریک ڈاؤن کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جس سے ایشیا، افریقہ، لاطینی امریکہ اور کیریبین کے لاکھوں افراد متاثر ہو سکتے ہیں، اور جس کا اثر پناہ گزینوں، گرین کارڈ اور دیگر امیگریشن پروگراموں پر بھی پڑ سکتا ہے۔

یہ پیشرفت اس اعلان کے ایک دن بعد سامنے آئی کہ امریکی حکومت نے اچانک افغان شہریوں کی تمام امیگریشن درخواستوں کی پراسیسنگ روک دی ہے۔ یہ اقدام وائٹ ہاؤس کے قریب دو نیشنل گارڈ اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے کے بعد اٹھایا گیا۔ ٹرمپ نے پہلے بتایا تھا کہ گولی لگنے والی ایک اہلکار سارہ بیکسٹرم جاں بحق ہوگئی ہے جبکہ دوسرا سپاہی زندگی کی جنگ لڑ رہا ہے۔

اپنی پوسٹس میں ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ان تارکینِ وطن کی شہریت بھی منسوخ کریں گے جو “ملکی سکون میں خلل ڈالیں”، اور ایسے غیر ملکیوں کو ملک بدر کریں گے جو عوام پر بوجھ ہوں، سکیورٹی رسک ہوں، یا “مغربی تہذیب سے ہم آہنگ نہ ہوں”۔

ٹرمپ نے دلیل دی کہ موجودہ امیگریشن پالیسیوں نے ٹیکنالوجی میں ترقی کے باوجود امریکہ کو کمزور کیا ہے اور ملک کو وقت چاہیے “تاکہ وہ ہجرت کے اس یلغار سے مکمل طور پر بحال ہو سکے”۔

ٹرمپ نے اپنی پوسٹس میں کہا کہ وہ اپنے پیشرو جو بائیڈن کے دور میں دی گئی “لاکھوں” امیگریشن منظوریوں کو ختم کریں گے، جس میں وہ بھی شامل ہیں جو “سلیپی جو کے آٹو پین” سے دستخط شدہ تھیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ایسے افراد کو ملک سے نکال دیں گے جو “امریکہ کیلئے اثاثہ نہیں” یا “ہمارے ملک سے محبت کرنے کے قابل نہیں”۔

انہوں نے کہا:

“جو لوگ مثبت کردار ادا نہیں کرتے یا امریکی اقدار کا احترام نہیں کرتے، انہیں یہاں رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ مقصد یہ ہے کہ صرف وہی افراد امریکہ میں رہیں اور کام کریں جو ملک کو مضبوط بناتے ہیں۔”

ٹرمپ نے کہا کہ اصلاحات یہیں نہیں رکیں گی۔

“اس صورتحال کا مکمل حل صرف ریورس مائیگریشن ہے۔ جو افراد غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہوئے یا امریکی معاشرے میں خلل کا سبب بنے، انہیں اپنے ممالک واپس جانے کی ترغیب دی جائے گی۔ یہ واحد طریقہ ہے جس سے قانون، نظم اور استحکام بحال ہو سکتا ہے۔”

انہوں نے غیر شہریوں کے لیے تمام وفاقی مراعات ختم کرنے کا بھی اعلان کیا تاکہ امریکی ٹیکس دہندگان پر بوجھ کم ہو۔

“غیر شہریوں کیلئے تمام وفاقی مراعات اور سبسڈیز ختم کر دی جائیں گی۔ اس میں فلاحی رقم، صحت کی سہولیات، اور دیگر امدادی پروگرام شامل ہیں۔ اس پالیسی کا مقصد امریکی ٹیکس دہندگان پر مالی بوجھ کو روکنا اور شہریوں کو ترجیح دینا ہے۔”

ایک پوسٹ میں انہوں نے افغانوں کے انخلا کی تصویر لگاتے ہوئے لکھا:

“یہ افغانستان کی خوفناک ایئر لفٹ کا حصہ ہے۔ لاکھوں لوگ بغیر کسی جانچ پڑتال کے ہمارے ملک میں گھس آئے۔ ہم اسے ٹھیک کریں گے، لیکن جو بائیڈن اور اس کے ساتھیوں نے ہمارے ملک کا جو حال کیا، اسے کبھی نہیں بھولیں گے!”

انہوں نے مزید کہا کہ ان اقدامات کا مقصد “غیر قانونی اور خلل ڈالنے والی آبادیوں میں بڑے پیمانے پر کمی لانا” ہے۔

جمعرات کو امریکی شہریتی و امیگریشن سروسز (USCIS) کے ڈائریکٹر جوزف ایڈلو نے اعلان کیا کہ صدر نے ایک حکم جاری کیا ہے جس کے تحت جون کی صدارتی ہدایت نامے میں درج 19 ممالک کے گرین کارڈ ہولڈرز کی “جامع اور سخت دوبارہ جانچ پڑتال” کی جائے گی۔

ان ممالک میں افغانستان، ہیٹی، ایران، صومالیہ اور وینزویلا شامل ہیں — لیکن پاکستان کا نام اس فہرست میں شامل نہیں۔

ان ممالک سے تعلق رکھنے والے لاکھوں گرین کارڈ ہولڈرز اور مستقل رہائشی افراد، چاہے وہ کئی برسوں سے امریکہ میں رہ رہے ہوں، اب سخت جانچ پڑتال کا سامنا کر سکتے ہیں۔

ٹرمپ نے نیشنل گارڈ اہلکاروں پر حملے کے بعد فوری طور پر اس واقعے کو امیگریشن سے جوڑا اور کہا کہ حملہ آور رحمان اللّٰہ لکانوال کو ستمبر 2021 میں امریکہ لایا گیا تھا اور بعد میں اس کا اسٹیٹس بائیڈن حکومت کے دور میں بڑھایا گیا تھا۔

سی آئی اے ڈائریکٹر جون ریٹکلف نے تصدیق کی کہ لکانوال نے قندھار میں امریکی افواج کے ساتھ کام کیا تھا اور اسے “پارٹنر فورسز” کا حصہ ہونے کے باعث داخلہ دیا گیا، لیکن انہوں نے اس فیصلے کو “افغانستان سے بدنظمی پر مبنی انخلا” کا نتیجہ قرار دیا۔

پینٹاگون نے واشنگٹن میں مزید 500 نیشنل گارڈ اہلکار تعینات کرنے کی تصدیق کی، جو پہلے سے تعینات 2,200 اہلکاروں کے علاوہ ہوں گے۔

USCIS نے افغان شہریوں کی تمام امیگریشن درخواستیں معطل کر دیں، جس سے تقریباً 200,000 افغان غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئے۔

اپنی پوسٹس میں ٹرمپ نے امیگریشن کو “سب سے بڑا قومی سکیورٹی خطرہ” بھی قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ پچھلی حکومت نے “دنیا بھر سے 2 کروڑ غیر معلوم، غیر تصدیق شدہ افراد” کو داخل کیا۔

انہوں نے کہا:

“جو بھی غیر ملکی یہاں کا نہیں، یا ہمارے ملک کو فائدہ نہیں دیتا… اگر وہ ہمارے ملک سے محبت نہیں کر سکتا، تو ہم اسے نہیں چاہتے۔”

مجموعی طور پر یہ ہدایات ایک غیر معمولی وفاقی کریک ڈاؤن کی نشاندہی کرتی ہیں، جس سے تیسری دنیا کے ممالک کے پناہ گزین، تارکینِ وطن، گرین کارڈ ہولڈرز اور امریکہ آنے کی خواہش رکھنے والے لاکھوں خاندان متاثر ہو سکتے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین