جمعہ, فروری 13, 2026
ہومبین الاقوامیرفح میں محصور مجاہدین پر حملے جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی

رفح میں محصور مجاہدین پر حملے جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی
ر

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – حماس نے بدھ کے روز اپنے بیان میں کہا ہے کہ رفح کے نیچے سرنگوں میں پھنسے اور محصور مزاحمتی مجاہدین کا اسرائیلی تعاقب، انہیں قتل کرنا اور گرفتار کرنا، غزہ میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی صریح اور سنگین خلاف ورزی ہے۔

بیان میں حماس نے واضح کیا کہ محصور مجاہدین کے خلاف یہ اسرائیلی جرائم اس امر کے "فیصلہ کن ثبوت” ہیں کہ قابض قوت مسلسل اس جنگ بندی کو سبوتاژ کرنے اور اسے مکمل طور پر ناکام بنانے کی کوشش کر رہی ہے، جس پر اکتوبر 2025 میں اتفاق ہوا تھا۔

تحریک نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اس نے مختلف سیاسی رہنماؤں اور ثالثوں کے ذریعے، خصوصاً امریکی انتظامیہ کے ساتھ — جو اس معاہدے کے ضامنوں میں شامل ہے — بھرپور رابطے کیے تاکہ محصور مجاہدین کے مسئلے کو حل کیا جاسکے اور ان کی بحفاظت واپسی ممکن بنائی جائے۔ تاہم "اسرائیل” نے ان تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا۔

حماس نے مزید بتایا کہ اس نے مجاہدین کی صورتحال کے حل کے لیے مخصوص تجاویز اور عملی طریقہ کار ثالثوں کے سامنے رکھے تھے، مگر "اسرائیل” نے تشدد، قتل اور گرفتاریوں کا راستہ اختیار کیا، جس کے نتیجے میں ثالثوں کی وہ کوششیں بھی متاثر ہوئیں جو مزاحمت کے ان بہادر مجاہدین کی تکلیف کم کرنے کے لیے جاری تھیں۔

حماس نے قابض اسرائیلی قوت کو ان مجاہدین کی زندگیوں کے حوالے سے پوری طرح ذمہ دار ٹھہرایا اور ثالثوں سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری اقدامات کریں تاکہ "اسرائیل” پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ مجاہدین کی بحفاظت واپسی یقینی بنائے۔ بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ حماس کے یہ مجاہدین قربانی، ثابت قدمی اور بہادری کی انمول علامت ہیں اور فلسطینی قوم کی عظمت و آزادی کی نمائندگی کرتے ہیں۔

اسرائیلی خلاف ورزیاں بدستور جاری

غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے بعد سے اسرائیلی جنگی مشین نے تقریباً ہر روز اس سمجھوتے کی خلاف ورزی کی ہے۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی کے آغاز — 11 اکتوبر 2025 — سے اب تک 347 فلسطینی شہید اور 889 زخمی ہو چکے ہیں۔ امدادی ٹیموں نے ملبے تلے دبے تقریباً 10 ہزار لاپتا افراد میں سے 596 لاشیں نکالی ہیں۔

7 اکتوبر 2023 سے جاری مجموعی اسرائیلی جارحیت کا تازہ ترین اعداد و شمار یہ ہیں:
69,785 شہداء اور 170,965 زخمی۔

متاثرہ علاقوں میں خوف ناک انسانی حالات کے باعث یہ تعداد مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین