تہران (مشرق نامہ) – اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر اور مستقل نمائندے نے اس بات کی دوبارہ تصدیق کی ہے کہ تہران کو امریکہ سے احتساب کے مطالبے اور جون کی جنگی جارحیت سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے ہر سطح پر کارروائی کا ’’پورا اور غیر مبہم‘‘ حق حاصل ہے۔
امیر سعید ایروانی نے یہ مؤقف بدھ کے روز اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کو ارسال کردہ خط میں پیش کیا، جس سے قبل امریکی فضائیہ نے پہلی مرتبہ اعتراف کیا کہ اس کے ایف–35 اسٹیلتھ طیاروں نے ایران کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور بی–2 بمبار طیاروں کو ملک کی پُرامن جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے راستہ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ اعتراف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چھ نومبر کے اس بیان سے بھی مزید ثابت ہو گیا ہے، جس میں انہوں نے اسرائیلی–امریکی جارحیت کے بارے میں کہا تھا کہ وہ ’’اس پوری کارروائی کے مکمل طور پر ذمہ دار‘‘ تھے۔
ایروانی کے مطابق یہ اعتراف امریکی حکام اور ان تمام افراد کی فوجداری ذمہ داری کو ثابت کرتا ہے جو بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں، بشمول ’’جارحیت کے جرم‘‘، میں ملوث رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ’’ان سبھی ذمہ داروں کے خلاف احتساب کے قیام کے لیے دستیاب تمام قانونی راستوں‘‘ کو استعمال کرنے اور اس بین الاقوامی طور پر غیر قانونی اقدام کے نتیجے میں ہونے والے تمام نقصانات اور خسارے کے ’’مکمل ازالے‘‘ کے حق کو پوری طرح محفوظ رکھتی ہے۔
ایرانی سفیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت واشنگٹن پابند ہے کہ وہ ایران اور اس کے شہریوں کے خلاف کی گئی ان خلاف ورزیوں کا مکمل معاوضہ ادا کرے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ امریکہ کے ’’اپنے اعترافات‘‘ کے بعد اقوام متحدہ کے لیے ممکن نہیں کہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف ہونے والے ان غیر قانونی اقدامات پر خاموش رہے۔
یاد رہے کہ 13 جون کو اسرائیل نے ایران کے خلاف کھلی جارحیت کا آغاز کیا تھا، جس کے نتیجے میں کم از کم 1,064 افراد شہید ہوئے اور شہری ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔
22 جون کو، امریکہ بھی اس جنگ میں داخل ہوا اور اس نے ایرانی جوہری تنصیبات—فردو، نطنز اور اصفہان—پر بمباری کی۔ یہ اقدام اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون اور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کی سنگین خلاف ورزی تھا۔
دو دن بعد، ایران نے بھرپور جوابی کارروائی کے بعد اس مجرمانہ حملے کو روکنے میں کامیابی حاصل کی۔
اپنے خط میں ایروانی نے اقوام متحدہ سے یہ مطالبہ بھی دہرایا کہ وہ ’’مناسب اقدامات‘‘ کرے تاکہ امریکہ اور اسرائیلی حکومت دونوں کو ان سنگین خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرایا جا سکے اور ان جرائم کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی–امریکی جارحیت ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف تھی، جو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2(4) کی واضح خلاف ورزی ہے۔
بارہ دن طویل اس حملے میں شہریوں اور شہری املاک کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا، جو بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کے بنیادی اصولوں کی صریح پامالی ہے۔

